اگر ہم دیامر بھاشا ڈیم 2026 تک منصوبہ مکمل کرلیتے ہیں تو یہ ایک کرشمہ ہوگا:شہباز شریف

?️

(سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر ہم دیامر بھاشا ڈیم کا منصوبہ مقررہ تاریخ 2029 سے قبل 2026 تک منصوبہ مکمل کرلیتے ہیں یہ ایک کرشمہ ہوگا۔

دیامر بھاشا ڈیم کی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہمارا کام ہماری ذمہ داری ہے، مجھے خوشی ہے کہ یہ منصوبہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے شروع کیا تھا اور شاہد خان عباسی نے اسے جاری رکھا اور اس منصوبے پر کام جاری ہے جو جلد مکمل ہوجائے گا۔

انہوں نے واپڈا کے جنرل مزمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہماری بہت مدد کی اور منصوبے میں درپیش مسئلے حل کیے، ہمیں امید ہے کہ یہ منصوبہ جلد مکمل ہوگا، مجھے اندازہ ہے کہ یہاں موسم سمیت بہت سے مسائل کا سامنا ہے اور مالیاتی معاملات بھی اہمیت کے حامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے منصوبے کے حوالے سے پریزینٹیشن دیکھی اور میں بہت مطمئن ہوں کہ آپ یورو بانڈ، سکوک سمیت دیگر آلات کے ذریعے بین الاقوامی مارکیٹ سے فنڈز اکٹھے کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ یہاں پاور ہاؤسز کا جلد قیام بھی یکساں اہمیت کا حامل ہے، جہاں سے آپ پیسہ کما سکتے ہیں، ڈیم سے پاکستان کی معیشت کو مدد ملے گی، ہماری زمینوں پر آبپاشی ہوگی اور بہت سے اہم معاملات اس سے منسلک ہیں، جس میں ہم فوائد حاصل کرسکیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاور ہاؤسز ہمارے لیے مالی فوائد فراہم کرتے ہوئے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کا سبب بھی بنیں گے اور میں یہ تجویز دوں گا کہ یہ بہتر ہوگا کہ اسے سی پیک میں شامل کیا جائے، لیکن ہمیں یہ سب بہت جلد کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں یہاں سیاسی باتیں نہیں کرنے آیا کیونکہ ہمارے پاس سچ بولنے اور گزشتہ ساڑھے 3 سالوں میں ہونے والی سرگرمیوں کا انکشاف کرنے کے بہت سے مواقع ہیں، لیکن میں اس زبردست ٹیم ورک کو ضرور سراہنا چاہوں گا جو چینی کمپنی اور ایف ڈبلیو او کے تعاون سے جاری ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں اس بات پر زور دوں گا کہ ایک بار پھر ٹائم لائن کا جائزہ لیں اور بتائیں کہ ہم اسے کہاں سے کم کرسکتے ہیں اگر ہم کی مقررہ تاریخ 2029 سے قبل 2026 یا 2027 تک یہ منصوبہ مکمل کرلیتے ہیں یہ ایک کرشمہ ہوگا اور یہ ممکن ہے، دنیا میں کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں مل کا کام کرنا ہوگا اور جدت کے طرف بڑھنا ہوگا، مجھے یقین ہے کہ ہمیں اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے درکار وقت کم از کم دو سال کم کا کوئی راستہ ضرور ملے گا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے شروع کیا تھا اور اس منصوبے کے لیے زمین حاصل کرنے کے لیے فنڈز بھی ہماری ہی حکومت نے جاری کیے تھے، لیکن زمین حاصل کرنے میں خاصی مشکلات تھیں جنہیں حل کرتے ہوئے کام شروع کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم اس منصوبے کو اجتماعی قوت کے ساتھ آگے لے کر چل سکیں تو یہ پاکستان کی تاریخ میں اہم سنگ میل ہوگا، ڈیم پاکستان کی زندگی کو توانائی بخشنے کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قوم کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی کیا ہوسکتی ہے کہ 125، 130 ملین ایکڑ فٹ پانی یہاں سے گزرتا ہے اور اس میں سے ہم مشکل سے صرف 25 سے 30 ملین ایکڑ فٹ پانی بچا پارہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اگر ماضی میں جائے بغیر مگر ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اگر ہم اس پانی کو بچا لیں تو یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہوگی اور اس کے لیے یہ ڈیم اہم کردار ادا کرے گا، یہ ترقی نہ صرف پاکستان کو مضبوط کرے گی بلکہ اس سے تربیلا ڈیم کی عمر میں بھی 30 سے 35 سال کا اضافہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 6 روز سے جب سے میں وزیر اعظم بنا ہوں، میں جس محکمے سے بریفنگ لیتا ہوں میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ کس طرح ہم نے اپنے 4 سالوں کو ضائع کیا، ہمارے پاس ہائیڈرل پلانٹ کی صلاحیت موجود ہے، لیکن وہ استعمال نہیں ہو رہا جبکہ ہمارے پاس وافر مقدار میں تیل اور گیس نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے قوم کے سامنے حقائق کو توڑ مروڑ کر غلط رنگ دینے کی کوشش کی نہ ہی یہ میری عادت ہے اور ایسا کام کبھی نہیں کروں گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ آپ نے یہاں بہت سے ترقیاتی کام کیے لیکن یہاں ایک ہسپتال کی کمی ہے جس سے اس خطے کے لوگ مستفید ہوسکیں گے۔

انہوں نے عہدیداران کو ہدایت دی کہ یہاں ایک 200 بیڈ کے ہسپتال کی ضرورت ہے جہاں مکمل آلات موجود ہوں گے اور اسے ماہرین کی مدد سے چلایا جائے گا۔

وزیر اعظم نے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی کہ ایک ہفتے کے اندر ہسپتال کی تمام تر بنیادی معلومات کے حوالے سے مجھے آگاہ کریں، حکومت پاکستان اس کے لیے فنڈ فراہم کرے، وہ ہسپتال صرف اس منصوبے کے لیے نہیں بلکہ پورے علاقے کے لیے ہوگا اور اس ہسپتال میں مفت علاج اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔

مشہور خبریں۔

بائیڈن انتظامیہ کو معطلی اسکینڈل سے بچانے کے لیے امریکی کانگریس کا بہانہ

?️ 1 اکتوبر 2023سچ خبریں:امریکی ایوان نمائندگان، رواں مالی سال کے اختتام سے محض چند

شمالی شام میں PKK کے 13 ارکان ہلاک

?️ 19 فروری 2022سچ خبریں:ترک وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ کردستان ورکرز پارٹی PKKکے

صہیونی حلقوں میں فلسطینیوں کی انتقامی کاروائی پر تشویش

?️ 7 فروری 2023سچ خبریں:ایک صیہونی صحافی نے اس حکومت کے فوجیوں کے ہاتھوں کفرعقب

ٹرمپ کو مجرمانہ الزامات کی چوتھی سیریز کا سامنا

?️ 15 اگست 2023سچ خبریں:سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مجرمانہ الزامات کی چوتھی سیریز

صدر مملکت سے اسحٰق ڈار کی ملاقات، آرمی چیف کے تقرر پر تبادلہ خیال

?️ 18 نومبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) ملک کی مجموعی معاشی صورتحال اور اہم تقرری کے

نیتن یاہو اور جرمن وزیر خارجہ کے درمیان زبانی جنگ

?️ 20 اپریل 2024سچ خبریں: ایک صیہونی چینل نے صیہونی وزیر اعظم اور جرمن وزیر

25دسمبر کو گورنر ہاﺅس کراچی میں جشن قائداعظم منایا جائے گا

?️ 11 دسمبر 2021کراچی (سچ خبریں) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا

حکومت بلوچستان نے صوبے میں دفعہ 144 نافذ کردی۔

?️ 30 دسمبر 2024کوئٹہ: (سچ خبریں) حکومت بلوچستان نے سرکاری ہسپتالوں کو پبلک پارٹنرشپ کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے