الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کیس کو ڈی لسٹ کردیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان  نے بینچ کی عدم دستیابی کے باعث پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انٹرا پارٹی الیکشن کیس کو ڈی لسٹ کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک نوٹس میں کہا کہ عوام الناس اور فریقین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ معزز الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے 30 مئی 2024 کو سماعت کے لیے مقرر کردہ درج ذیل کیسز بینچ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ڈی لسٹ کر دیے گئے ہیں اور اگلی تاریخ سماعت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

نوٹس میں تین کیسز شامل ہیں، جن میں پاکستان تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کا کیس سرفہرست ہے، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور پارٹی کے چیف فیڈرل الیکشن کمشنر کے طور پر کام کرنے والے رؤف حسن کو جمعرات کی سماعت کے لیے نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 9 جون 2022 کو انٹرا پارٹی انتخابات کرائے تھے جس کیس کو الیکشن کمیشن نے تقریباً ڈیڑھ سال تک گھسیٹنے کے بعد نومبر 2023 میں کالعدم قرار دے دیا تھا۔

23 نومبر 2023 کو جاری حکم میں الیکشن کمیشن نے سابق حکمران جماعت کو اپنے انتخابی نشان بلے سے محروم نہیں ہونے کے لیے نئے انتخابات کروانے کے لیے 20 دن کا وقت دیا۔

الیکشن کمیشن کا حکم ایک ایسے وقت میں آیا جب عام انتخابات میں تقریباً دو ماہ باقی تھے اور سیاسی جماعتیں ملک بھر میں اپنی انتخابی مہم تیزی سے چلا رہی تھیں۔

اپنے مشہور انتخابی نشان کو برقرار رکھنے کے لیے بے چین پی ٹی آئی نے 10 دن سے بھی کم وقت لیا اور 2 دسمبر 2023 کو انٹرا پارٹی انتخابات کرائے گئے۔

22 دسمبر کو الیکشن کمیشن نے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں دوسری بار پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد ایک سیاسی جماعت کے اندرونی کام کی نوعیت کا پہلا خوردبینی جائزہ لیا گیا اور اسے آئندہ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے انتخابی نشان حاصل کرنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے لیے وفاقی الیکشن کمشنر کا تقرر نہیں کر سکتے تھے۔

کمیشن کے فیصلے کی وجہ سے پی ٹی آئی کے امیدواروں کو آزاد حیثیت سے عام انتخابات میں حصہ لینا پڑا اور پارٹی کو اس سال 3 مارچ کو تیسری بار اپنا انٹرا پارٹی الیکشن منعقد کرنا پڑا۔

تاہم الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر انتخابی مشق پر اعتراضات اٹھائے اور اعتراضات کی تفصیلات بتائے بغیر ہی معاملہ سماعت کے لیے مقرر کردیا۔

پی ٹی آئی کے اعتراضات پر کمیشن نے بالآخر ان کے ساتھ ایک سوالنامہ شیئر کیا جس میں پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں اور تنظیمی ڈھانچہ اور انتخابی نشان کھونے کے بعد پارٹی کی حیثیت پر سوال اٹھایا گیا۔

پی ٹی آئی نے کچھ دو ہفتے قبل الیکشن کمیشن کی طرف سے پوچھے گئے 7 سوالات کے تفصیلی جواب جمع کرائے تھے، جس میں الیکشن باڈی پر زور دیا گیا تھا کہ وہ تازہ ترین انٹرا پارٹی انتخابات کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے، پارٹی کے وفاقی چیف الیکشن کمشنر رؤف حسن نے اپنے جواب میں کہا کہ پی ٹی آئی ایک موجودہ اور فعال سیاسی جماعت ہے جو الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 202 کے تحت الیکشن کمیشن میں درج ہے۔

انہوں نے جواب میں الیکشن کمیشن کے تحفظات دور کرنے کے لیے کہا۔ کہ الیکشن ایکٹ، 2017، یا الیکشن رولز، 2017 میں ایسی کوئی شق نہیں ہے کہ ایک اندراج شدہ پارٹی پانچ سال کی میعاد ختم ہونے کے بعد اپنے ’تنظیمی ڈھانچے‘ سے محروم ہو جائے گی اگر پانچ سال کے اندر کوئی انٹرا پارٹی الیکشن منعقد نہیں ہوتا ہے تو، تاہم اس میں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی نے اپنا انٹرا پارٹی انتخاب 9 جون 2022 کو منعقد کیا، لیکن الیکشن کمیشن نے 23 نومبر 2023 کو ہدایت کی کہ انٹرا پارٹی پی ٹی آئی کے ’مروجہ آئین‘ (2019 کے آئین) کے تحت منعقد ہونا چاہیے۔

اور ان انتخابات کے انعقاد کے لیے پاکستان میں پی ٹی آئی کے تمام اراکین پر مشتمل پی ٹی آئی کی جنرل باڈی کا اجلاس 31 جنوری کو بلایا گیا۔ جنرل باڈی سے مطلوبہ منظوری لی گئی، جس کے تحت ایف ای سی کو بھی جلد از جلد انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد کے لیے مقرر کیا گیا۔ اس کے بعد پی ٹی آئی نے 21 فروری کو ای سی پی کو جنرل باڈی کی منظوریوں کی روشنی میں آئی پی ای کے انعقاد کے لیے کیے گئے تمام اقدامات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے 2 مارچ کو ان اقدامات کی توثیق کی اور پارٹی کو پی ٹی آئی کے آئین کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات کو آگے بڑھانے اور منعقد کرنے کی ہدایت کی، اس کے مطابق انٹرا پارٹی 3 مارچ کو منعقد ہوا اور دستاویزات کمیشن کے پاس جمع کرائی گئیں، لہٰذا، پی ٹی آئی آج تک ایک اندراج شدہ سیاسی جماعت ہے اور اس طرح وہ آئین کے آرٹیکل 17، الیکشنز ایکٹ، 2017، اور الیکشن رولز، 2017 سمیت قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت اپنے حقوق کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدواروں کو آزاد حیثیت سے عام انتخابات میں حصہ لینا پڑا اور پارٹی کو اس سال 3 مارچ کو تیسری بار اپنا انٹرا پارٹی انتخابات منعقد کرنا پڑا تھا۔

مشہور خبریں۔

ترکی کے صیہونیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر حماس کا ردعمل

?️ 5 اپریل 2022سچ خبریں:فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما نے ترکی اور صیہونی حکومت

صیہونیوں کے جرائم کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک ہزار امریکی طلباء کی گرفتاری

?️ 2 مئی 2024سچ خبریں: امریکی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ امریکی پولیس فورسز نے

700,000 سے زیادہ صیہونیوں نے مقبوضہ فلسطین چھوڑا

?️ 17 نومبر 2024سچ خبریں: اسرائیلی حکومت کے مشہور مؤرخ اور مصنف یلان پاپے نے

روس کی سب سے بڑی گیس فیلڈ میں خوفناک آگ

?️ 16 جون 2022سچ خبریں:   آج جمعرات کی صبح سویرے روس میں اورنگوئے گیس فیلڈ

فلسطینی مزاحمتی نظام میں مغربی کنارے کی حیثیت

?️ 19 مارچ 2024سچ خبریں: پچھلی تین دہائیوں کے دوران غزہ کی پٹی کے ساتھ

نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کے لیے کہاں تک گِر سکتے ہیں؟ سینیگال کے وزیر اعظم کی زبانی

?️ 1 ستمبر 2024سچ خبریں: سینیگال کے وزیر اعظم عثمان سونکو نے اسرائیل کے وزیر

صیہونی نمائندے کا غزہ کے بارے میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں شریک ہونے سے انکار

?️ 23 ستمبر 2025 سچ خبریں:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غزہ سے متعلق اجلاس

صہیونی ڈاکٹر بھی فلسطینی مریضوں کے مجرم

?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:انسانی حقوق کی حمایت کرنے والے ڈاکٹروں کی تنظیم نے اپنی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے