اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، اقوام متحدہ سیز فائر کیلئے کردار ادا کرے، دفتر خارجہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کررہا ہے، امدادی کارکنان پر بمباری روک کر ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ فلسطین میں صورتحال تشویش ہے، پاکستان غزہ میں اسرائیلی بمباری پر مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک غزہ میں 6 ہزار 700شہریوں کی شہادت ہوچکی ہے دوہار سے زائد معصوم بچے شہید ہوچکے ہیں، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پر امید ہے کہ آج جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں جنگ بندی پر پیش رفت ہوگی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم پرامید ہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، اسرائیل اور حماس کے درمیان غیر مشروط سیز فائر کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی۔

ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان اس فلسطینی ریاست کی حمایت کرتا جس کا دارالخلافہ القدس الشریف ہے۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے اجلاس اسرائیل ۔فلسطین مسئلے کا فوری حل نکالے گا، پاکستان کا فلسطین پر مؤقف تبدیل نہیں ہوا، پاکستان غیر مشروط جنگ بندی چاہتا ہے، غزہ کا محاصرہ فوری ختم کرکے خوراک، ادویات و ضروری اشیا کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔

ترجمان نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ غیر معمولی یو این جنرل اسمبلی فلسطین کے عوام کی آواز بنے گی، امدادی کارکنان پر بمباری روک کر ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے، جنرل اسمبلی غیر مشروط سیز فائر کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی بشکک میں ایس سی او کونسل آف فارن منسٹرز اجلاس میں شرکت کررہے ہیں، وہ سائیڈ لائن پر ملاقات کررہے ہیں، سی ایف ایم کے ذریعے خطے میں رابطوں، قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان ایس سی او سی ایف ایم کے آئندہ اجلاس کے لئے نشست سنبھالے گا، آج اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیلی قابض افواج کی طرف سے نافذ کردہ اقدامات کو بھارت نے اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مقبوضہ علاقے کی آبادیاتی نوعیت کو تبدیل کرنے کی صریح غیر قانونی کوششوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ فلسطینی عوام کی طرح جموں و کشمیر کے عوام بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر ہیں جو ان کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نوآبادیاتی ماضی سے وابستہ جڑیں مسئلہ فلسطین کی طرح تنازعہ جموں و کشمیر سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔

ترجمان نے کہا کہ کل جنوبی ایشیا کی تاریخ کے ایک سیاہ دن کے 76 سال مکمل ہوجائیں گے، بھارتی قابض افواج نے 27 اکتوبر 1947 کو جموں و کشمیر میں اپنا غاصبانہ تسلط جمایا، اس طرح کشمیری عوام کے لیے میں ایک تاریک باب کا آغاز ہوا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے اپنی سرزمین پر غیر قانونی قبضہ کو کبھی قبول نہیں کیا ہے اور نہ ہی بھارت کی طرف سے انہیں طاقت کے ذریعے دبانے اور انہیں اپنی ہی سرزمین پر ایک بے اختیار اقلیت میں تبدیل کرنے کی منظم مہم کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت حاصل نہیں کرتے۔

ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے غیرقانونی تارکین وطن کو واپس بھجوانے کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا ہے، جو غیر قانونی ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق سزا مقرر ہے، پاکستان کی سیکیورٹی اور معیشت کی خاطر پاکستان نے فیصلہ لیا ہے، ہم نے افغان عبوری حکومت کو افغان مہاجرین کی واپسی پر اعتماد میں لیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ انہیں بتایا ہے کہ یہ پالیسی صرف افغان شہریوں کے لیے نہیں بلکہ سب ممالک کے لیے ہیں، یکم نومبر سے غیرقانونی تارکین وطن کو جبری واپس بھجوایا یا گرفتار کیا جائے گا، دوست ملک کی جانب سے افغان شہریوں کو اپنے ملک کی لے جانے کے لیے درخواست کی ہے، وزارت داخلہ کی کلیئرنس کے بعد انکو بھجوایا جائے گا، پاکستان نے غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھجوانے کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا ہے۔

ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ وزارت داخلہ کی کلیئرنس کے بعد ان کو بھجوایا جائے گا، افغانستان میں عبیدالرحمٰن پاکستان کے ناظم الامور ہیں، وہ تا حکم ثانی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے اسلحے کی ایکسپورٹ پروٹوکول کے ذریعے کرتا ہے، یوکرین کو پاکستان نے کوئی اسلحہ فراہم نہیں کیا، ہمارے علم میں نہیں ہے کہ یوکرین میں پاکستان کا بنا کونسا اسلحہ استعمال ہوا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بیرون ممالک کے لوگوں کو شکار کے لیے صوبے لائسینس فراہم کرتے ہیں، شکار کی فیس صوبے وصول کرتے ہیں، شکار کی غرض سے آنے والے ان علاقوں میں ترقیاتی اور معاشی منصوبے بھی پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

بریکس کہاں تک جائے گا؟ پنسلوانیا یونیورسٹی کے پروفیسر کی زبانی

?️ 16 ستمبر 2024سچ خبریں: پنسلوانیا یونیورسٹی کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ بریکس مستقبل

ہم کئی سالوں سے سعودی عرب پر پرواز کر رہے ہیں: نیتن یاہو

?️ 28 ستمبر 2023سچ خبریں:ببنجمن نیتن یاہو نے آج کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں

عراقی مزاحمتی گروہوں کا امریکی ایلچی کو دوٹوک جواب، فیصلے صرف قومی مفاد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں

?️ 26 اکتوبر 2025عراقی مزاحمتی گروہوں کا امریکی ایلچی کو دوٹوک جواب، فیصلے صرف قومی

ٹرمپ بشارالاسد کوقتل کرنا چاہتے تھے: سابق امریکی عہدیدار

?️ 15 فروری 2021سچ خبریں:سابق امریکی صدر کے سابق نائب قومی سلامتی کے مشیر نے

فوجی تنصیبات، یادگاروں اور شہدا کی حرمت پر حملے ناقابلِ برداشت ہیں، آرمی چیف

?️ 23 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے حالیہ دنوں (9

یو اے ای کی جیلوں میں ہونے والے تشدد کی کہانی؛ یورپی خاتون کی زبانی

?️ 3 اکتوبر 2022سچ خبریں:فن لینڈ کی انسانی حقوق کی محافظ ایک خاتوں نے اعلان

شیخ رشید نے افغانستان سے آنے والے مہاجرین کے بارے میں اہم اعلان کیا

?️ 28 اگست 2021لاہور(سچ خبریں) وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہےکہ افغانستان سے

تسلط کا دور ختم ہو چکا ہے:شام کا فرانس سے خطاب

?️ 16 اگست 2022سچ خبریں:شام کی وزارت خارجہ نے فرانسیسی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے