?️
اسلام آباد (سچ خبریں)ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ عمران خان اقتدار سے چمٹنے والے انسان ہی نہیں ہیں نہ اقتدار کے لیے آئے ہیں اگر وہ یہ محسوس کریں کہ ان کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں اور انہیں کام نہیں کرنے دیا جارہا تو وہ جب بھی مناسب سمجھیں گے اسمبلیاں توڑ دیں گے اور عوام کے پاس چلے جائیں گے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘عمران خان بڑے فیصلے کرنے والے انسان ہیں اس لیے ان کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں، وہ اگلے چھ ماہ، ایک سال یا دو سال میں کبھی بھی اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں اور وزارت عظمیٰ کو مختصر کر سکتے ہیں، اس لیے جو ان سے سودے بازی کے بارے میں سوچ رہا ہے وہ یہ ذہن میں رکھے’۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ہماری مخلوط حکومت کے دوران 10، 12 اراکین کا گروپ بن گیا تو خبریں چل رہی تھیں اب تو حکومت گئی، عمران خان نے میری موجودگی میں ان اراکین سے ملاقات میں کہا کہ میں نے آپ کی ساری بات سن لی، لیکن ایک بات ذہن میں رکھ لیں کہ اگر آپ میں سے کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مجھے بلیک میل کرکے آپ مجھ سے کوئی کام کرا سکتے ہیں تو میں کل نہیں آج حکومت توڑ دوں گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ‘اس وقت پی ٹی آئی کی اپوزیشن صرف مہنگائی ہے، معیشت میں مجموعی طور پر بہتری آرہی ہے، برآمدات بڑھنا شروع ہوگئی ہیں، بڑی صنعتوں میں دوہرے ہندسے میں شرح نمو ہے، ملک میں سرمایہ کاری آرہی ہے، اسٹاک مارکیٹ اوپر جارہی ہے، اب اصل چیلنج مہنگائی ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہماری حکومت کے آغاز مین مہنگائی کے محرکات کچھ اور تھے، اب جو تشویش ہے وہ عالمی سطح پر خوراک میں مہنگائی ہے، عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، اب حکومت کی اولین ترجیح مہنگائی پر قابو پانا ہے’۔
ملک میں کورونا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ ‘پاکستان میں ایک طبقہ اب بھی وائرس کو سنجیدہ نہیں لے رہا، یہ ایک حد تک عالمی رجحان بھی ہے، کورونا کے کچھ عارضی اور کچھ مستقل اثرات ہوتے ہیں اس لیے اچھی حکمت عملی یہ ہے کہ انسان حفاظت کرے جو زیادہ مشکل نہیں ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘یہ کسی کو نہیں پتہ کہ یہ وائرس کب ختم ہوگا، لوگ پرانی متعدی بیماریوں کی بنیاد پر اس کے خاتمے کے اندازے لگا رہے ہیں لیکن یہ بات بالکل یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ کم از کم اگلے چند ماہ ہم نے وائرس کے ساتھ گزارنے ہیں، اس لیے احتیاطی تدابیر کو جاری رکھنا پڑے گا’۔
ویکسین سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ‘کوئی پاکستانی دوسرے سے زیادہ اہم نہیں، صدر اور وزیر اعظم نے بھی اپنی باری پر ویکسین لگوائی، اس بیماری نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ سب پاکستانی ایک ہے اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے’۔


مشہور خبریں۔
میں وینزوئلا آپریشن میں طبس جیسے سانحے کے دہرائے جانے سے پریشان تھا:ٹرمپ
?️ 8 جنوری 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں خدشہ تھا کہ
جنوری
اب اسرائیل کی امریکی معاشرے میں حمایت ختم
?️ 7 فروری 2024سچ خبریں:Yedioth Aharonot اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے
فروری
شمالی غزہ میں فلسطینیوں اور جارحیت پسندوں کے درمیان شدید لڑائی
?️ 10 دسمبر 2023سچ خبریں: جبالیا کیمپ پر صیہونی فوج کے حملوں میں شدت آنے
دسمبر
وزیراعظم کا عمان کے سلطان سے ٹیلی فونک رابطہ، عید کی مبارکباد دی
?️ 8 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) عید الاضحی کے پرمسرت موقع پر وزیراعظم شہباز
جون
آرئیل آپریشن صیہونی سیکورٹی سسٹم کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا:صیہونی اخبار
?️ 4 مئی 2022سچ خبریں:عبرانی روزنامے کا کہنا ہے کہ آپریشن ایریل اسرائیل کے سیکیورٹی
مئی
ایف جی ای ایچ اےکےملازمین کا کرپشن، اقربا پروری پر وزیراعظم آفس کو خط
?️ 22 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای
جولائی
موجودہ حکومت کی حیات اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے بارے میں فچ کی رپورٹ
?️ 18 جولائی 2024سچ خبریں: بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ نے اپنی حالیہ رپورٹ
جولائی
7 لبنانی بینکوں پر مسلح حملے
?️ 16 ستمبر 2022سچ خبریں: لبنانی میڈیا نے آج دوپہرجمعہ کو اطلاع دی کہ اس
ستمبر