?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق طویل اور شدید بحث و تمحیص کے بعد اسلام آباد نے افغان فریق کو اپنا ”حتمی مؤقف‘‘ پیش کر دیا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ طالبان حکومت کو ”سرحد پار دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات‘‘ کرنا ہوں گے۔
پاکستانی میڈیا رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ بات چیت دوسرے دن اتوار تک جاری رہی لیکن دونوں فریق افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے مسئلے پر کسی مشترکہ مؤقف پر نہیں پہنچ سکے۔
پاکستانی حکام کے مطابق کیونکہ افغان طالبان کا وفد بظاہر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور افغانستان کی سرزمین سے کام کرنے والے دیگر عسکری گروہوں کے ٹھکانے ختم کرنے کے لیے قابل تصدیق کارروائی کرنے سے گریزاں نظر آیا۔
جرمن خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق پاکستان نے دوحہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے عبوری افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ ”اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔‘‘
ایک پاکستانی سینیئر سکیورٹی اہلکار نے کہا، ”پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی جاری سرپرستی ناقابلِ قبول ہے۔
پاکستانی سکیورٹی اہلکار نے بھارت، جس نے حال ہی میں کابل کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کیا ہے، کی طرف بالواسطہ اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کا وفد ”کسی اور کے ایجنڈے پر عمل پیرا دکھائی دیا۔‘‘
اہلکار نے خبردار کیا کہ طالبان کا یہ مؤقف ”افغانستان، پاکستان یا خطے کے مفاد میں نہیں ہے۔‘‘
طالبان کا موقف
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق، قبل ازیں افغان فریق نے ایک مسودہ پیش کیا جس میں زور دیا گیا کہ پاکستان افغانستان کی زمینی اور فضائی حدود کی خلاف ورزی نہ کرے اور اپنی سرزمین کو ”کسی بھی مخالف افغان گروہ یا اپوزیشن کے لیے ہمارے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
افغان فریق نے ”جنگ بندی معاہدے کی نگرانی اور خلاف ورزیوں کے تبادلے کے لیے چار فریقی رابطہ چینل قائم کرنے‘‘ کی آمادگی بھی ظاہر کی۔
ایک موقع پر افغان طالبان نے پیشکش کی کہ وہ ٹی ٹی پی کو پاکستانی حکام کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے میز پر لانے کو تیار ہیں۔
تاہم اسلام آباد نے اس تجویز کو واضح طور پر مسترد کرتے ہوئے دو ٹوک کہا کہ وہ کسی دہشت گرد تنظیم سے مذاکرات نہیں کرے گا اور یہ طالبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹی ٹی پی کی سرپرستی ختم کریں۔
پاکستان نے افغان سرزمین سے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستانی مؤقف پر طالبان کے جوابات کو ”غیر منطقی اور زمینی حقائق کے منافی‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔
پاکستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات میں کسی بھی قسم کی پیش رفت کا انحصار ”افغان طالبان کے مثبت رویّے‘‘ پر ہو گا۔
صورت حال غیر واضح
دوسرا دور ہفتے کے روز شروع ہوا اور اسلام آباد نے خبردار کیا کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو صورتحال ”کھلی جنگ‘‘ میں بدل سکتی ہے۔
یہ مذاکرات 19 اکتوبر کو دوحہ میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد ہو رہے ہیں، جس کی ثالثی قطر نے کی تھی اور جس سے ایک ہفتے تک جاری مہلک سرحدی جھڑپوں کا خاتمہ ہوا۔
ترکی نے موجودہ مذاکراتی دور کی میزبانی اپنی وسیع تر ثالثی کوششوں کے تحت کی ہے، جبکہ قطر جنگ بندی کے ضامن اور مذاکراتی سہولت کار کے طور پر کردار ادا کررہا ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ استنبول میں مذاکرات کب تک جاری رہیں گے۔
افغانستان سے ہونے والے حملوں میں پانچ پاکستانی فوجی ہلاک
خبر رساں ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق افغانستان سے ہونے والے سرحد پار حملوں میں گزشتہ روز کم از کم پانچ پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا کہ شدت پسندوں نے افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے دو مختلف مقامات سے، صوبہ خیبر پختونخوا کے شمال مغربی علاقے میں، دراندازی کی کوشش کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کم از کم 25 عسکریت پسند، جن میں چار خودکش حملہ آور بھی شامل تھے، ہلاک کر دیے گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ دراندازی کی یہ کوششیں اس وقت کی جا رہی ہیں جب پاکستان اور افغانستان کے وفود ترکی میں مذاکرات میں مصروف ہیں، جس سے عبوری افغان حکومت کے دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے عزم پر سوالات اٹھتے ہیں۔


مشہور خبریں۔
یمن کا مکمل محاصرہ ختم کرنے کے لیے ریاض میں حائل رکاوٹوں پر ایک نظر
?️ 16 جون 2022سچ خبریں: یمن اس وقت جنگ بندی کی حالت میں ہے
جون
صیہونی جنگ کو جنوبی غزہ میں کیوں منتقل کرنا چاہتے ہیں؟
?️ 10 دسمبر 2023سچ خبریں: نیتن یاہو کی کابینہ جنگ کو جنوبی غزہ میں لے
دسمبر
جاپان کی آبنائے تائیوان میں جنگی منظر نامے کے لیے فوج تیار
?️ 8 ستمبر 2022سچ خبریں: جاپان آبنائے تائیوان میں فوجی تصادم کی صورت
ستمبر
میں نیوٹرلزسمیت اسٹیک ہولڈرزسے بات کرکے روس گیا تھا۔عمران خان
?️ 19 جون 2022اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک
جون
خوشی کا عالمی دن کشمیریوں کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتاکیونکہ خوشی ان سے کوسوں دور ہے
?️ 20 مارچ 2023سرینگر: (سچ خبریں) آج جب دنیا بھر میں خوشی کا عالمی دن
مارچ
فیس بک کے ’کمیونٹی نوٹس‘ میں مزید فیچر متعارف
?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے اپنے کراؤڈ سورسڈ فیکٹ چیکنگ
ستمبر
امریکہ اور انگلینڈ ہماری کارروائیوں کو متاثر نہیں کر سکتے: یمن
?️ 14 نومبر 2024سچ خبریں: یمن کے وزیر دفاع محمد ناصر العاطی نے کہا کہ
نومبر
بلوچستان حکومت کاسی ٹی ڈی کو مزید مستحکم بنانے کا فیصلہ، وفاق سے گرانٹ کا دعوی
?️ 22 اگست 2025کوئٹہ (سچ خبریں) بلوچستان حکومت نے سی ٹی ڈی کو مزید مستحکم
اگست