حماس کے ہاتھوں صیہونیوں کی تذلیل؛صیہونی اخبار کی زبانی

حماس کے ہاتھوں صیہونیوں کی تذلیل؛صیہونی اخبار کی زبانی

?️

سچ خبریں:ایک صہیونی اخبار نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اسرائیل اب اپنی تاریخ کے سب سے خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور سیاسی، سکیورٹی اور سماجی لحاظ سے تباہی کے دہانے تک پہنچ چکا ہے۔

صیہونی اخبار معاریو میں شائع ہونے والی رپورٹ میں صیہونی فوج کے ریٹائرڈ برگیڈیر نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ کے خلاف جنگ میں نہ صرف اپنے تمام مقاصد حاصل نہیں کیے بلکہ اسرائیل کی فوج کی کمزوری اور سیاسی و فوجی قیادت کی ساکھ کا نقصان بھی واضح ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کی تورات یہودی جماعت نے غزہ جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے

 بریک نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اسرائیل آج اپنے قیام کے بعد سب سے زیادہ خطرناک مرحلے میں ہے اور سیاسی، سکیورٹی اور سماجی اعتبار سے ایک جمود میں مبتلا ہے، اس صورتحال میں حماس خود کو اتنا طاقتور سمجھتی ہے کہ وہ اپنے شرائط مذاکرات کے میز پر اسرائیل پر تھوپ سکتی ہے اور تل آویو کو تحقیر کر سکتی ہے۔

بریک نے کہا کہ حماس ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد تو کرتی ہے لیکن مذاکرات کو قبول کرتی ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حماس خود کو اس حد تک طاقتور سمجھتی ہے کہ وہ مذاکرات کے دوران اپنے شرائط اسرائیل پر تھوپ سکتی ہے۔

حماس نے جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کی کمزوریوں کو سمجھ لیا اور اب وہ اسرائیلی قیادت کی دھمکیوں کو تحقیر کے طور پر رد کرتی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ جنرل نے غزہ جنگ کے میدان میں اسرائیل کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی دعوے جیسے کہ 60 فیصد تونلوں کی تباہی اور 20 ہزار حماس کے جنگجوؤں کی ہلاکت حقیقت سے بہت دور ہیں اور اسرائیل نے ان تونلوں کی فعالیت کو روکنے یا انہیں مکمل طور پر تباہ کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا ہے۔

بریک نے بنیامین نیتن یاہو کو اس جنگ میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی قیادت نے عوام کو مشرق وسطی میں تبدیلی کے لیے جھوٹے وعدے دیے اور انہیں اس بات کا توہم پیدا کیا کہ اسرائیل نے اس جنگ میں کوئی اسٹریٹجک کامیابی حاصل کی ہے، ان کے مطابق، اسرائیل نے اس جنگ میں سووں فوجیوں اور ہزاروں زخمیوں کو کھو دیا، جبکہ حماس کے خلاف اسٹرٹیجک طور پر کچھ بھی حاصل نہیں کیا۔

بریک نے کہا کہ اسرائیل کے لیے آنے والے دنوں میں خطرات بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر امریکہ، قطر اور ترکی کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے باعث جو اسرائیل کے لیے ایک اسٹرٹیجک خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان تینوں ممالک کے بڑھتے ہوئے روابط خطے میں فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے تنازعات کے حوالے سے ایک نیا محور تشکیل دے سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:حماس کے پاس غزہ جنگ بندی منصوبے کا جواب دینے کے لیے صرف 3 سے 4 دن کی مہلت!

بریک نے اپنے کالم کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل آج ایک سنگین فیصلہ کن موڑ پر ہے، غزہ میں جنگ جاری رکھنے سے صرف اسرائیل کے داخلی توازن میں مزید خرابی آئے گی، اور اس سے فوج اور عوام کے درمیان شکاف بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق، اگر اسرائیل نے جنگ کے کسی سیاسی حل کے لیے کوشش نہ کی تو اس کا نتیجہ پوری ریاست کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

چینی سرمایہ کاری پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے وزیر اعظم نے کابینہ کمیٹیوں کی تشکیل نو کردی

?️ 25 اگست 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے وفاقی کابینہ

غزہ کی شکست سے آنے والے آفٹر شاکس کی ٹرین شاباک پر پہنچی

?️ 22 جنوری 2025سچ خبریں: آئی ڈی ایف کے چیف آف اسٹاف اور آئی ڈی ایف

غزہ جنگ بندی کے سلسلہ میں حزب اللہ کا بیان

?️ 21 مئی 2021سچ خبریں:لبنان کی حزب اللہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے القدس

صہیونی قصبہ استقامتی میزائلوں کے خوف سے فوجی قلعے میں تبدیل

?️ 2 جون 2022سچ خبریں:  اسرائیلی وزارت جنگ نے آج جمعرات کو غزہ کے قریب

سعودی اتحاد کے یمن سے نکلنے کا وقت آگیا ہے: صنعا

?️ 16 مئی 2022سچ خبریں: یمن کی قومی سالویشن حکومت کے وزیر دفاع محمد ناصر

یورپی یونین نے چین کے متعدد عہدیداران کے خلاف بڑا قدم اٹھا لیا

?️ 18 مارچ 2021برسلز (سچ خبریں) یورپی یونین نے چین کے متعدد عہدیداران کے خلاف

مغرب دنیا پر قبضہ کرنے کے لیے کس حد تک جا سکتا ہے؟امریکی نامہ نگار کی زبانی

?️ 25 ستمبر 2023سچ خبریں: ایک امریکی صحافی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی قیادت

میانمار فوج کی عام شہریوں کے خلاف بربریت

?️ 27 مارچ 2021سچ خبریں:میانمار کے نیوزذرائع اور عینی شاہدین نے اطلاع دی ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے