?️
سچ خبریں:صیہونیوں کا منصوبہ ہے کہ رفح میں فلسطینیوں کے لیے ایک جبری کیمپ قائم کیا جائے، ماہرین کے مطابق ایک نسل کش پالیسی اور انسانی شہر کے نام پر نئی شکل کا آپارتھائیڈ ہے،اس منصوبے کا مقصد حماس پر دباؤ ڈالنا اور فلسطینیوں کو مستقل بے دخل کرنا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں فلسطینیوں کے لیے مجوزہ جبری کیمپ کو بین الاقوامی ماہرین اور تجزیہ کار ایک نئے دور کی نسل کشی اور آپارتھائیڈ کی جدید شکل قرار دے رہے ہیں۔
اس منصوبے کے تحت لاکھوں فلسطینیوں کو شمالی و مرکزی غزہ سے نکال کر رفح میں قید نما خیمہ بستی میں منتقل کیا جائے گا جو اسرائیلی حکام کے مطابق انسانی شہر ہوگا، مگر حقیقت میں ایک نسلی قید خانہ بننے جا رہا ہے۔
گارڈین اخبار کی رپورٹ کے مطابق، اس منصوبے پر خود اسرائیلی ریاست کے اندر بھی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں،فوجی قیادت اس منصوبے کو ناقابل عمل اور غیر مؤثر سمجھتی ہے۔
وزارت خزانہ نے 15 بلین شیکل سالانہ لاگت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا،یدیعوت احرونٹ کے مطابق، یہ بجٹ عوامی خدمات جیسے اسکولوں، اسپتالوں اور سماجی بہبود سے کاٹ کر پورا کیا جائے گا
گارڈین کے مطابق، آرمی چیف ایال زمیر اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان اس منصوبے پر سخت جھڑپ بھی ہو چکی ہے۔
سابق وزیر اعظم ایہود اولمرت نے بھی اس منصوبے کو جبری مشقت کیمپ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اگر فلسطینیوں کو اس نام نہاد انسانی شہر میں جانے پر مجبور کیا گیا، تو یہ نسل کشی کا مترادف ہوگا۔
اسرائیلی وزیر جنگ اسرائیل کاتس نے بیان دیا ہے کہ ابتدائی طور پر 600000 فلسطینیوں کو ان کیمپوں میں منتقل کیا جائے گا، اور بعد میں پوری غزہ کی آبادی کو وہیں بسایا جائے گا۔
کاتس نے مزید دعویٰ کیا کہ صرف وہ فلسطینی جنہیں ہم اجازت دیں گے، دوسرے ملکوں کا سفر کر سکیں گے۔
نور ابو عایشہ، جو غزہ میں مقیم ایک آزاد صحافی ہیں، کہتی ہیں ہم نے بارہا اسرائیلی حملوں سے بچنے کے لیے ہجرت کی، اب وہ ہمیں انہی ملبوں میں دوبارہ آباد کرنا چاہتے ہیں تاکہ حماس پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر سے پہلے ہم شمال اور جنوب غزہ میں آزادانہ سفر کر سکتے تھے، لیکن اب اسرائیل نے شمال کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔ اگر کوئی غذا لینے جنوب جاتا ہے تو اسے واپس آنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
عوامی رائے کے مطابق، یہ منصوبہ صرف اور صرف حماس کو سیاسی مطالبات سے دستبردار کرنے کے لیے فلسطینیوں کی اجتماعی سزا ہے،بھوکے، بیمار، اور خوفزدہ بچے امدادی لائنوں میں کھڑے صرف اس امید پر ہیں کہ شاید کوئی عارضی جنگ بندی ان کی بقاء کا وسیلہ بن جائے۔
تاہم، اگر فائر بندی کی کوششیں ناکام ہوئیں، تو یہ منصوبہ غزہ کے لیے ایک مستقل جیل اور فلسطینیوں کے لیے حیاتِ نو کی امید کا خاتمہ ثابت ہوگا۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
وہ عرب ممالک جنہوں نے صادق کے وعدے کے خلاف فوری ایکشن لیا؟
?️ 21 جولائی 2024سچ خبریں: بلال نزار ریان نے یمن پر صیہونی حکومت کے حملے
جولائی
مغرب اور روس کے درمیان تیسری عالمی جنگ کا آغاز
?️ 15 جنوری 2023سچ خبریں:فرانسیسی اخبار Le Figaro نے ہفتے کے روز ایک رپورٹ شائع
جنوری
القادر ٹرسٹ کیس: نیب نے عمران خان، بشریٰ بی بی کو دوبارہ طلب کرلیا
?️ 20 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے گزشتہ روز
مئی
دنیا کہاں جا رہی ہے؟
?️ 14 جولائی 2023سچ خبریں: روسی وزیر خارجہ کا خیال ہے کہ موجودہ مرحلے پر
جولائی
اقوام متحدہ کی یمن جنگ بندی میں طویل ترین ممکنہ مدت تک توسیع کی تجویز
?️ 25 ستمبر 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمنی امور نے اعلان کیا
ستمبر
سعودی سفیر کا افغانستان کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے پر زور
?️ 15 جنوری 2025سچ خبریں: کابل میں سعودی عرب کے نئے سفیر فیصل بن طلق
جنوری
’کوپ 28‘ میں پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے کیلئے ادارے مکمل تیاری کریں، نگران وزیراعظم
?️ 23 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ 28ویں کانفرنس آف
نومبر
شام کی عمر آئل فیلڈ میں دھماکہ
?️ 8 جنوری 2022سچ خبریں:شام میں عمر آئل فیلڈ جہاں امریکی فوجی اڈہ واقع ہے،
جنوری