اسرائیل کا غزہ کے باشندوں کو جبری نقل مکانی کا منصوبہ

غزہ

?️

عبرانی زبان کے اس میڈیا نے بتایا کہ یہ مذاکرات ٹرمپ کے جبری نقل مکانی کے منصوبے کو عملی شکل دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں اور اس سلسلے میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، کچھ یورپی ممالک رقم کے عوض غزہ سے نکالے گئے فلسطینیوں کو محدود تعداد میں پناہ دینے پر رضامند ہیں، جبکہ دیگر ممالک اضافی مراعات اور مطالبات پیش کر رہے ہیں جنہیں اسرائیل پورا کرنے سے قاصر ہے۔ معاریو نے افریقی ممالک کے غیر مالی مطالبات کی تفصیل تو نہیں دی، لیکن اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ کچھ فوجی معاملات سے متعلق ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے حالیہ پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ غزہ سے جبری نقل مکانی کا عمل جاری ہے اور اس سلسلے میں کئی افریقی ممالک کے ساتھ بنیادی معاہدے طے پا چکے ہیں۔ ساتھ ہی امریکہ بھی اس منصوبے کو عملی بنانے کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔
کچھ یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات انتہائی اعلیٰ سطح پر ہیں، جہاں مالی معاونت، میزبان ممالک کے مفادات اور آمدنی کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہو رہی ہے۔ کچھ ممالک مالی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں، جبکہ دیگر امریکی سیاسی حمایت کے خواہاں ہیں۔ تاہم، کچھ مطالبات ایسے بھی ہیں جنہیں اسرائیل مسترد کر چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ مذاکرات صرف عمومی باتوں تک محدود نہیں، بلکہ فلسطینیوں کو منظم طریقے سے آباد کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے، جس میں رہائشی بستیاں، تعلیمی سہولیات، روزگار کے مواقع اور بنیادی ضروریات شامل ہیں۔ منصوبہ سازوں کا مقصد یہ ہے کہ پہلی کھیپ میں منتقل ہونے والے افراد کو مثالی حالات فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ بعد میں آنے والوں کو اس منصوبے کے لیے راغب کر سکیں۔
معاریو نے زور دیا کہ اسرائیل پہلے گروپ کے غزہ میں موجود اہل خانہ کو بھیجے گئے پیغامات پر بہت زیادہ انحصار کر رہا ہے، کیونکہ اگر ابتدائی ہزاروں افراد کے تجربات مثبت ہوئے، تو اس سے لاکھوں افراد کو منتقل کرنے کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔
اسی تناظر میں، واللا نیوز نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں غزہ کے فلسطینیوں کو لیبیا منتقل کرنے کے امکان کا جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ میں ٹرمپ کے اس تجویز پر غور کیا گیا ہے جس میں لیبیا کو غزہ کے باشندوں کے لیے ایک ممکنہ پناہ گاہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ تاہم، لیبیا میں خانہ جنگی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اس منصوبے کی عملی تطبیق مشکل نظر آتی ہے۔ لیبیا کے عوام بھی اس تجویز کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔

مشہور خبریں۔

سڈنی حملے میں موساد کے ملوث ہونے کا خدشہ

?️ 16 دسمبر 2025 سڈنی حملے میں موساد کے ملوث ہونے کا خدشہ عرب دنیا

افغانستان میں دہشت گردی کے خطرات اب بھی موجود ہیں:اقوم متحدہ میں ایران کی نائب سفیر

?️ 5 مارچ 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ میں ایران کی نائب سفیر نے افغانستان کے اثاثوں

وزیراعظم کی صدر مملکت سے ملاقات، مشرقِ وسطی سمیت اہم امور پر مشاورت

?️ 26 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مملکت آصف علی

جنوبی شام میں اسرائیلی قابض افواج کی کارروائیاں

?️ 4 اکتوبر 2026سچ خبریں: جنوبی شام بالخصوص صوبہ قنیطرہ میں اسرائیلی قابض افواج کی

ووٹ کی عزت کو جو خطرہ تھا وہ اب ختم ہو چکا ہے، مولانا فضل الرحمٰن

?️ 11 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن

ایران کشیدگی؛ پاکستان، چین اور روس نے بڑا اقدام اٹھالیا

?️ 22 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) ایران پر اسرائیل اور امریکی حملہ کے بعد

عمران خان کی بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلیفون پر بات کرا دی گئی

?️ 14 فروری 2026راولپنڈی (سچ خبریں) اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے