?️
سچ خبریں:اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر امریکی جارحیت کے دوبارہ آغاز اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں، بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے دوسری جنگ عظیم کے بعد کا سب سے بڑا معاشی بحران پیدا کر سکتی ہے۔
اقتصادی امور کے ماہرین نے بین الاقوامی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران پر جارحیت کے نتیجے میں دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی معیشت کا سب سے بڑا بحران جنم لے سکتا ہے۔
اسپوٹنک خبر رساں ادارے نے اقتصادی ماہرین کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی جارحیت دوبارہ شروع ہونے اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے نتیجے میں عالمی معیشت کو نہایت خطرناک اور وسیع پیمانے پر اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی توانائی کی قیمتوں پر فوری اثر ڈالے گی اور بالخصوص تیل کی برآمدات میں رکاوٹ کے باعث سرمایہ کاری اور بڑے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق خطرات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
عالمی معیشت کو درپیش جغرافیائی سیاسی خطرات
سعودی عرب کے اقتصادی ماہر ڈاکٹر محمد بن دلیم القحطانی نے کہا کہ مالیاتی منڈیاں قلیل مدت میں جغرافیائی سیاسی خطرات کی اضافی لاگت کو قیمتوں میں شامل کر دیتی ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مکمل طور پر متاثر نہ بھی ہو، تب بھی تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
انہوں نے اسپوٹنک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر بحران طویل ہوگیا یا بحری نقل و حمل میں مسلسل رکاوٹ پیدا ہوئی تو توانائی درآمد کرنے والے ممالک اپنے توانائی ذرائع میں تنوع پیدا کرنے، متبادل پائپ لائنوں میں سرمایہ کاری بڑھانے، اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ کرنے اور قابل تجدید و جوہری توانائی کے منصوبوں کو تیز کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی معیشت صرف براہ راست واقعات سے ہی نہیں بلکہ غیر یقینی صورتحال سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ متوقع نتائج میں نقل و حمل اور بیمہ کے اخراجات میں اضافہ، افراط زر کے دباؤ کی واپسی، بین الاقوامی تجارت کی رفتار میں کمی، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی اور مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی بینک شرح سود میں کمی کے اپنے فیصلے مؤخر بھی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ سمندری گزرگاہوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ پوری عالمی معیشت کو متاثر کرے گی، خصوصاً ایسے وقت میں جب گروپ 20 کے رکن ممالک ہر سال 107 کھرب ڈالر سے زیادہ مالیت کی اشیا پیدا کرتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے عالمی اثرات
دوسری جانب لبنانی اقتصادی ماہر عماد عکوش نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کسی بھی کوشش کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو جائے گی۔
انہوں نے اسپوٹنک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں عدم تحفظ کے باعث مختصر مدت میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا اور روزانہ تقریباً 14 سے 20 ملین بیرل تیل کے فوری متبادل کی عدم دستیابی کے باعث خام تیل کی قیمت 120 سے 150 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گیس کا شعبہ اس سے بھی زیادہ شدید بحران کا شکار ہو سکتا ہے، خاص طور پر یورپ اور ایشیا میں، کیونکہ یہ خطے قطر کی گیس پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں جو آبنائے ہرمز کے راستے منتقل کی جاتی ہے۔
اقتصادی ترقی کا خاموش قاتل
عماد عکوش نے زور دیتے ہوئے کہا کہ غیر یقینی صورتحال اقتصادی ترقی کی خاموش قاتل ہے۔ ان کے مطابق توانائی، نقل و حمل، پیداواری لاگت اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عالمی معیشت جمود کے ساتھ افراط زر کے خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بحران براہ راست رسد اور خوراک کی عالمی زنجیروں کو متاثر کرے گا کیونکہ خلیج فارس کے ممالک اپنی غذائی ضروریات کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ اسی آبی گزرگاہ کے ذریعے درآمد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کی بندش سمندری بیمہ کے اخراجات میں غیر معمولی اضافے کا باعث بنے گی، جس سے بین الاقوامی تجارت متاثر ہوگی اور سرمایہ کار سونے اور ڈالر جیسے محفوظ اثاثوں کا رخ کریں گے۔
ڈاکٹر عکوش نے خلیجی ممالک کے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں کہا کہ وہ ممالک جو اپنی تبدیلی کی منصوبہ بندی، جیسے سعودی عرب کے وژن 2030 اور متحدہ عرب امارات کے بڑے منصوبوں کے لیے توانائی کی آمدنی پر انحصار کرتے ہیں، شدید نقصان اٹھائیں گے۔ ان کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کاغذی اضافہ ہونے کے باوجود برآمدات میں عملی رکاوٹ انہیں حقیقی مالی وسائل سے محروم کر دے گی۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑا معاشی سانحہ
انہوں نے آخر میں کہا کہ اگر جنگ مزید پھیل گئی اور پورے خطے میں وسیع فوجی تصادم کی صورت اختیار کر گئی، جس کے نتیجے میں تیل کی تنصیبات تباہ ہو گئیں، تو دنیا دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑے معاشی سانحے کا سامنا کرے گی۔
اس صورت میں خام تیل کی قیمت 200 ڈالر یا اس سے بھی زیادہ فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خطے کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی جبکہ دنیا گہرے معاشی جمود کا شکار ہوگی، اور یورپ و ایشیا کے متعدد صنعتی شعبے، جو توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، دیوالیہ ہو جائیں گے۔


مشہور خبریں۔
الحشد الشعبی کی تأسیس کی سالگرہ پر بغداد کی عوام نے منایا جشن
?️ 11 جون 2022سچ خبریں: عراق میں الحشد الشعبی کے قیام کی آٹھویں سالگرہ منانے
جون
پاکستان کا عدالت کی طرف سے یاسین ملک کو سزائے موت دلوانے کی بھارتی حکومت کی کوشش پر اظہار تشویش
?️ 1 جون 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے عدالت کے ذریعے ممتاز کشمیری رہنما
جون
سی پیک کے ذریعے پورے خطے میں معاشی ترقی کی راہ ہموار ہوگی: مراد سعید
?️ 26 ستمبر 2021کوئٹہ(سچ خبریں) وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے کہا ہے کہ
ستمبر
اسد طور کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل
?️ 8 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے اداروں کے
مارچ
بلدیاتی انتخابات میں حلقہ بندیاں اور سیکیورٹی رکاوٹ ہیں
?️ 26 نومبر 2022کراچی:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کراچی اور حیدرآباد
نومبر
بلدیاتی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن نے فیصلہ جاری کردیا
?️ 15 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں)وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق الیکشن
نومبر
امریکہ میں سان فرانسسکو کے اسٹورز کی لوٹ مار پر ڈیلی میل کی رپورٹ
?️ 23 دسمبر 2021سچ خبریں:ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سان فرانسسکو میں چور
دسمبر
ایران یونٹی آف فرنٹ کو بحال کرنے میں کامیاب
?️ 16 جون 2026سچ خبریں: لبنان آج کل ایک ایسی حکومت کا شکار ہے جو
جون