ایران کی ’’جیلی فش‘‘ ڈرون حکمت عملی، امریکی پائلٹ نے طیارہ گرنے سے پہلے کیا دیکھا؟

امریکی پائلٹ

?️

سچ خبریں:ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران ایرانی فضائی حدود میں گرائے جانے والے ایک امریکی پائلٹ نے ہنگامی انخلا سے چند لمحے قبل ایک غیر معمولی اور حیران کن منظر دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے اوپر گرائے گئے ایک امریکی لڑاکا طیارے کے پائلٹ نے حادثے سے قبل جیلی فش نما ڈرونز کا ایک غیر معمولی منظر دیکھا۔ رپورٹ میں ایران کی جدید ڈرون صلاحیتوں اور امریکی انٹیلی جنس اداروں کے خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے سی این این نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران ایرانی سرزمین کے اوپر گرائے گئے ایک امریکی لڑاکا طیارے کے پائلٹ نے ہنگامی انخلا سے قبل ایک غیر معمولی اور حیران کن منظر دیکھا تھا، جو اب امریکی انٹیلی جنس اداروں میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی ایف پندرہ لڑاکا طیارے کے پائلٹ نے خصوصی دستوں کے ذریعے نجات پانے اور محفوظ مقام پر منتقل کیے جانے کے بعد تفتیش اور انٹیلی جنس جائزوں کے دوران بتایا کہ طیارے کے گرنے سے چند لمحے پہلے اس نے ایرانی ڈرونز کے ایک ایسے مجموعے کو دیکھا جو آسمان میں مکمل ہم آہنگی کے ساتھ حرکت کر رہے تھے۔

باخبر ذرائع کے مطابق ان ڈرونز کی ترتیب سمندری جیلی فش سے مشابہ تھی، جہاں چند بڑے ڈرون اوپری حصے میں موجود تھے جبکہ ان کے نیچے چھوٹے ڈرون جیلی فش کے شاخوں کی طرح حرکت کر رہے تھے۔

ایک باخبر ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ پائلٹ نے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے متعدد ڈرونز کا ذکر کیا جو ایک ہی وجود کی طرح حرکت کر رہے تھے جبکہ چھوٹے ڈرون ان کے نیچے موجود تھے۔ اس ذریعے کے مطابق یہ منظر مکمل طور پر غیر معمولی تھا۔

ایک دوسرے ذریعے نے بتایا کہ امریکی پائلٹ نے اس ترتیب کو فضائی بارودی میدان سے تشبیہ دی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پائلٹ کی بیان کردہ تفصیلات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ ایران کی ایسی نئی ڈرون ٹیکنالوجی کی نشاندہی کر سکتی ہیں جسے امریکی انٹیلی جنس اداروں نے اب تک اپنے جائزوں میں شامل نہیں کیا تھا۔

سی این این کے مطابق اگرچہ ایف پندرہ طیارے کے گرنے کی اصل وجہ کے بارے میں تحقیقات ابھی جاری ہیں، تاہم ابتدائی جائزوں میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ ڈرون نیٹ ورک امریکی طیارے کو نشانہ بنانے میں کسی نہ کسی صورت میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

اس ایف پندرہ طیارے میں دو افراد سوار تھے جن میں پائلٹ اور ہتھیاری نظام کا افسر شامل تھا۔ طیارے کے گرنے کے بعد امریکی فوج نے وسیع پیمانے پر تلاش اور امدادی کارروائی شروع کی۔

پائلٹ کو چند گھنٹوں بعد بچا لیا گیا، جبکہ ہتھیاری نظام کا افسر ایک دن سے زیادہ وقت تک پہاڑی علاقوں میں ایرانی فورسز سے بچتا رہا اور بعد ازاں امریکی دستوں نے اسے بھی نکال لیا۔

سی این این نے زور دیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ایرانی سرزمین کے اوپر کسی امریکی طیارے کے گرائے جانے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

اسی دوران امدادی کارروائی کے دوران ایک امریکی اے دس حملہ آور طیارہ بھی نشانہ بنایا گیا اور گر گیا، تاہم اس کا پائلٹ ایرانی فضائی حدود سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایف پندرہ کے پائلٹ کی اس روایت نے امریکی انٹیلی جنس حلقوں میں شدید اختلاف پیدا کر دیا ہے۔

بعض انٹیلی جنس حکام کا خیال ہے کہ پائلٹ نے واقعی کسی نامعلوم اور جدید ٹیکنالوجی کا مشاہدہ کیا ہو سکتا ہے، جبکہ بعض دیگر حکام اس کی جسمانی اور ذہنی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بیان کی صحت پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔

تاہم ماہرین کی توجہ کا اصل مرکز کثیر سطحی جال نما رابطہ نظام نامی ٹیکنالوجی ہے، جو بیک وقت بڑی تعداد میں ڈرونز کو مربوط اور ہم آہنگ انداز میں چلانے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں نے اب تک ایران کے لیے ایسی صلاحیت کی تصدیق نہیں کی تھی، تاہم ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ تہران نے اپنی ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی میں روس اور چین کے فنی تعاون سے فائدہ اٹھایا ہے۔

فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رپورٹ درست ثابت ہوتی ہے تو ایران ڈرون جنگ کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

ایسی ٹیکنالوجی ڈرونز کو اجتماعی کارروائی، مشترکہ فیصلہ سازی، مشن کے دوران اپنی ترتیب تبدیل کرنے اور کئی مراحل پر مشتمل پیچیدہ حملے انجام دینے کی صلاحیت فراہم کر سکتی ہے۔

امریکی ڈرون جنگی ماہر بٹس نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے ڈرونز جو باقاعدہ ترتیب برقرار رکھتے ہوئے ہم آہنگ انداز میں حرکت کر سکیں اور ساتھ ہی دھماکہ خیز مواد بھی لے جا رہے ہوں، فوجی دستوں کے لیے ایک سنگین خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نظام اپنی کچھ صلاحیت کو حملوں کی اگلی لہروں کے لیے محفوظ رکھ سکتا ہے تو دنیا کو ڈرون جنگ کی سب سے جدید شکلوں میں سے ایک کا سامنا ہو سکتا ہے۔

سی این این کی یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ بندی کے بعد امریکہ اور ایران سیاسی مذاکرات کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

تاہم ایسی معلومات کے منظر عام پر آنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ جنگ کے ابھی بھی کئی نامعلوم پہلو موجود ہیں اور خاص طور پر ڈرون ٹیکنالوجی کے میدان میں دونوں فریقوں کی حقیقی عسکری صلاحیتوں کا جائزہ امریکی سلامتی اور فوجی اداروں کی اہم ترین تشویشوں میں شامل ہے۔

مشہور خبریں۔

شبلی فراز  کا اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق اہم بیان

?️ 10 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر شبلی فرازنے اسلام آباد کے بلدیاتی

ہواوے چینی مارکیٹ میں اینڈرائیڈ کا متبادل تیار کرنےکے لئے کوشاں

?️ 9 مئی 2021بیجنگ( سچ خبریں)چینی کمپنی ہواوے چینی مارکیٹ میں اینڈرائیڈ کا متبادل تیار

شامی دہشت گرد یوکرین کے راستے میں

?️ 6 مارچ 2022سچ خبریں:  پوٹن سے لے کر روسی انٹیلی جنس سروس اور غیر سرکاری

ایک سال کے دوران زرمبادلہ ذخائر میں ایک ارب 59 کروڑ ڈالرز کا اضافہ

?️ 3 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وزارت خزانہ کے مطابق ایک سال کےدوران زرمبادلہ

یمنی حملے کے بعد فلسطینی دیواروں پر صیہونیوں کے لیے پیغام

?️ 16 ستمبر 2024سچ خبریں: یمنی افواج کی جانب سے تل ابیب پر ایک Supersonic

ایران کے خلاف امریکہ کی شکست ویتنام کی جنگ سے بھی زیادہ تباہ کن کیوں ہے؟

?️ 17 جون 2026سچ خبریں: جریدہ فارن پالیسی نے ایک تجزیاتی مضمون میں لکھا ہے کہ

بڑے صنعتی سردخانے میں تکنیکی خرابی کے باعث گوشت کی بڑی مقدار ضائع

?️ 25 جولائی 2025سچ خبریں: اسرائیل کے ایک بڑے صنعتی سردخانے میں درجہ حرارت کنٹرول کرنے

چین کی امریکہ مخالف کاروائی

?️ 7 جنوری 2024سچ خبریں: چین کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے