?️
سچ خبریں:اقوام متحدہ کی رپورٹنگ آفیسر فرانچسکا آلبانیز نے کہا ہے کہ امریکہ انصاف کے بجائے ناانصافی کا حامی ہے اور نیتن یاہو کو بین الاقوامی عدالت میں گرفتار کیا جانا چاہیے۔ آلبانیز نے غزہ میں نسل کشی کو منافع بخش قرار دیتے ہوئے عالمی برادری کو متنبہ کیا۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ برائے حقوقِ فلسطینیان، فرانچسکا آلبانیز نے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکی حکومت کو انصاف سے زیادہ ناانصافی پسند ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں مطلوب ہیں، واشنگٹن ڈی سی کے بجائے ہیگ یا کسی اور مقام پر ہونے چاہئیں جہاں انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
امریکی ریڈیو ڈیموکریسی ناؤ کو دیے گئے انٹرویو میں فرانچسکا آلبانیز نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی حکومت کو انصاف کی پروا نہیں، بلکہ انہیں ناانصافی میں دلچسپی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو پر بین الاقوامی عدالت میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مقدمہ ہے، اور انہیں دنیا کے کسی بھی ملک سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
آلبانیز، جو کہ ایک اطالوی قانونی ماہر ہیں اور حال ہی میں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے آئی سی سی کے خلاف شرمناک کوششوں کے الزام میں پابندی کا شکار ہوئی ہیں، نے مزید کہا کہ وہ حیران ہیں کہ اٹلی، یونان اور فرانس جیسے ممالک، جو روم اسٹیچوٹ کے رکن ہیں، نے نیتن یاہو کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے دی۔ انہوں نے کہا: یہ ناقابل قبول ہے۔ انہیں اس قسم کی رعایت نہیں ملنی چاہیے تھی اور نیتن یاہو کو گرفتار کرنا چاہیے تھا۔
انہوں نے اسرائیل کی غزہ میں جنگ یا مقبوضہ مغربی کنارے میں غیرقانونی آبادکاریوں سے منافع کمانے والی کمپنیوں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی نئی بات نہیں؛ اس نوآبادیاتی اور ہجرتی منصوبے میں اسلحہ ساز کمپنیوں سے لے کر یونیورسٹیوں، بینکوں اور پنشن فنڈز تک سبھی شامل ہیں، اور یہ سب مقامی وسائل اور زمینوں پر قبضے میں شریک ہیں ،ایک ایسا تسلسل جس میں نسل کشی بھی شامل ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اس معاملے میں بیان دیا کہ واشنگٹن نے فرانچسکا آلبانیز پر آئی سی سی کو امریکی و اسرائیلی حکام کے خلاف کارروائی پر مجبور کرنے کی کوشش کے الزام میں پابندیاں عائد کر دی ہیں، روبیو نے کہا کہ آلبانیز کی سیاسی و معاشی جنگ اب مزید برداشت نہیں کی جائے گی اور امریکہ اپنے اتحادی اسرائیل کے ساتھ حقِ دفاع پر ہمیشہ کھڑا رہے گا۔
فرانچسکا آلبانیز نے متنبہ کیا کہ غزہ میں نسل کشی صرف اس لیے جاری ہے کہ یہ منافع بخش ہے۔ ان کے مطابق، آج غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف نوآبادیاتی تشدد کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم معاشی مفاد ہے، جس سے مختلف شعبوں اور اداروں کو مالی فائدہ پہنچ رہا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ٹرمپ پر امریکی قومی دستاویزات چوری کرنے کا الزام
?️ 11 فروری 2022سچ خبریں:امریکی نیشنل دستاویزات کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس ملک
فروری
امریکہ کے ساتھ معاہدے میں کوئی حفاظتی ضمانتیں شامل نہیں ہیں: زیلنسکی
?️ 27 فروری 2025سچ خبریں: جمعہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن میں یوکرین کے
فروری
سعودی عرب سے پاکستان آنے والے مسافروں میں کورونا کی تصدیق
?️ 30 اگست 2021کراچی(سچ خبریں) غیرملکی ایئرلائن کے ذریعے سعودی عرب سے پاکستان آنے والے
اگست
جرمن معیشت کو 84 بلین ڈالر کے نقصان کی وجوہات
?️ 11 اکتوبر 2022سچ خبریں:ایک سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ جرمنی میں مزدوروں کی
اکتوبر
سپریم کورٹ کا حکومت کو آج رات تک ارشد شریف کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم
?️ 6 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال
دسمبر
شام مقبوضہ جولان کو دوبارہ واپس لینے کا حقدار
?️ 20 جنوری 2022سچ خبریں: اقوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے بسام صباغ نے
جنوری
یورپی یونین کی ٹویٹر کو صلاح
?️ 24 جون 2023سچ خبریں:لی فیگارو، تھیری بریٹن نے اس سوشل نیٹ ورک کے مالک
جون
صیہونیوں کے ہاتھوں ایک فلسطینی شہری اپنا گھر مسمار کرنے پر مجبور
?️ 3 فروری 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت نے ایک فلسطینی شہری کو اس کا مکان مسمار
فروری