امریکہ اور اسرائیل کی بمبوں کے وہم میں مبتلا پالیسی ایران کو روکنے میں ناکام: امریکی میگزین

امریکہ اور اسرائیل کی بمبوں کے وہم میں مبتلا پالیسی ایران کو روکنے میں ناکام: امریکی میگزین

?️

سچ خبریں:امریکہ اور اسرائیل کا بمبوں سے نجات کا وہم ایران کے ایٹمی پروگرام کو نہیں روک سکتا۔ حملے صرف وقتی تاخیر کا باعث بنتے ہیں، اصل حل صرف سیاسی اور سفارتی راہوں میں ہے۔

امریکی جریدے فارن افیئرز نے اپنی تازہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ، بالکل اسرائیل کی طرح، ایران کے بارے میں سمارٹ بموں کے وہم میں مبتلا تھی یعنی یہ خام خیالی کہ درست نشانہ لگانے والے ہتھیار ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روک سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں ان حملوں نے صرف وقتی مہلت دی، جسے مذاکرات اور طویل المدت حل پر صرف کیا جانا چاہیے تھا۔
رپورٹ کے مطابق، گزشتہ چار دہائیوں میں یہ تیسری کوشش تھی کہ جنگی طیاروں سے ایک ایٹمی پروگرام کو روکا جائے۔ تازہ ترین کوشش 13 جون کو اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملے سے شروع ہوئی، اور 22 جون کی صبح امریکی فضائیہ کے سات B-2 بمبار طیاروں نے فردو، نطنز اور اصفہان میں ایران کے سب سے گہرے ایٹمی مقامات کو نشانہ بنایا۔
تاہم، تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس طرح کی بمباری عموماً پائیدار سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دیتی۔ یہ حملے کسی ملک کی ایٹمی صلاحیت کو وقتی طور پر سست ضرور کر سکتے ہیں، لیکن اکثر اس کی ایٹمی اسلحہ حاصل کرنے کی خواہش کو اور بڑھا دیتے ہیں۔
1. 2007 میں اسرائیل کا شام پر حملہ:
دیرالزور کے الکبار ری ایکٹر پر اسرائیل کا حملہ بظاہر کامیاب نظر آیا، لیکن یہ ایک استثنائی واقعہ تھا کیونکہ:
 ری ایکٹر مکمل طور پر بیرونی تعاون پر مبنی تھا۔
 شام کے پاس اسے دوبارہ بنانے کی صلاحیت نہیں تھی۔
 شام اس وقت شدید داخلی و خارجی بحران میں تھا۔
2. 1981 میں عراق پر حملہ:
اوسیراک ری ایکٹر کی تباہی سے صدام حسین مزید پُرعزم ہوگئے کہ انہیں ایٹمی ہتھیار چاہییں۔ نتیجتاً عراق کا پروگرام زمین دوز اور خفیہ ہو گیا اور وہ 1990 تک بم کے قریب پہنچ چکا تھا۔
ایران کے خلاف:
 2009–2010: اسٹکس نیٹ سائبر حملے
 2010–2012: سائنسدانوں کے قتل
 2020–2021: نطنز پر تخریبی حملے
یہ تمام حملے ایران کو پیچھے نہیں ہٹا سکے بلکہ اس نے:
 گہرائی میں نئے مراکز قائم کیے،
 جدید سنٹری فیوج بنائے،
 اور سائیکل کو مکمل طور پر خود مختار کر لیا۔
ایرانی ردعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ:
 ایٹمی بازدارندگی کو قومی بقا کے لیے ضروری سمجھا گیا،
 امریکی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا،
 اور ان‌پی‌ٹی سے نکلنے کی بات کی گئی۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی بمباری ایران کے پروگرام کو صرف 1 سے 2 سال مؤخر کر سکی، جبکہ بعض تجزیے صرف چند ماہ کی تاخیر کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایران کے پاس اب اتنی صلاحیت ہے کہ وہ فوری طور پر مراکز کو دوبارہ فعال اور منتشر کر سکتا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جو ملک حملے سے بچ جائے، وہ زیادہ مضبوط ہو کر لوٹتا ہے۔ صرف سفارت کاری ہی پائیدار تحفظ دے سکتی ہے، بمباری نہیں۔

مشہور خبریں۔

غزہ کی خواتین پر اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیاں بلاجواب رہ گئی ہیں

?️ 26 نومبر 2025 غزہ کی خواتین پر اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیاں بلاجواب رہ گئی

ہم اسرائیل کی بار بار خلاف ورزیوں کو برداشت نہیں کریں گے: نبیہ بری

?️ 2 دسمبر 2024سچ خبریں: لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری نے جنگ بندی معاہدے

امریکہ ہمیشہ سے اسرائیل اور اس کی دہشت گردی کا حامی

?️ 24 اکتوبر 2024سچ خبریں: فلسطینی مزاحمتی کمیٹیوں نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے

اسرائیل کا ایک سال کا کارنامہ؛ خواتین اور بچوں کا قتل

?️ 29 اکتوبر 2024سچ خبریں: تحریک حماس کے سینیئر رہنما طاہر النونو نے اعلان کیا

یحیی سنوار کے پوسٹ مارٹم سے کیا معلوم ہوا؟:صیہونی میڈیا کی رپورٹ

?️ 4 نومبر 2024سچ خبریں:تل ابیب نے حماس پر انسانی امداد ضبط کرنے کا الزام

ایران کے خلاف امریکی طبی ناکہ بندی انسانیت کے خلاف جرم:اقوام متحدہ میں ایرانی نائب سفیر

?️ 16 فروری 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سماجی واجتماعی ترقی کمیشن کے سالانہ اجلاس میں

صیہونی حکومت کی صدام کے جوہری پروگرام کے خلاف آپریشن سے متعلق نئی دستاویزات جاری

?️ 24 جون 2021سچ خبریں:صہیونی حکومت نے 1981 میں عراق کے اوسیراک جوہری ری ایکٹر

بائیڈن ٹرمپ سے کیوں بھاگتے ہیں؟

?️ 6 فروری 2024سچ خبریں: ٹرمپ کی جانب سے بائیڈن کو مناظرے کی پیشکش دیے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے