?️
سچ خبریں:اسرائیل خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے اور لبنان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
صیہونی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل، لبنان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے نئی سفارتی کوششوں میں مصروف ہے اور اس کا ہدف لبنانی صدر کے مؤقف کو اسرائیل کے حق میں مضبوط کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صیہونیوں کا جنوبی لبنان پر قبضے کو مستحکم کرنے کا منصوبہ
النشرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو خطے میں نئی جغرافیائی و سیاسی تبدیلیاں لانے کے لیے متحرک ہیں، جس میں لبنان کے ساتھ تعلقات کی بحالی بھی شامل ہے۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق، ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہومشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو تبدیل کر رہے ہیں۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق، تل ابیب لبنان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے پس پردہ مذاکرات میں مصروف ہے۔
صیہونی حکام کا کہنا ہے کہ لبنان کی سرحدی تنازعات کو حل کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی چینل کان نے ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل لبنانی صدر کے مؤقف کو تقویت دینا چاہتا ہے تاکہ وہ تل ابیب کے مفادات کے مطابق فیصلے کریں۔
اسرائیلی حکومت کا ماننا ہے کہ لبنان کے اندرونی سیاسی حالات اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں، اور اسرائیل اس موقع کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔
اسرائیلی حکام اس بات پر بھی زور دے رہے ہیں کہ لبنان اپنی سرحدی حدود کے متعلق مطالبات رکھتا ہے اور اسرائیل کے بھی اپنے مطالبات ہیں، جن پر مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان 1948 سے لے کر اب تک کوئی سفارتی تعلقات نہیں رہے۔
دونوں ممالک 2006 میں ایک جنگ کا سامنا کر چکے ہیں، جس میں حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف نمایاں مزاحمت دکھائی۔
لبنان کے اندر اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کی شدید مخالفت پائی جاتی ہے، خاص طور پر حزب اللہ اور دیگر مزاحمتی گروہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کی مفاہمت کے سخت خلاف ہیں۔
اسرائیل کی حالیہ کوششوں کا لبنانی عوام اور مزاحمتی محاذ کی جانب سے شدید ردعمل متوقع ہے۔
اسرائیل کو خدشہ ہے کہ لبنان میں ایران نواز حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے اثرات خطے میں اس کے مفادات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
اسرائیل کے لیے لبنان کو اپنے قریب لانا ایک دفاعی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اسرائیل عرب ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گئے،لبنان کو اس صف میں شامل کرنا اسرائیل کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہو سکتی ہے۔
لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری سرحدوں کا تنازعہ بھی اسرائیلی عزائم کا حصہ ہو سکتا ہے، کیونکہ لبنان کے سمندری علاقے میں گیس کے بڑے ذخائر موجود ہیں،اسرائیل ان وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے لبنان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا خواہشمند ہے۔
لبنانی حکومت اور حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کی سخت مخالف رہی ہیں۔
لبنان میں عوامی سطح پر بھی اسرائیل کو قابض اور دشمن ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور کسی بھی مفاہمت کو غداری سمجھا جا سکتا ہے۔
تاہم، اسرائیل لبنانی سیاسی حلقوں میں ایسے عناصر کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اس کے ساتھ مذاکرات کے حق میں ہوں۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
غزہ میں صیہونی حملوں میں شدت؛جنگ بندی میں رکاوٹ
?️ 13 جولائی 2025 سچ خبریں:غزہ میں صیہونی فضائی اور توپخانہ حملوں میں شدت آئی
جولائی
پوپ: مجھے ٹرمپ کی انتظامیہ سے کوئی خوف نہیں
?️ 13 اپریل 2026سچ خبریں: دنیا کے کیتھولک رہنما نے جنگ کی مذمت کرتے ہوئے
اپریل
قلندیا میں اسرائیلی فوج کے فلسطینی نمازیوں کے خلاف کیمپ
?️ 8 مارچ 2025سچ خبریں: جس وقت مسجد اقصیٰ میں رمضان المبارک کے پہلے جمعہ
مارچ
حالیہ صورتحال میں پاکستان کس کے ساتھ ہے؟
?️ 5 اکتوبر 2024سچ خبریں: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اسرائیل کو کسی بھی
اکتوبر
پاکستان اللہ کی نعمت، ہمیں بزرگوں کی طرح محنت کرکے کامیاب ہونا ہے۔ احسن اقبال
?️ 23 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان
مارچ
شیخ زکزاکی کی نظربندی کے بارے میں ان کی بیٹی کا بیان
?️ 28 جولائی 2021سچ خبریں:شیخ زکزاکی کی بیٹی کا کہنا ہے کہ میرے والد شیخ
جولائی
مولانا فضل الرحمان نے مرکزی مجلس شوریٰ کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا
?️ 15 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل
نومبر
قوم اور سرزمین کے دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا:شہباز شریف
?️ 12 اکتوبر 2025قوم اور سرزمین کے دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگاؔ:شہباز شریف پاکستان
اکتوبر