فرانس میں ایک بار پھر کورونا وائرس کی لہر، ملک بھر میں تیسری بار لاک ڈاؤن لگا دیا گیا

فرانس میں ایک بار پھر کورونا وائرس کی لہر، ملک بھر میں تیسری بار لاک ڈاؤن لگا دیا گیا

?️

پیرس (سچ خبریں)  فرانس میں ایک بار پھر کورونا وائرس کی شدید لہر پیدا ہوگئی ہے جس کے باعث ملک بھر میں تیسری بار لاک ڈاؤن لگا دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے ملک میں کورونا وائرس کے انفیکشن میں تیزی سے اضافے کے پیش نظر 31 مارچ بدھ کے روز پورے ملک میں تیسری بار لاک ڈاؤن کے نفاذ کا حکم دے دیا ہے، فرانس میں اس وقت جس تیزی سے نئے کووڈ 19 کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ بہت ہی جلد اسپتالوں میں جگہ باقی نہیں بچے گی۔

میکروں نے ٹیلی ویژن پر اس سے متعلق اپنے خطاب میں کہا کہ برطانوی قسم کا یہ نیا وائرس، وبا کے اندر ایک وبا کی تخلیق کر رہا تھا، جو کہیں زیادہ متعددی اور اور مہلک تھا۔

انہوں نے فرانس میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا اس وبا کی وجہ سے، بہت ہی جلد تقریباً ایک لاکھ اہل خانہ سوگوار ہو جائیں گے، اگر ہم نے اب اقدام نہیں کیے تو پھر یہ قابو سے باہر ہو جائیگا ہم ایک ریس میں داخل ہو رہے ہیں۔

فرانس کے وزیر اعظم زاں کاسٹکس ان نئے اقدامات کے حوالے سے پارلیمان میں بحث کرنے والے ہیں، فرانس کے دارالحکومت پیرس اور ملک کے بعض شمالی علاقے جو وبا سے زیادہ متاثر تھے وہاں شام سات بجے سے صبح کے چھ بچے تک جوکرفیو عائد تھا اس میں توسیع کر دی گئی ہے اور اب اس دوران پورے ملک میں کرفیو نافذ رہے گا، غیر ضروری اشیاء فروخت کرنے والے تمام اسٹور اور دکانیں بھی بند رہیں گی۔

اس کے علاوہ نئے اقدامات کے تحت گھریلو سطح پر دو مختلف مقامات کے درمیان اگر بہت ضروری نہ ہو تو سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اس کے ساتھ ہی آئندہ تین ہفتوں کے لیے تمام اسکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔صدر میکروں کا کہنا تھاکہ وائرس کی رفتار کم کرنے کا یہ سب سے بہتر طریقہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فرانس اس صورت حال میں بھی اپنے اسکول دیگر پڑوسی ملکوں کے مقابلے میں زیاہ وقت تک کھولنے میں بھی کامیاب رہا ہے۔

ابتداء میں صدر میکروں نے ملک کی گرتی معیشت کی وجہ سے جتنا ممکن ہوسکا کم بندشیں عائد کیں اور صرف زیادہ متاثرہ علاقوں میں ہی کرفیو نافذ کیا تاکہ بد حال معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا یہ فیصلہ کرنے سے قبل، ہم سے جتنا ہوسکتا تھا ہم نے کیا اور بالآخر ہمیں یہ اقدامات کرنے پڑے، اسی وبا کی وجہ سے فرانس میں گزشتہ برس اکتوبر سے ہی تمام ریستوراں، بار، جم، سنیما ہال اور میوزیم بند پڑے ہیں۔

فرانس میں منگل تک پانچ ہزار سے بھی زیادہ مریض انٹینسیو کیئر یونٹ (آئی سی یو) میں بھرتی تھے، گزشتہ گیارہ ماہ کے دوران بیک وقت آئی سی یو کے مریضوں کی یہ تعداد سب سے زیادہ ہے جبکہ فروری کے مہینے سے یومیہ انفیکشن کی شرح دوگنی، یعنی تقریبا ًچالیس ہزار ہے۔

گزشتہ روز ہی ملک میں ڈاکٹروں کی ایک قومی تنظیم نے اپنے ایک مکتوب میں صدر سے، جہاں کہیں بھی ضروری ہو حقیقی لاک ڈاؤن کے نفاذ کی سفارش کی تھی۔

یہ خط ایک مقامی میگزین میں شائع ہوا تھا، اس تنظیم کے صدر پیٹرک بوئیٹ نے لکھا، ایسا لگتا ہے کہ جیسے وبا پر ہمارا کنٹرول ختم ہو چکا ہے، وائرس جیت رہا ہے۔

پیرس میں یورپیئن اسپتال جارج پامپیڈیو کے پروفیسر فلپ جوئن نے بھی گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ بڑے صحت کے بحران سے بچنے کے لیے شاید اب ایک ہی راستہ بچا ہے کہ ملک میں دوبارہ سخت لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جائے۔

مشہور خبریں۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کل سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے

?️ 21 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایرانی صدر

بچوں کے جنسی اسمگلر کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات کے بارے میں نئی ​​دستاویزات کیا کہتی ہیں؟

?️ 14 نومبر 2025سچ خبریں: نئی دستاویزات جو حال ہی میں منظر عام پر آئی

نیتن یاہو آپ کے بچوں کا قاتل ہے: حماس کا اسرائیلی خاندانوں سے

?️ 20 فروری 2025سچ خبریں: غزہ میں 4 صہیونی قیدیوں کی لاشوں کی حوالگی کے

ایرانی صدارتی انتخابات کے خطہ پر اثرات

?️ 20 جون 2021سچ خبریں:عرب دنیا کے مشہور تجزیہ کار عبدالباری عطوان کا خیال ہے

ترکی میں اردگان کے مخالفین کے خلاف گرفتاریوں اور عدالتی سزاؤں میں اضافہ

?️ 18 فروری 2025سچ خبریں: 11 میئرز کی برطرفی، اماموگلو کو ہٹانے کی کوشش، ظفر

پی ٹی آئی عوام کے اعتماد کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہے:صدر مملکت

?️ 29 اگست 2021کراچی(سچ خبریں) صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پی ٹی

اسرائیل ایک بڑی مصیبت میں ہے: ٹرمپ

?️ 20 ستمبر 2024سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایک بار پھر امریکہ

واٹس ایپ نے  ڈبلیو ایچ او سے اشتراک کر لیا

?️ 8 اپریل 2021سان فرانسسکو(سچ خبریں) فیس بک کی زیرملکیت موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے