?️
سچ خبریں:ایک عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ایک نئے سکیورٹی معاہدے کے تحت تل ابیب کو پینٹاگون کے بعض حساس اور خفیہ نظاموں تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ اس انکشاف کے بعد واشنگٹن میں سیاسی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
عبرانی زبان کے تجزیاتی ادارے نیوز ون نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کو ایک نئے سکیورٹی معاہدے کے تحت پینٹاگون میں فعال بعض خفیہ نظاموں کی تجدید اور ترقی کے منصوبوں میں شراکت داری کی اجازت دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں اسے ان نظاموں تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے نظامی ہم آہنگی کے نام سے ایک منصوبے کے تحت اسرائیل کے تجارتی، صنعتی اور تکنیکی اداروں کو پینٹاگون سے وابستہ خفیہ منصوبوں میں تعاون کا موقع فراہم کیا ہے۔
عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے نئے تزویراتی دفاعی قانون کے تحت واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان سکیورٹی تعلقات کو صنعتی اور تکنیکی انضمام کے ایک نئے مرحلے میں داخل کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی وزارت دفاع کے ترقیاتی نظاموں میں صیہونی شمولیت مزید گہری ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں امریکی صحافی الیکس جونز کے ایک خصوصی انکشاف کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اس قانون میں غیر معمولی دفعات شامل ہیں۔ ان دفعات کے تحت صیہونی سکیورٹی اداروں کو امریکی کمپیوٹر نظاموں تک مستقل رسائی اور نگرانی کے اختیارات دیے جا سکتے ہیں، جبکہ مشترکہ منصوبوں سے حاصل ہونے والے فوائد کی تقسیم کے لیے بھی مخصوص طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ نیا معاہدہ صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بعد سامنے آیا۔
ذرائع کے مطابق نیتن یاہو نے امریکی مالی امداد پر تدریجی انحصار ختم کرنے کے بدلے پینٹاگون کے ساتھ وسیع تجارتی اور تکنیکی تعاون کی خواہش ظاہر کی تھی، جسے امریکی حکومت کی جانب سے قبول کر لیا گیا۔
نیتن یاہو نے اس معاہدے کے بارے میں دعویٰ کیا کہ نئی شراکت داری پینٹاگون کے تحقیقی مراکز میں صیہونی صنعتوں کی شرکت کو بنیادی طور پر وسعت دے گی۔
رپورٹ میں یہ بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ اس انکشاف کے بعد واشنگٹن میں شدید سیاسی بحث چھڑ گئی ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان نے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی اداروں کو امریکی معلوماتی نظاموں اور قومی کمپیوٹر نیٹ ورکس تک دی جانے والی ممکنہ رسائی کے بارے میں فوری وضاحت پیش کی جائے۔
اس اقدام کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وسیع پیمانے پر نظامی انضمام، جس میں اسرائیل میں پینٹاگون کے دفاعی اختراعی یونٹ کی ایک باضابطہ شاخ کے قیام کی بات بھی شامل ہے، تل ابیب کو امریکی تزویراتی اثاثوں پر غیر معمولی اثر و رسوخ فراہم کر سکتا ہے۔
دوسری جانب اس قانون کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ چین، روس اور ایران جیسے ممالک کے مقابلے میں عملیاتی برتری برقرار رکھنے کے لیے اس نوعیت کا تعاون ضروری ہے، جبکہ ان کے بقول تمام سائبر پلیٹ فارم سخت سکیورٹی نگرانی کے تحت کام کریں گے۔


مشہور خبریں۔
آئی ایم ایف اور پاکستان میں اسٹاف لیول معاہدہ طے
?️ 13 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور آئی ایم ایف میں اسٹاف لیول معاہدہ طے پا
جولائی
عام انتخابات: حکومت کا ہزاروں سیکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
?️ 17 جنوری 2024اسلام آباد:(سچ خبریں) بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کی روک تھام کے لیے
جنوری
شاباک احتجاج کرنے والوں کو خاموش کرنے کے لیے دہشت پھیلا رہی ہے:صیہونی میڈیا
?️ 1 جنوری 2026سچ خبریں:صیہونی چینل 12 نے رپورٹ دی ہے کہ شاباک (صیہونی سیکورٹی
77سال بعد بھی انہیں معلوم نہ ہوسکا بلوچستان کا مسئلہ کیا ہے،اختر مینگل
?️ 2 اپریل 2025مستونگ: (سچ خبریں) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کا کہنا
اپریل
برطانیہ کی جیلوں میں فلسطین کے حامیوں کی بھوک ہڑتال جاری
?️ 28 دسمبر 2025 برطانیہ کی جیلوں میں فلسطین کے حامیوں کی بھوک ہڑتال جاری
دسمبر
اسرائیل کی لبنان کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات شائع
?️ 26 نومبر 2024سچ خبریں: اسرائیل ہیوم اخبار نے پیر کی شام شائع ہونے والی ایک
نومبر
بھارت میں کورونا وائرس کا قہر جاری، مرنے والوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کرگئی
?️ 14 مئی 2021نئی دہلی (سچ خبریں) بھارت میں کورونا وائرس کا شدید قہر جاری
مئی
وزیر خارجہ نے چینی ہم منصب سے ٹیلیفون پر افغانستان پر تبادلہ خیال کیا
?️ 18 اگست 2021اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور
اگست