امریکہ میں بائیں بازو کی سوچ دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ کا باعث: امریکی تھنک ٹینک

امریکہ میں بائیں بازو کی سوچ دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ کا باعث: امریکی تھنک ٹینک

?️

امریکی بین الاقوامی اور اسٹراٹیجک مطالعاتی مرکز کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی میں امریکہ میں بائیں بازو کی سوچ مضبوط ہوئی ہےاور اس
سے جڑے دہشت گردانہ واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

امریکی بین الاقوامی اور اسٹراٹیجک مطالعاتی مرکز (CSIS) نے ایک نیا گراف جاری کیا ہے جس میں امریکہ میں نظریاتی رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں بائیں بازو کی سوچ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس کے ساتھ منسلک دہشت گردانہ حملے بھی بڑھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکہ میں ملکی دہشت گردی کی تحقیقات دوگنی ہو گئی ہیں: ایف بی آئی ڈائریکٹر

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2025 میں بائیں بازو کے حملے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، جبکہ دائیں بازو اور اسلامی شدت پسندوں کی سرگرمیاں نمایاں طور پر کم ہوئیں۔

مرکز نے اپنی تحقیق کے حصے جنگ، غیر روایتی خطرات اور دہشت گردی کے تحت بتایا کہ اگرچہ بائیں بازو سے جڑی پرتشدد سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ اب بھی دائیں بازو کے انتہاپسند گروہوں کی سرگرمیوں کے مقابلے میں کم سطح پر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، پچھلے 10 برسوں میں بائیں بازو کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوا، خاص طور پر وہ حملے جو حکومتی اور سکیورٹی اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔

مزید کہا گیا کہ سال 2025 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی پالیسیوں، اس کی سیاسی قیادت اور حکومتی اداروں کے خلاف مزاحمت نے بائیں بازو کے حملوں کو بڑھایا، تاہم، ان حملوں میں مجموعی طور پر جانی نقصان دیگر انتہاپسند گروہوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

تھنک ٹینک کے مطابق، سال 2025 کی پہلی ششماہی میں بائیں بازو کے حملے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، لیکن اس اضافے کی ایک بڑی وجہ دائیں بازو کے دہشت گردانہ حملوں میں نمایاں کمی بھی ہے۔

 رپورٹ میں کہا گیا کہ دائیں بازو کے انتہاپسند گروہوں کی روایتی ناراضگی کی بنیادیں، جیسے اسقاط حمل کی مخالفت، امیگریشن دشمنی، اور حکومتی اداروں پر عدم اعتماد، بڑی حد تک ٹرمپ حکومت نے ایڈریس کر لی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسلامی انتہاپسندوں کے حملے دہائی 2010 کے عروج کے بعد مسلسل کمی کا شکار ہیں۔ اس کی بڑی وجہ القاعدہ اور داعش جیسے بڑے گروہوں کا خاتمہ اور جہادی نظریات کی کمزور ہوتی ہوئی گرفت ہے۔

مرکز نے اپنی رپورٹ کے آخر میں لکھا کہ اگرچہ بائیں بازو کے حملے تشویش ناک ہیں، مگر دائیں بازو کی پرتشدد سرگرمیوں میں کمی شاید عارضی ہو، دہشت گردی سے مؤثر مقابلے کے لیے ضروری ہے کہ اقدامات دونوں انتہا پسند گروہوں، یعنی بائیں اور دائیں بازو، پر یکساں طور پر لاگو ہوں۔

مزید پڑھیں:امریکہ میں سیاسی کشیدگی سے داخلی بحران کا خدشہ

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چارلی کرک، ایک قدامت پسند سیاسی کارکن، ٹرمپ اور اسرائیل کے پرجوش حامی اور تنظیم Turning Point USA کے بانی، کو 10 ستمبر 2025 کو امریکی ریاست یوٹاہ کی ایک یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

مشہور خبریں۔

90 فیصد صیہونی شہریوں نے ایران جنگ کو ناکام قرار دے دیا، نیتن یاہو پر اعتماد میں کمی؛ صیہونی سروے

?️ 15 اپریل 2026سچ خبریں:یونیورسٹی عبری یروشلم سے وابستہ آگام انسٹی ٹیوٹ کے سروے کے

اسرائیل کا بائیکاٹ قریب ہے اور ہمارے لیڈر بیوقوف ہیں: ہاریٹز

?️ 26 فروری 2023سچ خبریں:عبرانی اخبار Haaretz نے بتایا کہ بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ

کوئی ادارہ غیرمنظور شدہ فنڈز خرچ نہیں کرسکتا، وزارت خزانہ

?️ 3 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزارت خزانہ نے دو صوبوں میں انتخابات

کیاجنوبی کوریا ایٹمی بم بنانے جا رہا ہے؟

?️ 11 اکتوبر 2021سچ خبریں: شاید اس اتحاد کو بچانے کا واحد راستہ جنوبی کوریا

اسرائیل یمن میں لبنان کے منظر نامے پر عمل درآمد کیوں نہیں کر سکتا؟

?️ 28 دسمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت نے امریکہ اور انگلینڈ کے ساتھ مل کر

امریکہ کی جانب سے صیہونی حکومت کی حمایت کا سلسلہ جاری

?️ 17 جولائی 2024سچ خبریں: اسپینسر ایکرمین نے ماہنامہ نیشین کے لیے ایک مضمون میں

صہیونی اخبار کا مکہ کے دفاعی معاہدے پر ردعمل

?️ 10 اگست 2026سچ خبریں: عبرانی اخبار یروشلم پوسٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی

یہ پنسل اور نوٹ بک کیا کہتے ہیں؟

?️ 15 دسمبر 2023سچ خبریں:میں اس مقام پر ان شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے