?️
سچ خبریں:امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ سہ فریقی فوجی تعاون کے ایک نئے نظام کی بنیاد فراہم کرے گا جس کی قیادت امریکہ کرے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والا فریم ورک معاہدہ واشنگٹن کی قیادت میں سہ فریقی فوجی تعاون کی راہ ہموار کرے گا، جس کا مقصد خطے میں سکیورٹی ڈھانچے اور طاقت کے توازن کو نئی شکل دینا ہے۔
الجزیرہ نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق مارکو روبیو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان یہ معاہدہ ایک مشترکہ سہ فریقی فوجی تعاون گروپ کی تشکیل کی راہ ہموار کرتا ہے تاکہ دونوں فریق اس معاہدے پر عملدرآمد کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک بار پھر لبنانی فوج کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے تاکہ یہ فوج اپنی حکومت کی حاکمیت کو پورے لبنان میں نافذ کر سکے۔
روبیو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ تنازع کے خاتمے کی سمت ایک واضح راستہ فراہم کرتا ہے اور اس کے ذریعے لبنان کی حاکمیت کی بحالی اور حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنے کا میکانزم بھی تشکیل دیا گیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق اس معاہدے کے تحت اسرائیل کو یہ موقع ملے گا کہ وہ حزب اللہ کے خطرے کے خاتمے کے بعد اپنی سرحدوں پر واپس جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک لبنانی فوج کی مدد کے لیے تیار ہے اور امریکی وزارت جنگ اپنے منظور شدہ بجٹ کے تحت لبنان کی فوج کو تیس ملین ڈالر سے زائد فراہم کرنے کے لیے آمادہ ہے۔
ان بیانات کے دوران بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، جہاں شہریوں نے اس فریم ورک معاہدے کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی۔
مظاہرین نے لبنانی حکومت کے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ معاہدے کی شدید مذمت کی۔
امریکی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں بھی دعویٰ کیا کہ پینٹاگون لبنان کی فوج کی حمایت کے لیے تیس ملین ڈالر سے زائد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ پائیدار امن کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس فریم ورک معاہدے کے نفاذ اور لبنان، اسرائیل اور پورے خطے کے لیے محفوظ مستقبل کی تشکیل کے لیے کام کرے گا۔
امریکی وزارت خارجہ نے حزب اللہ پر الزام لگایا کہ وہ امریکی مفادات اور شہریوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اسے امریکہ کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ لبنان اور اسرائیل نے اس فریم ورک کو قبول کر کے تنازع کے دائرے سے نکلنے کا ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ لبنان کی حاکمیت کو مضبوط بنانے اور مجوزہ سکیورٹی انتظامات کے نفاذ کے لیے ایک منظم راستہ فراہم کرتا ہے۔
امریکہ نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے تحت سکیورٹی خطرات ختم ہونے کے بعد اسرائیل کو اپنی سرحدوں پر واپس جانے کا موقع ملے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ اس فریم ورک کے تحت لبنان سے متعلق ایک سہ فریقی فوجی رابطہ گروپ قائم کیا جائے گا جس کی قیادت امریکہ کرے گا۔
وزارت خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ ایک طویل بحران کے خاتمے کے لیے عملی راستہ فراہم کرتا ہے اور امریکہ اس عمل میں بھرپور شمولیت جاری رکھے گا۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ واشنگٹن اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر لبنان کے لیے ایک سو ملین ڈالر کی فوری انسانی امداد فراہم کرے گا۔


مشہور خبریں۔
یمن کے شہر مأرب پر سعودی لڑاکا طیاروں کے وسیع حملے
?️ 16 دسمبر 2021سچ خبریں:سعودی جارح اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے جمعرات کو یمنی صوبے
دسمبر
سعودی اتحاد کی ایک بار پھر یمن کے موصلاتی نظام پر بمباری
?️ 1 فروری 2022سچ خبریں:سعودی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے ایک بار پھر یمن کے
فروری
ماورائے عدالت قتل آئین اور بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جسٹس اطہر من اللہ
?️ 24 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے
اکتوبر
بیرسٹر گوہر کے گھر سے کوئی سامان چوری نہیں ہوا نہ توڑ پھوڑ نہیں کی گئی، آئی جی اسلام آباد
?️ 13 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی)
جنوری
امریکی تاریخ جرائم اور لوٹ مار سے سیاہ
?️ 10 دسمبر 2021سچ خبریں: جمعرات کو ایک تقریر میں شامی صدر بشار الاسد کے
دسمبر
فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد اور ان کے سہولت کار دھرتی پر بوجھ ہیں۔ وزیر داخلہ
?️ 16 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے
جنوری
بھارتی حکومت صحافیوں کو ہراساں کرنے کیلئے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کرر ہی ہے ، محمود ساغر
?️ 2 نومبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر کے
نومبر
خلیج تعاون کونسل کے ممبر ممالک ایران کے ساتھ تعلقات قائم کریں: قطر
?️ 13 اکتوبر 2021سچ خبریں:قطری وزیر خارجہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ
اکتوبر