?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ اگر کوئی حقیقی طور پر اس بات میں دلچسپی رکھتا ہے کہ فوج کو حکومت کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے تو ہمیں سویلین اداروں کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت ہے۔
ترک نشریاتی ادارے ’ٹی آر ٹی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے نگران وزیراعظم نے کہا کہ سویلین ادارے خدمات سرانجام دینے میں ناکام رہے ہیں اور گزشتہ 4 دہائیوں میں ہماری کارکردگی خراب رہی ہے، چاہے وہ تعلیمی نظام، صحت کا معاملہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ یا ٹیکس ریونیو کا حصول ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ حکمرانی کے ناقص چیلنجز ہوتے ہیں تو واحد ادارہ جس کے پاس تنظیمی صلاحیت ہوتی ہے وہ فوج ہے، لہٰذا حکومت کے چیلنجز پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور فوجی ادارے کو اس میں شامل کرنا پڑتا ہے۔
انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ میں یقین دہانی کراتا ہوں کہ انتخابی قوتیں غیر جانبدار، منصفانہ اور آزاد ہوں گی اور انتخابی عمل میں کسی بھی ادارے یا جماعت کی مداخلت نہیں ہوگی، چاہے وہ ’ون یا بی‘ سیاسی گروپ کی حمایت میں کیوں نہ ہو۔
اس سوال پر کہ اگر انتخابات میں عمران خان کی موجودگی نہ ہوئی اور تحریک انصاف کی طرف سے 9 مئی کی طرح احتجاج ہوتا ہے تو کیا ردعمل ہوگا، اس پر نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ جہاں تک پرامن احتجاج کی بات ہے تو وہ تمام سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہے اور ہم تمام جماعتوں کے جمہوری حقوق کا تحفظ کریں گے، چاہے وہ پیپلز پارٹی ہو، مسلم لیگ (ن) ہو یا تحریک انصاف، تمام جماعتوں کے قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرنے کا حق ہے لیکن پرتشدد مظاہروں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حلقہ بندیوں کے متنازع ہونے کے خدشے پر پوچھے گئے سوال پر نگران وزیراعظم نے کہا کہ مجھے اس بات کی تشویش نہیں ہے کہ حلقہ بندیاں متنازع ہوں گی، لیکن سب سے اہم مسئلہ تھا کہ یہ ایک آئینی تقاضا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم آئینی بالادستی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں اس پر عمل کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بھی سیاسی جماعت سمجھتی ہے کہ حلقہ بندیوں کا معاملہ ہے تو اس کے لیے درست فورم قومی اسمبلی ہے، جہاں وہ قانون میں تبدیلی لا سکتے تھے لیکن کسی نے ایسا نہیں کیا، لہٰذا ہم اب اس مقام پر پھنس گئے ہیں کہ ہمیں آئین کی پاسداری کرنی ہوگی کیونکہ اگر آئین یہ تقاضا کرتا ہے کہ حلقہ بندیاں کی جائیں تو الیکشن کمیشن آف پاکستان اس پر عملدرآمد کرنے کا پابند ہے اور وہ آئین سے انحراف نہیں کر سکتے۔
عمران خان کی طرف سے حکومت گرانے کا الزام امریکا پر عائد کرنے کے حوالے سے نگران وزیراعظم نے کہا کہ یہ سازشی تھیوریاں کسی بھی سیاسی کلچر میں ہر جگہ گردش کرتی ہیں، جہاں تک مجھے یاد ہے کہ امریکا پر جو الزام لگایا گیا کہ عمران خان کی حکومت کو گرانے کے لیے امریکا نے سازش کی لیکن امریکا نے خود اس الزام کو مسترد کیا، تو میں یا کوئی اور اس سازش پر کیسے یقین کریں گے۔
انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ کئی ایشیائی ممالک میں ’امریکا مخالف‘ بیانیہ پایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کبھی کبھی سیاستدان ’مقبولیت‘ کی وجوہات کے لیے اس طرح کی چیزیں کرتے ہیں لیکن جہاں تک نگران حکومت کی بات ہے تو ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کوئی بھی ملک چاہے وہ امریکا ہی کیوں نہ ہو، ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے، ہم ایک خودمختار ملک ہیں، ہم اپنے ملکی مفادات کے تحت چیزیں کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چاہے عمران خان کی حکومت کو گرانا درست عمل تھا یا غلط، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ان کو آئینی طریقے سے ہٹایا گیا، کوئی فوجی بغاوت نہیں ہوئی، کیونکہ آئین اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کس طرح کسی حکومت کو لانا ہے اور کس طرح اس کو ہٹایا جا سکتا ہے۔
ملک کے سیاسی نظام میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر نگران وزیراعظم نے کہا کہ میں اس چیز کو خالص گورننس اسٹرکچر کے طور پر دیکھتا ہوں، پاکستانی سیاست دانوں نے اپنے مخصوص مفادات کے لیے اس ادارے سے تعلقات قائم کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تنقید آسان ہے کہ گورننس نظام میں ناکامیوں کی وجہ سول اور ملٹری تعلقات میں خرابی کو بتایا جائے، مزید کہا کہ ہمارے یہاں سویلین ادارے خدمات سرانجام دینے میں ناکام رہے ہیں اور گزشتہ 4 دہائیوں میں ہماری کارکردگی خراب رہی ہے، چاہے وہ تعلیمی نظام ہو، صحت کا معاملہ ہو، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ہو یا ٹیکس ریونیو کا حصول۔
انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ جب حکمرانی کے ناقص چیلنجز ہوتے ہیں تو واحد ادارہ جس کے پاس تنظیمی صلاحیت ہوتی ہے وہ فوج ہے، لہٰذا جو بھی حکومت کی قیادت کرتا ہے اسے روزانہ کی بنیاد پر حکومت کے چیلنجز پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور فوجی ادارے کو اس میں شامل کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک حقیقی مسئلہ ہے کہ اگر آپ اسے حل کرنا چاہتے ہیں اور کوئی حقیقی طور پر اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ فوج کو ریاست کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے تو ہمیں سویلین اداروں کی صلاحیت کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی اقدامات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں اس حوالے سے یہ بات کرنا چاہوں گا کہ افغانستان میں امریکا۔نیٹو اتحاد کے ذریعے دو دہائیوں تک افغانستان میں رہا اور کھربوں روپے خرچ کیے اور اس دوران پاکستان کے لیے بھی سیکیورٹی کے مستقل چیلنجز رہے اور ہم گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کے حملوں کا سامنا کر رہے ہیں اور ہم کچھ حد تک دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
نگران وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، پاکستانی واحد قوم ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف کے جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان، بھارت کے ساتھ تعلقات کو مختلف تناظر میں دیکھتا ہے، پاکستان کو معاشی مسائل کا سامنا رہا ہے تو بھارتی حکومت بھی معاشی مسائل کا شکار ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔


مشہور خبریں۔
دوائی کے بجائے چاکلیٹ؛ تل ابیب دنیا کو کیسے دھوکہ دے رہا ہے؟
?️ 10 نومبر 2025سچ خبریں: قدس نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق، صہیونی ریاست ضروری
نومبر
انصاراللہ کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ، سعودی عرب نے مجبور ہو کر جنگ بندی کی پیشکش کردی
?️ 23 مارچ 2021 ریاض (سچ خبریں) یمنی تنظیم انصاراللہ کی جانب سے سعودی عرب
مارچ
2022 میں اسرائیل کے خطرناک چیلنج
?️ 31 دسمبر 2021سچ خبریں: صیہونی فوجی ماہر نے 2022 کے موقع پر صیہونی حکومت کو
دسمبر
کیا گوگل کی مدد سے جلد کے امراض کی تشخیص ممکن ہے؟
?️ 19 جون 2021نیویارک(سچ خبریں) گوگل کی جانب سے حال ہی میں مصنوعی ذہانت کی
جون
ظلم سے نجات کیلئے قوم کو آسلام اباد کی طرف کال کیلئے تیار رہنا ہوگا، حافظ نعیم الرحمان
?️ 29 دسمبر 2024لوئر دیر: (سچ خبریں) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا
دسمبر
مولانا فضل الرحمٰن اقتدار سے دوری کا غم دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں:فردوس عاشق
?️ 21 مارچ 2021لاہور(سچ خبریں)معاون خصوصی برائے وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نےپی ڈی
مارچ
لبنان کے حوالے سے واشنگٹن اور تل ابیب کی نئی حکمت عملی
?️ 4 اپریل 2025سچ خبریں: معارف اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے
اپریل
اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے والے جہنمی ہیں۔ حافظ طاہر اشرفی
?️ 11 نومبر 2025لاہور (سچ خبریں) چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے
نومبر