?️
واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بارے میں اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا 9/11 سے پہلے افغانستان سے اپنی افواج کو مکمل طور پر واپس بلا لے گا۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رپورٹر کو بتایا کہ بائیڈن اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ 11 ستمبر سے افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ بائیڈن مغربی اتحادیوں سے رابطے کے بعد تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا بدھ کو اعلان کریں گے اور صرف محدود تعداد میں محافظوں کو وہاں رکھا جائے گا تاکہ وہ امریکی سفارتی تنصیبات کی حفاظت کر سکیں۔
بائیڈن نے انخلا کو زمینی حقائق سے مشروط نہیں کیا جہاں بین الاقوامی حمایت یافتہ افغان حکومت کے مقابلے میں طالبان کی جانب سے زیادہ فوائد اٹھائے جانے کا خطرہ ہے۔
امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ صدر جو بائیڈن کا ماننا ہے کہ مشروط سوچ پر گزشتہ دو دہائیوں سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور اگر اس پر عمل جاری رکھا گیا تو ہم ہمیشہ کے لیے افغانستان میں ہی رہ جائیں گے لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ امریکا اپنی ترجیحات کو تبدیل کرے۔
امریکی انخلا کی خبر سے چند گھنٹے قبل ہی امریکی خفیہ اداروں نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا افغانستان سے مکمل طور پر انخلا کی پالیسی پر عمل کرتا ہے تو طالبان کے خلاف افغان حکومت کی بقا خطرات سے دوچار ہو جائے گی۔
سابق امریکی صدر کا بھی امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے گزشتہ سال 20 فروری کو طالبان کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت یہ طے کیا گیا تھا کہ مئی 2021 تک افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلا ہو جائے گا، اس معاہدے کے بدلے میں طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ وہ القاعدہ یا کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی حمایت نہیں کریں گے۔
امریکی عہدیدار نے کہا کہ انخلا کا یہ عمل مئی کے مہینے میں شروع ہو گا اور اس سلسلے میں التوا سفری ساز و سامان کی وجہ سے ہو گا اور ممکنہ طور پر یہ عمل بھی 11 ستمبر تک مکمل کر لیا جائے گا، انہوں نے طالبان کو خبردار کیا کہ اگر اس عمل کے دوران ان پر حملہ کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم طالبان کو باور کرا چکے ہیں کہ وہ انخلا کے عمل کے دوران امریکا یا اس کے اتحادیوں پر حملے کا نہ سوچیں کیونکہ بصورت دیگر امریکا بھرپور جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ادھر امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے منگل کو جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان پراعتماد ہیں کہ وہ فوجی فتح حاصل کر لیں گے۔
اس سلسلے میں کہا گیا کہ افغان فورسز نے اہم شہروں اور سرکاری اداروں کے تحفظ کا عمل جاری رکھا ہوا ہے لیکن وہ محض دفاعی حد تک ایسا کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور انہیں پہلے سے قبضے میں موجود علاقوں کو چھڑانے اور ان پر اپنی رٹ برقرار رکھنے میں چیلنج کا سامنا ہے۔
امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے افغانستان کے عوام پہلے ہی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور انہوں نے طالبان کے واپس اقتدار میں آنے کے خطرے کا اظہار کیا ہے۔


مشہور خبریں۔
ایران نے امریکہ کے خلاف عاقلانہ مزاحمت کا مظاہرہ کیا: عمرو موسی
?️ 1 جولائی 2026سچ خبریں: عمرو موسی، سابق سیکرٹری جنرل عرب لیگ، نے خلیج فارس کے
جولائی
امریکہ کا بیلاروس کے 32 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان
?️ 3 دسمبر 2021سچ خبریں:امریکی محکمہ خزانہ نے بیلاروس کے 20 افراد اور 12 اداروں
دسمبر
نوری المالکی: میں عراقی وزیراعظم کی امیدواری سے دستبردار نہیں ہوں گا
?️ 23 فروری 2026سچ خبریں: عراقی حکومت برائے قانون اتحاد کے سربراہ نوری المالکی نے
فروری
فتح کے کمانڈروں نے مغرب کے منصوبوں کو ناکام بنایا
?️ 1 جنوری 2023سچ خبریں: عراقی سنی علماء کی تنظیم کے سربراہ خالد عبدالوہاب
جنوری
مشرق وسطیٰ کی جنگیں جھوٹ پر مبنی ہیں: برازیل کے صدر
?️ 19 اپریل 2026 سچ خبریں:برازیل کے صدر لوئس اناسیو لولا دا سلوا نے پروگریسو
اپریل
جہنم میں جاؤ: یوکرائن کا مغرب کو خطاب !
?️ 26 مئی 2022سچ خبریں: سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور ایک سینئر جیو
مئی
ٹرانس جینڈر بچوں کیلئے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ قائم کیا جائے، وفاقی شرعی عدالت
?️ 15 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانسجینڈر پرسن (حقوق کا
دسمبر
سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد کے ویٹو ہونے پر حماس کا ردعمل
?️ 24 مارچ 2024سچ خبریں: حماس نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ سلامتی کونسل
مارچ