کیا ایران ایٹم بم بنا رہا ہے؟سی آئی کے ڈائریکٹر کا بیان

کیا ایران ایٹم بم بنا رہا ہے؟سی آئی کے ڈائریکٹر کا بیان

?️

سچ خبریں: سی آئی اے کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کی طرف بڑھنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ویلیام برنز نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے فیصلے کے بارے میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہیں تو ہمارے پاس بھی ہونے چاہئیں: بن سلمان

این بی سی نیوز کے مطابق باوجود اس کے کہ میڈیا میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے ساتھ کشیدگی کے دوران جوہری ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیا ہے، برنز نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے ایسا کوئی فیصلہ کیا ہوتا تو امریکہ اور اس کے اتحادی اسے ممکنہ طور پر جلد ہی معلوم کر لیتے۔

ایران کی جانب سے اسرائیل کے خلاف میزائل حملے کے بعد، تل ابیب کے ردعمل کی قیاس آرائیاں بڑھ گئیں ہیں جبکہ تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے کوئی کارروائی کی تو اسے اس سے کہیں زیادہ شدید جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

برنز نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو ہتھیار بنانے کے قریب تر سطح پر پہنچا دیا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ جلد ہی اتنی مقدار میں مواد پیدا کرنے کے قابل ہو سکتا ہے جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہو تاہم انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج تک، کوئی ایسا ثبوت موجود نہیں ہے جو یہ ظاہر کرے کہ ایران نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا ہے۔

برنز نے 2018 میں امریکہ کے ایران جوہری معاہدے (برجام) سے نکلنے کا حوالہ دیتے ہوئے مغربی دعوے کو دہرایا کہ ایران بم بنانے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برجام سے پہلے ایران کو بم بنانے کے لیے کافی یورینیم جمع کرنے میں ایک سال سے زیادہ وقت لگتا، مگر اب ایران کے پاس یہ صلاحیت ممکنہ طور پر ایک ہفتے یا اس سے تھوڑا زیادہ وقت میں دستیاب ہو سکتی ہے۔

برنز نے ایران کے جوہری پروگرام کی نگرانی کے حوالے سے زور دیا کہ آج بھی کوئی ایسا ثبوت موجود نہیں ہے جو ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے ارادے کی نشاندہی کرے۔

یاد رہے کہ صیہونی حکومت کے غزہ اور پھر لبنان پر وحشیانہ حملوں کے بعد، جن میں لبنان میں محدود زمینی آپریشن کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر ویلیام برنز نے اس صورتحال کے بارے میں کہا کہ ہم اس وقت خطے میں جنگ کے مزید بڑھنے کے سنگین خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔

برنز کے مطابق اگرچہ تہران اور تل ابیب مکمل جنگ کے خواہاں نہیں ہیں لیکن ایک خطرہ بدستور موجود ہے،انہوں نے اسرائیل اور مغربی دعووں کو دہراتے ہوئے، ایران کی جانب سے مقبوضہ علاقوں پر کیے گئے دو میزائل حملوں (وعدہ صادق1 اور 2 آپریشنز ) کی ناکامی کا ذکر کیا اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کو محدود قرار دیا۔

مزید پڑھیں: ایران کے جوہری پروگرام میں ہتھیاروں کے ہونے کا کوئی ثبوت نہیں : سی آئی اے کے سربراہ کا اعتراف

تاہم انہوں نے زور دیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کی یہ صلاحیتیں تباہ کن نہیں ہیں، برنز نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ کو بھی انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

مشہور خبریں۔

مشرقی شام میں امریکی اڈوں پر ڈرون حملہ

?️ 7 جولائی 2021سچ خبریں:المیادین چینل کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز شام کے

روس کے ساتھ تجارت کے لیے متحدہ عرب امارات پر مغربی دباؤ

?️ 2 مئی 2024سچ خبریں: برطانوی دفتر خارجہ کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکہ،

اسرائیلی کشتیوں پر حملے روکنے کے لیے یمنی حکومت کی شرط

?️ 18 دسمبر 2023سچ خبریں: یمن کی انصار اللہ کے ترجمان نے صیہونی حکومت کی

ایران جنگ کے باعث عالمی معیشت شدید خطرے میں؛ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا انتباہ

?️ 23 مارچ 2026سچ خبریں:بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی آبنائے ہرمز سے متعلق نشست ملتوی

?️ 3 اپریل 2026سچ خبریں: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی آبنائے ہرمز کے بارے

روس کا اسرائیل کے خلاف بیان

?️ 25 فروری 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت کی جانب سے یوکرائن کی حمایت کرنے پر روس

حکومتی کمیٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات شروع

?️ 23 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف اور حکومتی کمیٹی کے درمیان

شرم‌الشیخ معاہدہ کیوں طے پایا؟

?️ 12 اکتوبر 2025سچ خبریں:شرم‌الشیخ میں طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ، دراصل حماس کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے