آئی ایم ایف معاہدے کے بعد کاروباری برادری کو سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے کی امید

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) کاروباری برادری نے آئی ایم ایف کے ساتھ نو ماہ کے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی معاہدے پر دستخط کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ معاہدہ بےیقینی کو ختم اور مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرے گا جس کی معیشت کو بحال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے چیئرمین زبیر موتی والا نے ڈان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسٹاف کی سطح کا معاہدہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام لائے گا، روپے اور ڈالر کی قیمت میں موجود فرق میں استحکام لاتے ہوئے اسٹاک مارکیٹ پر مثبت اثرات مرتب کرے گا۔

تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پروگرام سے پیداواری لاگت بڑھ سکتی ہے جس سے پوری تاجر برادری خوفزدہ ہے اور حکومت کو اس تشویش کو دور کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

زبیر موتی والا نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ امریکی ڈالر اپنی اصل قیمت پر نیچے آجائے گا، اس طرح غذائی افراط زر کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی جبکہ شرح سود کو بھی نیچے لایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسٹاف کی سطح کے معاہدہ کے بعد دوست ممالک اور کثیرالجہتی ڈونر ممالک سے آنے والی رقم حکومت کو مالیاتی طور پر کچھ جگہ فراہم کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مالیاتی جگہ کو یہ دیکھنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے کہ ہمارا تجارتی اکاؤنٹ کچھ اس طرح پھیلے کہ ملک کی برآمدات اور ادائیگیوں میں توازن کو برقرار رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ ترسیلات زر لانے، برآمدات کو بڑھانے اور پیداواری لاگت اور کاروباری لاگت اپنے علاقائی حریفوں کے برابر لاکر برآمدات کو قابل عمل بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔

زبیر موتی والا نے صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیلز ٹیکس اور مقامی ٹیکسز اور لیویز کے ڈیوٹی ڈرا بیک کی تیزی سے واپسی کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کی جانی چاہئیں۔

پاکستان بزنس کونسل کے چیف ایگزیکٹو احسان ملک نے کہا کہ لیکویڈیٹی کے فرق کو پورا کرنے کے لیے اسٹاف کی سطح کا معاہدہ خوش آئند ہے اور اس کے مرحلہ وار اجرا کے بعد حکومت کو آئی ایم ایف کی جانب سے طے شدہ خطوط کے اندر ذمہ دارانہ راستے پر گامزن رہنا چاہیے۔

تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کو یہ یقین ہے کہ بجٹ سے ٹیکس کی بنیاد وسیع ہو گئی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے، موجودہ ٹیکس دہندگان بشمول تنخواہ دار ملازمین کے ساتھ اس کو مزید وسیع کیا گیا ہے جن پر زیادہ شرح کا ٹیکس لگایا گیا ہے اور ٹیکس نہ دینے والے یا کم دینے والے ریٹیل، ہول سیل اور ریئل اسٹیٹ مالکان کو زیادہ تر چھوڑ دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صنعت کو توانائی کے زیادہ ٹیرف کا نقصان بھی اٹھانا پڑے گا اور ایسا یہ سوچ کر کیا جاتا ہے کہ زیادہ شرحیں تقسیم کے نقصانات، چوری اور کم ریکوری کا پائیدار حل ہیں جو گردشی قرضے کی اصل وجوہات ہیں، آئی ایم ایف کی طرف سے سرکاری اداروں کے نقصانات کی وجہ سے اس کو روکنے کے لیے کوئی خاطر خواہ مطالبہ نہیں کیا گیا، اس کے علاوہ حیران کن طور پر اس بات کی بھی توقع ہے کہ درآمدات میں نرمی کی جاسکتی ہے، آخرکار 3.5 ارب ڈالر کے زرمبادلہ سے یہ سب کیسے ممکن ہے۔

احسان ملک نے کہا کہ یقینی طور پر رسمی شعبے میں صنعت کو زیادہ پالیسی ریٹ کا نقصان اٹھانا پڑے گا، حالانکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ پالیسی ریٹ لاگت کو بڑھانے والی افراط زر کو روکنے کا صحیح حل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعت کو ہر طرف سے دباؤ کا سامنا رہے گا اور ہم آہستہ آہستہ سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کو مار رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹینڈ بائی کریڈٹ ڈیفالٹ کے خطرے کو مزید بڑھا دیتا ہے، 3 ارب ڈالر کی سہولت اگلے 12 ماہ میں بیرونی قرضوں کی سروسز کے لیے درکار 20 ارب ڈالر سے زیادہ کا خیال نہیں رکھے گی۔

مشہور خبریں۔

عالمی تیل منڈی پرسعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے اثرات

?️ 27 مارچ 2021سچ خبریں:بلومبرگ نیوز نے اطلاع دی ہے کہ یمنی فورسز کے سعودی

صیہونی حکومت کی انڈونیشیا کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش

?️ 22 نومبر 2021سچ خبریں:  مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق بحرین میں اسرائیلی سفارت خانے

غزہ میں قتل عام کی تفصیلات

?️ 27 نومبر 2023سچ خبریں: غزہ میں موت اور تباہی کے ہولناک مناظر اس بات

2023 میں اسرائیل سے ریورس مائیگریشن کا سب سے زیادہ ریکارڈ

?️ 23 ستمبر 2024سچ خبریں: اسرائیل کے شماریاتی مرکز کا حوالہ دیتے ہوئے واللا نیوز

موساد کے 15 جاسوس ترکی میں گرفتار

?️ 22 اکتوبر 2021سچ خبریں: ترک انٹیلی جنس سروس ترک سکیورٹی فورسز نے صیہونی حکومت کو

ہفتہ وار مہنگائی بدستور 42.60 فیصد کی بُلند سطح پر

?️ 22 دسمبر 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قلیل مدتی مہنگائی سالانہ بنیادوں پر 21 دسمبر

موساد کے طیارے کی ریاض میں لینڈنگ

?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:صہیونی چینل کے سیاسی امور کے تجزیہ کار شمعون آران نے

فیس بک پر ’فرینڈز‘ ٹیب پیش

?️ 30 مارچ 2025سچ خبریں: سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر صارفین کو دوستوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے