?️
سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کو ہر حال میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایران سے متعلق اپنے موقف کو دہرایا اور بغیر کسی نرمی کے کہا کہ ہم نے ایران کو بتا دیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی صورت ہمارے ساتھ مذاکرات کرے، حالانکہ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے ایران پر سخت شرائط اور یکطرفہ پابندیاں عائد کیے جانے کی پالیسی کو بین الاقوامی حلقے تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یمنی مزاحمت کاروں (انصار اللہ) پر حملوں کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ حوثی فرار اختیار کر رہے ہیں اور امریکی افواج نے ان کے بدترین عناصر کو ہلاک کر دیا ہے۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب بحر احمر میں امریکی بحریہ کو انصار اللہ کے حملوں کا سامنا ہے، اور امریکہ نے مزید جنگی بحری جہاز مشرق وسطیٰ روانہ کیے ہیں۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ حوثیوں کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ یمنی رہنما متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ وہ آزادانہ فیصلے کرتے ہیں اور کسی ملک کی کٹھ پتلی نہیں ہیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور پیش رفت ہو رہی ہے،ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے جو جنگ کو ختم کر سکے، اور اس سلسلے میں کچھ ممالک امریکہ کی معاونت بھی کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات پر بھی اہم گفتگو جاری ہے، جس میں امریکہ کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے بحیرہ اسود سے متعلق غلات کے معاہدے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔ یہ معاہدہ روس، یوکرین، ترکی اور اقوام متحدہ کے درمیان جولائی 2022 میں ہوا تھا، لیکن روس-یوکرین جنگ کی شدت کی وجہ سے اس کی مدت مختصر رہی۔
ٹرمپ نے روس پر عائد امریکی پابندیوں پر بھی بات کی اور کہا کہ ان پابندیوں میں ممکنہ نرمی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی پر نظرثانی ضروری ہے۔
ٹرمپ کے بیانات ایک بار پھر ان کی جارحانہ خارجہ پالیسی کو اجاگر کرتے ہیں، جس میں زور زبردستی، الزام تراشی اور دباؤ ڈالنے کے روایتی حربے نمایاں ہیں۔
ان کے دعوے زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتے، خاص طور پر یمن میں انصار اللہ کی مزاحمت کے حوالے سے، جو نہ صرف برقرار ہے بلکہ بڑھتی بھی جا رہی ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
ایران کے منہ توڑ جواب کے بعد صیہونی بے گھر ہیں
?️ 1 جولائی 2025سچ خبریں: اسلامی جمہوریہ ایران کے جوابی اقدامات کی وجہ سے ایران
جولائی
ہمیں ایک ہائبرڈ دہشت گرد حملے کا نشانہ بنایا گیا:قزاقستان
?️ 10 جنوری 2022سچ خبریں:قزاقستان کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ اس ملک میں
جنوری
طلباء تحریک نے کیسے امریکی صیہونی آمریت کو کیسے مٹی میں ملایا ہے؟
?️ 2 مئی 2024سچ خبریں: ایک عرب ماہر عمرانیات نے لکھا ہے کہ امریکہ میں
مئی
عوام کی بھی ایک عدالت ہے، عوامی طاقت سے ہم یہ ترمیم ختم کریں گے
?️ 13 نومبر 2025 اسلام آباد: (سچ خبریں) چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان
نومبر
پاکستان کی اقوام متحدہ میں طالبان اور داعش خراسان دہشت گرد گروپوں کو اسلحہ کی فراہمی پر تنقید
?️ 12 نومبر 2025سچ خبریں:پاکستان نے اقوام متحدہ میں افغان دہشت گرد گروپوں کو غیرقانونی
نومبر
سپیکر قومی اسمبلی نے جوڈیشل کمیشن ممبر کیلئے نام بھجوا دیا
?️ 20 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے جوڈیشل
نومبر
بعض عرب ممالک کو اسلحے کی فروخت بڑھانے کی صہیونی کوششیں
?️ 24 جولائی 2022سچ خبریں:صیہونی حکومت عرب ممالک کی اسلحے کی منڈی میں اپنی موجودگی
جولائی
فلسطینی اتھارٹی کاتل ابیب پر بین الاقوامی دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
?️ 12 دسمبر 2021سچ خبریں:فلسطینی اتھارٹی کے محکمہ خارجہ نے صیہونی حکومت کو آبادکاری روکنے
دسمبر