امریکہ اور روس کے درمیان 12 گھنٹے کے طویل مذاکرات میں کیا ہوا؟وائٹ ہاؤس کی زبانی

امریکہ اور روس کے درمیان 12 گھنٹے کے طویل مذاکرات میں کیا ہوا؟وائٹ ہاؤس کی زبانی

?️

سچ خبریں:امریکہ اور روس کے درمیان سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والے 12 گھنٹے طویل مذاکرات پر وائٹ ہاؤس نے ایک مختصر بیان جاری کرتے ہوئے اہم نکات پر روشنی ڈالی ہے،ان مذاکرات کا مرکزی محور یوکرین میں جاری جنگ اور بحیرہ اسود کی صورت حال رہا۔

رشیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والے مذاکرات میں خاص طور پر بحیرہ اسود میں محفوظ جہاز رانی، روس اور یوکرین کی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو روکنے سے متعلق معاہدے اور بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں کے فوجی مقاصد کے لیے استعمال سے بچاؤ جیسے اہم نکات زیر بحث آئے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان ایک اہم پیش رفت یہ رہی کہ دونوں فریقوں نے بحیرہ اسود میں کشیدگی میں کمی لانے اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ امریکہ روسی زرعی مصنوعات اور کیمیکل کھاد کی عالمی منڈی تک رسائی کو بحال کرنے میں تعاون پر آمادہ ہے۔
اس کے ساتھ ہی، سمندری بیمہ کے اخراجات میں کمی، بندرگاہوں تک رسائی، اور مالیاتی ادائیگی کے نظام کو بہتر بنانے پر بھی گفتگو کی گئی ہے تاکہ روسی برآمدات کو آسانی سے عالمی منڈی تک پہنچایا جا سکے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، دونوں ممالک طویل المدت اور پائیدار امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہیں تاکہ یوکرین میں جنگ کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
قبل ازیں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی تصدیق کی تھی کہ ان مذاکرات کا ایک اہم مقصد "غلات کے معاہدے” (بحیرہ اسود کی پہل) کو بحال کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا تھا، جو اقوام متحدہ اور ترکیہ کی ثالثی میں جولائی 2022 میں طے پایا تھا۔
ریاض میں ہونے والے یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یوکرین جنگ کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل، اور خوراک کی رسد پر گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔ امریکہ اور روس کے درمیان اس نوعیت کی پیش رفت عالمی سطح پر ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے، اگرچہ مکمل اعتماد کی بحالی اور جنگ بندی کے لیے ابھی کئی رکاوٹیں باقی ہیں۔

مشہور خبریں۔

لبنان کے خلاف صیہونی جارحیت پر سعد حریری کا ردعمل

?️ 24 ستمبر 2024سچ خبریں: لبنان کے سابق وزیر اعظم نے صیہونی حکومت کے جنوبی

بھارت خطے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کی پشت پناہی کررہا ہے۔ پاکستان

?️ 8 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت خطے اور

اگر دشمن جنگ کو طول دے گا تو فلسطینی کیا کریں گے؟

?️ 17 نومبر 2023سچ خبریں: حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ نے اس بات پر

امریکہ اور نیٹو نے سلامتی کی ضمانتوں سے متعلق روس کے خدشات کو نظر انداز کیا: کریملن

?️ 27 جنوری 2022سچ خبریں: دمتری پیسکوف نے آج کہا کہ کہ ایسا نہیں ہے

کلاچی میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 7 خوارج ہلاک

?️ 15 دسمبر 2025راولپنڈی (سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی

اسد عمر کی جانب سے عمران خان کی پالیسیوں پر تنقید، پی ٹی آئی برہم

?️ 20 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے رہنما اسد

طالبان کی یونیورسٹیوں میں خواتین کے داخلہ پر پابندی پر اقوم متحدہ کا ردعمل

?️ 23 دسمبر 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے ایک بیان میں طالبان کی

حزب اللہ کا شدید ترین ڈرون حملہ، ہم کچھ نہ کر سکے؛ صیہونی ذرائع کا اعتراف

?️ 14 مئی 2026سچ خبریں:صیہونی فوجی ذرائع نے حزب اللہ کے طاقتور ڈرون حملے پر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے