نیتن یاہو کا بیٹا قید ہوتا تو جنگ کب کی رک چکی ہوتی:صہیونی قیدی 

نیتن یاہو کا بیٹا قید ہوتا تو جنگ کب کی رک چکی ہوتی:صہیونی قیدی 

?️

سچ خبریں:غزہ میں موجود صیہونی قیدی نے وڈیو پیغام میں اسرائیلی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر نیتن یاہو یا اس کے وزرا کے بیٹے قید ہوتے، تو جنگ فوری طور پر روک دی جاتی، قیدی نے کابینہ پر جان بوجھ کر قیدیوں کو نظرانداز کرنے کا الزام بھی لگایا۔

غزہ میں قید ایک صیہونی فوجی قیدی نے حالیہ وڈیو پیغام میں اپنی زندگی کو لاحق خطرات اور اسرائیلی حکومت کی بے حسی پر شدید تنقید کی ہے، اس وڈیو کو فلسطینی تنظیم حماس کی عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز نے جاری کیا ہے۔
 اس وڈیو میں قیدی نے اعتراف کیا کہ اسرائیلی بمباری سے بچنے کے بعد وہ دوبارہ زیر زمین پناہ گزین ہوا لیکن وہاں بھی دوبارہ بمباری کا نشانہ بنا۔
قیدی نے خود کو قیدی نمبر 24 کہہ کر متعارف کرایا اور کہا کہ میری زندگی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔
 ہمیں دوبارہ جنگ بندی کے بعد بمباری کا نشانہ بنایا گیا، اگر نتنیاہو یا اس کے کسی وزیر کا بیٹا یہاں قید ہوتا، تو جنگ بہت پہلے ختم ہو چکی ہوتی، لیکن چونکہ ہم عام قیدی ہیں، ہمیں زیرزمین ہی مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔
وڈیو میں قیدی کے جسم پر بمباری کے نشانات اور پٹیوں کے نشانات واضح تھے، اس نے کہا کہ اسے دوا تک دستیاب نہیں اور اسپتال جانا ممکن نہیں،مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میرا ساتھی، جو میرے ساتھ تھا، زندہ ہے یا مر چکا۔
قیدی نے اسرائیلی کابینہ پر الزام لگایا کہ وہ جنگ کے نام پر صرف اپنی سیاسی پوزیشن کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، نہ کہ قیدیوں کو واپس لانا۔
 نیتن یاہو کہے گا کہ یہ وڈیو  سائیکولوجیکل وار فیئر ہے لیکن اصل جنگ تو میرے دل و دماغ میں ہے، ہو سکتا ہے یہ میری زندگی کی آخری وڈیو ہو، جو میرے والدین اور بچوں کے لیے باقی رہ جائے۔
وڈیو کے آخر میں القسام بریگیڈز نے واضح کیا کہ یہ قیدی صرف تب آزاد ہوں گے جب تبادلہ ہوگا، وقت ختم ہو رہا ہے۔
ادھر تل ابیب میں اسرائیلی وزارت جنگ کے دفتر کے سامنے قیدیوں کے اہل خانہ نے پریس کانفرنس کی، ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں شدت نہ صرف زندہ قیدیوں کو مار دے گی بلکہ مردہ قیدیوں کی لاشیں بھی ملبے میں تباہ ہو جائیں گی۔
ایک رشتہ دار نے کہا کہ یہ جنگ دراصل قیدیوں کو قتل کرنے کے لیے لڑی جا رہی ہے، نہ کہ ان کی رہائی کے لیے۔ ہمیں اس کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔
ایک اور اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ذخیرہ افواج کو دوبارہ جنگ میں جھونکنے کی مہم، صرف قیدیوں کی موت کا باعث بنے گی۔ نتنیاہو ثابت کر چکا ہے کہ قیدیوں کی رہائی اس کی ترجیح نہیں، اور ہمارے بچوں کی جانیں اس کے لیے اہم نہیں۔

مشہور خبریں۔

داعش کی نئی نسل کہاں پروان چڑھ رہی ہے؟

?️ 13 جون 2023سچ خبریں:عراق کے قومی سلامتی کے مشیر نے اس ملک اور دنیا

ناصر باغ لاہور کی شناخت ہے ، اسے کیوں چنا گیا ، اسے چھیڑنے سے پہلے دس بار سوچنا چاہئے تھا‘لاہور ہائیکورٹ

?️ 19 دسمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے سموگ تدارک کے حوالے سے درخواستوں

امریکی ریاست واشنگٹن میں فائرنگ؛ 2 افراد ہلاک، 5 زخمی

?️ 27 جولائی 2026سچ خبریں:امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیئٹل سینٹر میں فائرنگ کے واقعے

ہم پوٹن کو یوکرین میں شکست دیکھنا چاہتے ہیں: پینٹاگون

?️ 9 اپریل 2022سچ خبریں:  روسی وزارت دفاع کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ

یوکرین کے شہر خارکیف میں دھماکہ

?️ 9 اکتوبر 2022سچ خبریں:    خبر رساں ذرائع نے ہفتے کی صبح مشرقی یوکرین

امریکی کمانڈر نے افغانستان میں داعش کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کا دعویٰ کیا

?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:   سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو انٹرویو دیتے ہوئے، مغربی

بھارت کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے ہر وحشیانہ حربہ استعمال کر رہا ہے، حریت رہنما

?️ 17 جنوری 2024سرینگر: (سچ خبریں)  بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

کیا اسرائیل جنگ بندی پر راضی ہو گا ؟

?️ 21 نومبر 2023سچ خبریں:Yediot Aharanot اخبار نے ایک نوٹ میں اعتراف کیا ہے کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے