ایران کے خلاف جنگ کے عالمی اثرات؛ امریکی فوجی ذخائر میں کمی، خلیجی معیشتوں پر دباؤ اور واشنگٹن کی ساکھ کو دھچکا

ایران کے خلاف

?️

سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے اثرات عالمی ذرائع ابلاغ میں نمایاں ہو رہے ہیں۔ امریکی میزائل دفاعی ذخائر میں کمی، سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات، عالمی معیشت پر دباؤ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے نتائج پر مغربی، چینی اور روسی میڈیا نے تشویش ظاہر کی ہے۔

امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے آغاز سے اب تک نہ صرف اس کارروائی کے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے، بلکہ مغربی حکام اور امریکی ذرائع ابلاغ کے اعترافات کے مطابق، حملہ آوروں کو تزویراتی تعطل اور میدان جنگ و سیاست میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ جنگ وسیع حملوں اور معصوم شہریوں، بشمول بے گناہ طلبہ، کے قتل عام سے شروع ہوئی اور تیزی سے انسانی، سلامتی اور اقتصادی بحران کی وسیع صورت اختیار کر گئی۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں مختلف نوعیت کے ردعمل سامنے آئے ہیں۔

دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے اپنے اپنے زاویۂ نظر سے اس جنگ کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان تجزیوں اور رپورٹوں کا جائزہ جنگ کی حقیقی صورت حال اور اس کے ممکنہ مستقبل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

برطانوی اور امریکی ذرائع ابلاغ

ایران کے خلاف جنگ سے خلیج فارس میں عدم استحکام بڑھا، سعودی سلامتی بھی خطرے میں

امریکی جریدے دی نیشن (The Nation) میں شائع ہونے والے ایک تجزیہ میں ڈیوڈ فاریس نے استدلال کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی جنگ نہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، بلکہ اس کے نتیجے میں خلیج فارس میں عدم استحکام بڑھا اور سعودی عرب کی سلامتی کی کمزوریاں بھی نمایاں ہو گئیں۔

تجزیہ کار کے مطابق، یمن کی جانب سے ظہران میں سعودی آرامکو کی تنصیبات اور ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے، نیز عراق میں قائم ایک مسلح گروہ کی جانب سے سعودی تیل کی پائپ لائن کو نشانہ بنانا، جنگ کے پھیلتے ہوئے اثرات کی نشانیاں ہیں۔

فاریس کے خیال میں سعودی عرب ایک سال پہلے نسبتاً مضبوط پوزیشن میں تھا اور ٹرمپ انتظامیہ سے قربت کے ذریعے اپنے علاقائی مقاصد آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن اب اسے اپنی سلامتی اور ترقیاتی حکمت عملی کے حوالے سے ایک سنگین بحران کا سامنا ہے۔ انہوں نے امریکہ میں اہم نوعیت کے گولہ بارود کی کمی کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ بظاہر اس کمی نے واشنگٹن کے علاقائی اتحادیوں کو بھی میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کے مقابلے میں کمزور کر دیا ہے۔

تجزیہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یمن ایران سے آزاد ہو کر اپنے فیصلے کرتا ہے۔ تاہم، تجزیہ کار کے مطابق، بعض معاملات میں یمنی مفادات خلیج فارس میں امریکی سلامتی کی پوزیشن کمزور کرنے کی ایرانی کوششوں سے ہم آہنگ ہو گئے ہیں۔ ان کے تجزیے کے مطابق، حملوں کا تسلسل ٹرمپ انتظامیہ پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ بڑھا سکتا ہے، جبکہ یمن کے اپنے مقاصد کو بھی آگے بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔

فاریس اس صورت حال کو امریکی فوجی برتری کے تاثر کے کمزور ہونے کی علامت قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، خلیجی عرب ممالک اب ایک مشکل انتخاب سے دوچار ہیں: آیا وہ واشنگٹن پر انحصار جاری رکھیں یا تہران کے ساتھ کسی مفاہمت کے امکان پر غور کریں۔ ان کا خیال ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی ان ممالک کے لیے سابقہ سلامتی کے انتظامات کی طرف لوٹنا آسان نہیں ہوگا۔

تجزیہ کار نے بحری ناکہ بندی اور پابندیوں کے ذریعے ایران کو کمزور کرنے کی امریکی حکمت عملی کو ایسی پالیسی کا تسلسل قرار دیا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ایران میں حکومت کی تبدیلی کے مقصد میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے موجودہ جنگ کا 2003 میں عراق پر امریکی حملے سے موازنہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ فوجی مداخلت کے نتائج منصوبہ سازوں کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سلامتی کا خلا دوسرے فریقوں کے لیے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔

تجزیہ کے مجموعی جائزے میں ایران کے خلاف جنگ کو علاقائی عدم تحفظ میں اضافے، امریکی ساکھ کے کمزور ہونے اور خلیجی ممالک کے سلامتی سے متعلق حساب کتاب مزید پیچیدہ ہونے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔

ایران کے خلاف جنگ پر امریکہ کے اخراجات 45.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے

امریکی ادارے ٹیکس پیئرز فار کامن سینس (Taxpayers for Common Sense) نے 15 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والے ایک تجزیہ میں ایران کے ساتھ جنگ کے براہ راست اور بالواسطہ اخراجات کا جائزہ لیا اور امریکی کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ پینٹاگون کے بجٹ کو محدود کرکے جنگ کے لیے مالی وسائل کی فراہمی روکنے کے اقدامات کرے۔

تجزیہ کے مطابق، پینٹاگون نے 3 ستمبر تک جنگ کے اخراجات کا تخمینہ 45.1 ارب ڈالر لگایا تھا۔ یہ رقم کانگریس کے بجٹ دفتر کے یکم اگست تک کے 38.1 ارب ڈالر کے تخمینے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار میں خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات شامل نہیں ہیں۔

جنگ کے بالواسطہ اخراجات میں قومی قرض پر بڑھتا ہوا سود، مہنگائی، سابق فوجیوں کے مستقبل کے فوائد سے متعلق اخراجات اور ایندھن، خوراک اور گھریلو قرضوں کی لاگت میں اضافہ شامل ہے۔

تجزیہ میں جس تجزیے کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کے مطابق جنگ کے اضافی اخراجات اب تک ہر امریکی گھرانے کے لیے تقریباً 2000 ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

تجزیہ میں امریکہ کے گولہ بارود کے ذخائر میں کمی کو دنیا کے دوسرے خطوں میں اس کی دفاعی صلاحیت اور دشمنوں کو روکنے کی قوت کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان ذخائر کی دوبارہ تکمیل میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

تجزیہ کار کے مطابق، سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان دوبارہ بڑھنے والی کشیدگی بھی امریکہ پر مزید مالی بوجھ ڈال سکتی ہے، خصوصاً اس صورت میں جب موجودہ دفاعی معاونت براہ راست جارحانہ فوجی کارروائیوں میں شرکت میں تبدیل ہو جائے۔

تجزیہ کے آخری حصے میں تجزیہ کار نے استدلال کیا ہے کہ امریکی کانگریس جنگی اختیارات سے متعلق قانونی ذرائع استعمال کرکے اب تک جنگ کے خاتمے کی ضمانت دینے میں ناکام رہی ہے۔

اسی لیے انہوں نے قانون سازوں کو تجویز دی کہ وہ غیر معمولی طور پر بڑے دفاعی بجٹ کی مخالفت کریں، فوجی کارروائیوں کے لیے محدود نگرانی کے تحت نئے مالی وسائل فراہم کرنے کی راہ روکیں اور پینٹاگون کے اخراجات کم کرنے کے لیے دباؤ بڑھائیں۔

ایران جنگ سے پہلے ہی امریکی میزائل دفاعی ذخائر کی کمی پر انتباہ دیا گیا تھا

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز (CBS News) کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، امریکی بری فوج کے اس وقت کے سربراہ جنرل رینڈی جارج نے دسمبر 2025 میں، ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے 2 ماہ قبل، میزائل دفاعی گولہ بارود کی شدید کمی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، پینٹاگون کے عالمی افواج کی تعیناتی کے منصوبے میں شامل ان کے جائزے میں کہا گیا تھا کہ پیٹریاٹ اور تھاڈ (THAAD) میزائل دفاعی نظاموں کے انٹرسیپٹرز کے ذخائر 2030 تک بھی کم سطح پر رہیں گے۔ جنرل جارج کو اپریل 2026 میں، جنگ جاری رہنے کے دوران، ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مرکز (CSIS) کے تخمینے کے مطابق، جنگ سے پہلے امریکہ کے پاس تقریباً 2300 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز اور 355 تھاڈ انٹرسیپٹرز موجود تھے۔

جنگ کے دوران 1050 سے 1430 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز اور 190 سے 290 تھاڈ انٹرسیپٹرز استعمال کیے جا چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار جنگ سے پہلے موجود ذخائر کے بالترتیب تقریباً 61 فیصد اور 82 فیصد کے استعمال کے برابر ہو سکتے ہیں۔

نئے انٹرسیپٹرز کی فراہمی میں بھی طویل وقت درکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پی اے سی-3 (PAC-3) انٹرسیپٹرز کے آرڈرز کی فراہمی میں تقریباً 3 سال اور 6 ماہ، جبکہ تھاڈ نظام کے لیے 4 سال اور 5 ماہ لگ سکتے ہیں۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ یہ کمی صرف ایران کے ساتھ جنگ کا نتیجہ نہیں۔ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی، اسرائیل کے دفاع کے لیے انٹرسیپٹرز کا استعمال، دفاعی صنعت کی محدود پیداواری صلاحیت اور پینٹاگون کی جانب سے کئی دہائیوں تک بعض بڑے فوجی سازوسامان کو ترجیح دینا، اس مسئلے کے جمع ہونے کی اہم وجوہات ہیں۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ نے بڑے پیمانے پر تیزی سے گولہ بارود تیار کرنے کی اپنی صلاحیت کم کر دی۔ اس کے علاوہ، کمپنیوں کے انضمام کے نتیجے میں ایرو اسپیس اور دفاعی صنعت کے بڑے ٹھیکے داروں کی تعداد 51 سے کم ہو کر 5 رہ گئی۔

سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ اگر موجودہ تنازعات میں ان ہتھیاروں کا مزید استعمال روک بھی دیا جائے تو جنگ سے پہلے کی کم سطح تک ذخائر دوبارہ بحال کرنے میں بھی 2030 تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

آئی ایم ایف کا انتباہ: مشرق وسطیٰ کی جنگ علاقائی معیشتوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کا تسلسل اور توانائی کی پیداوار، بحری راستوں اور اہم بنیادی ڈھانچے میں مزید ممکنہ رکاوٹیں مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی معیشتوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

اس ادارے کے شعبۂ مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے سربراہ نے زور دیا کہ جنگ کے اقتصادی اثرات پورے خطے میں یکساں نہیں ہیں۔ جو ممالک براہ راست اس کے نتائج سے متاثر ہوئے ہیں، انہیں زیادہ شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

فنڈ کی پیش گوئی کے مطابق، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان کی معیشت 2026 میں 1.3 فیصد سکڑ جائے گی، جبکہ گزشتہ سال اس خطے کی اقتصادی شرح نمو 3.3 فیصد رہی تھی۔

آئی ایم ایف نے 2027 کے لیے 6.6 فیصد اقتصادی نمو کی پیش گوئی کی ہے، تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا سال کی پہلی سہ ماہی میں تجارت اور بحری آمدورفت معمول پر آ جاتی ہے، سال کے وسط تک برآمدات بتدریج بحال ہو جاتی ہیں اور تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں۔

آئی ایم ایف کے عہدیدار نے کہا کہ جنگ سے پہلے موجود اقتصادی اضافی وسائل، توانائی کی منتقلی کے متبادل راستوں، طلب میں کمی اور ذخائر کے استعمال نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونے والے صدمے کے کچھ اثرات کو محدود کرنے میں مدد دی ہے۔

تاہم، ان حفاظتی وسائل کی گنجائش محدود ہے۔ ذخائر میں کمی اور اضافی پیداواری صلاحیت گھٹنے کے باعث نئی رکاوٹیں قیمتوں میں مزید شدید اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔

فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ 2027 میں اقتصادی نمو بہتر ہونے کے باوجود جنگ کے اثرات بنیادی ڈھانچے اور معیشت کے مختلف شعبوں پر برقرار رہیں گے اور تعمیر نو کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔

اس کے علاوہ، جنگ سے براہ راست متاثر ہونے والے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی پیداوار میں 2027 کے دوران اقتصادی بحالی کے باوجود، جنگ سے پہلے کے درمیانی مدت کے تخمینوں کے مقابلے میں کمی برقرار رہنے کی توقع ہے۔

چین اور روس کے ذرائع ابلاغ

روسی میڈیا: عالمی معیشت لڑکھڑا رہی ہے، ایک نیا طوفان آنے والا ہے

روس کے عربی نشریاتی نیٹ ورک آر ٹی عربی (RT Arabic) نے عالمی معیشت لڑکھڑا رہی ہے اور ایک طوفان آنے والا ہے کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اس جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران نے عالمی معیشت کو مہنگائی میں اضافے، اقتصادی نمو میں کمی اور قرضوں کے بحران میں شدت کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اب تک عالمی معیشت کی مزاحمت کی صلاحیت کو تیل کے ذخائر، مصنوعی ذہانت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور چین کی سستی اشیا کی برآمدات نے سہارا دیا ہے۔ تاہم، توانائی کے ذخائر میں کمی اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے تسلسل سے یہ صورت حال تبدیل ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کی کفایت شعاری کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ کثیرالجہتی تعاون کی کمزوری اور تجارتی تحفظ پسندی میں اضافے نے اقتصادی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے حکومتوں کی صلاحیت محدود کر دی ہے۔

اس تجزیے کے مطابق، اگر مشرق وسطیٰ کی جنگ جلد ختم نہ ہوئی اور تیل کی قیمتیں کم نہ ہوئیں تو عالمی معیشت کو طویل عرصے تک عدم استحکام اور مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

چینی میڈیا: سعودی عرب اور یمنی فورسز کے درمیان کشیدگی، علاقائی طاقتیں محتاط

چین کی خبر رساں ایجنسی شینہوا (Xinhua) نے سعودی عرب اور یمنی فورسز کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی فریق اپنے مفادات اور تنازعے میں شدت کے خطرے کے درمیان توازن قائم کر رہے ہیں کے عنوان سے رپورٹ شائع کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے نے علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کو ایسے مختلف طریقے اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے جن کے ذریعے وہ بحران پر اثرانداز ہو سکیں، لیکن کسی وسیع تر جنگ میں براہ راست شامل ہونے سے بچ سکیں۔

رپورٹ میں ایران کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران کی جانب سے سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات شروع کرانے اور سیاسی حل تک پہنچنے میں سہولت فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔

شینہوا کے مطابق، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یمنی فورسز کا سیاسی اور فوجی ایجنڈا آزادانہ ہے اور ان کے فیصلے صرف تہران کی خواہشات کے تابع نہیں ہیں۔ تاہم، ایران اپنے اثر و رسوخ کو سفارتی کردار مضبوط بنانے اور براہ راست تصادم روکنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

شینہوا نے اسرائیلی اخبار ہارٹص کی اس رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ صہیونی حکومت نے یمنی فورسز کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شرکت کی درخواست کی تھی، لیکن سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس تجویز کی مخالفت کی۔

رپورٹ کے مطابق، ریاض اب بھی تل ابیب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے مسئلۂ فلسطین کے حل کو شرط قرار دیتا ہے۔

چینی خبر رساں ایجنسی نے مکہ دفاعی معاہدے اور سعودی عرب کے لیے ترکیہ اور پاکستان کی حمایت کا بھی جائزہ لیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ حمایت بنیادی طور پر سعودی عرب کی فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہو سکتی ہے، لیکن اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ یہ ممالک وسیع پیمانے پر جنگ میں شامل ہو جائیں گے۔

دوسری جانب، امریکہ سعودی عرب کی حمایت اور توانائی کی عالمی منڈیوں پر کشیدگی کے اثرات کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ خطے میں ایک اور طویل جنگ میں پھنسنے سے بھی گریز کرنا چاہتا ہے۔

مشہور خبریں۔

پہلگام حملہ مقبوضہ کشمیرمیں سیاحت کے لیے بڑا دھچکا ہے،میرواعظ

?️ 30 مئی 2025سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ

عوام کیلئے خوشخبری ،پٹرول13اور ڈیزل 8روپے سستا ہونے کا امکان

?️ 13 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) عوام کیلئے خوشخبری،حکومت کا پٹرولیم مصنوعات میں عوام

مقبوضہ مغربی کنارہ اور بیت المقدس ایک بار پھر صیہونی جارحیت کا شکار

?️ 4 مارچ 2023سچ خبریں:صیہونی قابض فوج نے جمعے کے روز مغربی کنارے اور مقبوضہ

تل‌آبیب کی نابلس میں فلسطینی زمینوں پر قبضے کی نئی کوششیں

?️ 21 نومبر 2025 تل‌آبیب کی نابلس میں فلسطینی زمینوں پر قبضے کی نئی کوششیں

پاکستان مسلم لیگ ن نے پنجاب میں ضمنی انتخابات کیلئے امیدواروں فائنل کرلیے

?️ 26 اکتوبر 2025لاہور (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ ن نے پنجاب میں ضمنی انتخابات

تم طالبان کے سروں پر ہاتھ رکھنا چھوڑ دو،یہ ٹھیک ہوجائیں گے

?️ 15 مئی 2021سچ خبریں:افغان صدر نے جرمنی کے اسپیگل میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے

نام نہاد انتخابات حق خود ارادیت کا ہرگز متبادل نہیں، حریت رہنما

?️ 11 ستمبر 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں

افغانستان میں امریکی فوج کی کمان کرنے والے جنرل نے جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے اہم قدم اٹھالیا

?️ 13 جولائی 2021کابل (سچ خبریں) افغانستان میں امریکی فوج کی کمان کرنے والے جنرل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے