فرانس کا صیہونیوں کو عسکری امداد پہنچانے کا خفیہ حربہ

فرانس کا صیہونیوں کو عسکری امداد پہنچانے کا خفیہ حربہ

?️

سچ خبریں:فرانس بظاہر خود کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کا ثالث  ظاہر کرتا ہے، مگر درحقیقت اس کی سلامتی پالیسی اسرائیل اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ ہے۔

فرانس بظاہر خود کو مشرقِ وسطیٰ میں توازن اور صلح کی آواز کے طور پر پیش کرتا ہے، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ اس کی سیکیورٹی پالیسی واشنگٹن اور لندن کے ایجنڈے سے ہم‌آہنگ ہے، سرکاری طور پر اسلحہ کی ترسیل سے انکار کے باوجود، دفاعی کمپنیوں اور خفیہ معاہدوں کے ذریعے تل‌ابیب کو عسکری تعاون جاری ہے۔

حال ہی میں فرانسیسی سینیٹ کی سرکاری ویب‌سائٹ پر ایک تحریری سوال شائع ہوا جس میں حکومت سے وضاحت طلب کی گئی کہ آیا فرانسہ اسرائیل کو اسلحہ یا فوجی سازوسامان فراہم کر رہا ہے؟

یہ بھی پڑھین:فرانس کا اسرائیل سے صمود بیڑاے کے کارکنوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ

سینیٹ کے اس سوال میں کہا گیا کہ متعدد رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب جانے والی فوجی نقل‌وحمل اور سازوسامان کی ترسیل دیکھی گئی ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ حکومت واضح کرے کہ آیا یہ اقدامات فرانسہ کی خارجہ پالیسی اور انسانی حقوق کے اصولوں سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔

فرانس کا سرکاری مؤقف

اس سوال کے جواب میں فرانسیسی حکومت نے کہا کہ اسرائیل کی طرف کسی قسم کی براہِ راست فوجی ترسیل یا پرزوں کی منتقلی نہیں کی گئی۔ فرانسہ بین‌الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے صرف جائز دفاعی تعاون کرتا ہے۔

مزید کہا گیا کہ فرانسہ کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات صرف اطلاعاتی اشتراک، انسداد دہشتگردی، اور علاقائی سلامتی جیسے شعبوں میں ہیں — اور فی الحال کوئی نیا ہتھیاروں کا براہ راست معاہدہ زیرِ عمل نہیں۔

عوامی دباؤ اور سیاسی دوگانگی

یہ وضاحت ایسے وقت میں آئی جب فرانسیسی عوام اور بائیں بازو کے ارکانِ پارلیمان نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ غزہ میں انسانی بحران کے پیشِ نظر اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کا عسکری تعاون بند کیا جائے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ پیرس اور تل‌ابیب کے تعلقات نہ صرف برقرار ہیں بلکہ غیرمستقیم صنعتی اور دفاعی معاہدوں کے ذریعے مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

خفیہ صنعتی و دفاعی نیٹ ورک

فرانسہ دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ برآمد کنندگان میں شامل ہے، اور Dassault Aviation، Thales، MBDA جیسی کمپنیاں برسوں سے اسرائیلی اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔
یہ تعاون صرف اسلحہ فروخت تک محدود نہیں بلکہ ٹیکنالوجی شیئرنگ، پارٹس پروڈکشن اور تین‌جانبہ معاہدوں (خصوصاً امریکہ کے ذریعے) تک پھیلا ہوا ہے۔

اس طرح، اگرچہ فرانسیسی حکومت "براہِ راست ترسیل” سے انکار کرتی ہے، مگر نجی کمپنیوں کے صنعتی معاہدوں کے ذریعے تل‌ابیب کو جنگی سہولیات مسلسل پہنچ رہی ہیں۔

مغرب کے ساتھ گٹھ‌جوڑ

بطور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور نیٹو کے کلیدی رکن، فرانسہ کے لیے یہ تقریباً ناممکن ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں واشنگٹن سے مختلف پالیسی اختیار کرے۔
فرانسیسی وزارتِ خارجہ کے مطابق اسرائیل کی سلامتی، مغربی نظام کا حصہ ہے — یہی وہ جملہ ہے جو اس کی اصل حکمتِ عملی کی بنیاد کو ظاہر کرتا ہے۔

اسی منطق کے تحت، پاریس نے امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ مل کر غزہ کے معاملے میں تل‌ابیب کو انٹیلیجنس، لاجسٹک اور ٹیکنالوجیکل مدد فراہم کی ہے۔

امن کی آڑ میں جنگی تعاون

صدر امانوئل ماکرون کے حالیہ بیانات — جن میں انہوں نے "اسرائیل اور غزہ کے لیے امن کی ضرورت” پر زور دیا — اسی دوغلی پالیسی کا حصہ ہیں۔
بیرونی سطح پر امن‌پسند چہرہ، اور پسِ پردہ اسرائیل کے فوجی ڈھانچے کی تقویت؛ یہی فرانسہ کی "نرم طاقت” (Soft Power) کی اصل شکل بن چکی ہے۔

مزید پڑھیں:فرانسیسی تحقیقاتی ادارے نے اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے کا انکشاف کیا

تجزیہ‌کاروں کے مطابق، یہ دوہری سیاست فرانسہ کے لیے عالمی سطح پر اعتباری بحران پیدا کر رہی ہے، خاص طور پر عرب ممالک اور انسانی حقوق کے اداروں کی نظر میں، جہاں اسے ایک ریاکار "امن‌ساز” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

حکومت پنجاب کا کسانوں کیلئے 15 ارب روپے کے امدادی گندم پیکیج کا اعلان

?️ 16 اپریل 2025لاہور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کسانوں کے لیے امدادی

غریب عوام کو گھر، روٹی پانی اور کپڑے کے خواب ہی دیکھائے جارہے ہیں

?️ 30 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں کامیاب پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے

غزہ کے بچوں کی مانگ

?️ 11 مارچ 2024سچ خبریں: فلسطینی بچوں کی بڑی تعداد نے غزہ کی پٹی میں

ڈالر کی قدر میں کمی

?️ 10 اگست 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مزید

اسرائیل اور سعودی عرب دوستی کا مقصد، خطے میں امن اور خوشحالی یا اسلام کے ساتھ غداری؟؟؟

?️ 4 اپریل 2021(سچ خبریں) حال ہی میں سعودی عرب کے ایک وزیر نے اسرائیل

برلن کا نیا چیلنج: جرمنوں کی فوجی دفاعی شرکت میں کمی

?️ 5 اگست 2025سچ خبریں: برسلز کے فوجی بجٹ میں اضافے اور شمالی اٹلانٹک ٹریٹی

آئی ٹی پارکس سمیت دیگر کمپنیوں کو بلاتعطل انٹرنیٹ فراہمی کیلئے پالیسی فریم ورک پر کام شروع

?️ 18 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ملک بھر کے آئی ٹی پارکس، سافٹ ویئر

واٹیکان میں مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی

?️ 28 دسمبر 2023سچ خبریں:غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کے حملوں کی مذمت میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے