?️
سچ خبریں:چین اور ویتنام اس ماہ اپنی پہلی مشترکہ فوجی مشق کا انعقاد کر رہے ہیں، جو "جادو کی تلوار ” کے نام سے جاری امریکی-آسٹریلوی مشقوں کے درمیان خطے میں طاقت کے توازن کو نئی جہت دے سکتی ہے۔ کیا یہ اقدام بیجنگ اور ہانوی کی نئی اسٹریٹجک صف بندی کی علامت ہے؟
چین اور ویتنام رواں ماہ ایک سرحدی علاقے میں اپنی پہلی مشترکہ فوجی مشق کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب بحرہند و الکاہل کے خطے میں جیوپولیٹیکل کشیدگیاں بڑھ رہی ہیں اور دونوں ممالک امریکی تجارتی پالیسیوں کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
چین کی وزارت دفاع نے گزشتہ روز (اتوار) ایک بیان میں اعلان کیا کہ یہ فوجی مشق دونوں ممالک کی افواج کے درمیان عملی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کی جا رہی ہے، مشق کا مقام چین کے جنوبی علاقے گوانگشی میں ہوگا جو ویتنام کے ساتھ سرحدی خطے پر واقع ہے۔
یہ اپنی نوعیت کی پہلی زمینی فوجی مشق ہو گی، حالانکہ دونوں ممالک ماضی میں مشترکہ سمندری گشت کر چکے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک — جن پر کمیونسٹ پارٹیاں حکمران ہیں — کے درمیان حالیہ مہینوں میں دفاعی روابط مزید گہرے ہوئے ہیں۔
ویتنام، جو عالمی برآمدات میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے، نے گزشتہ سال امریکہ کے ساتھ تیسرا بڑا تجارتی منافع حاصل کیا تھا۔ تاہم، جولائی کے اوائل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ویتنامی مصنوعات پر 20 فیصد ٹیرف کے اعلان نے ہانوی کو حیران کر دیا،ویتنام اب واشنگٹن کو ان محصولات میں نرمی پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب، ویتنام چین کو اپنا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی مانتا ہے اور بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنا چاہتا ہے، ٹرمپ کے اعلان کے بعد چین کی وزارت تجارت نے کہا تھا کہ وہ ویتنام کے ساتھ تجارتی صورتِ حال کا "جائزہ” لے رہا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے رواں سال اپریل میں ویتنام کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان "یکطرفہ بدمعاشی” سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دیا تھا۔
چین اور ویتنام کی یہ مشترکہ مشق ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب آسٹریلیا اور امریکہ کی قیادت میں بڑی فوجی مشق "جادو کی تلوار ” جاری ہے، جو 22 جولائی سے شروع ہو کر 13 اگست تک جاری رہے گی۔ اس میں 19 ممالک کے 35 ہزار سے زائد اہلکار شریک ہیں، جب کہ ویتنام اور ملائیشیا ان مشقوں میں مبصر کی حیثیت سے شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، چین-ویتنام مشق خطے میں نئی اسٹریٹجک صف بندی کا اشارہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ خطے میں اپنے اتحادی نیٹ ورک کو مستحکم کر رہا ہے اور ویتنام احتیاط سے توازن کی پالیسی پر کاربند ہے۔
مزید پڑھیں:چین اور فلپائن کے درمیان نئی کشیدگی
مبصرین کا ماننا ہے کہ چین اور ویتنام کی یہ مشترکہ مشق صرف فوجی سرگرمی نہیں بلکہ معاشی خدشات اور سکیورٹی تناؤ کے تناظر میں اسٹریٹجک ردعمل ہے۔ چین کے لیے یہ مشق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے بڑھتے اثرات کے مقابل توازن پیدا کرنے کی کوشش ہے، جب کہ ویتنام اپنے تجارتی مفادات اور علاقائی تحفظات کے بیچ ایک محتاط راستہ اپنا رہا ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
روس کے خلاف امریکی پروپیگنڈے میں شدت
?️ 8 فروری 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ میں روس کے نائب مستقل نمائندے نے کہا کہ
فروری
غزہ جنگ بندی کے سلسلہ میں حزب اللہ کا بیان
?️ 21 مئی 2021سچ خبریں:لبنان کی حزب اللہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے القدس
مئی
روس: ہم نے طویل عرصے سے فلسطینیوں کے حقوق کو تسلیم کیا ہے
?️ 23 ستمبر 2025سچ خبریں: روس کے نائب وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ
ستمبر
آئینی عدالت کے قیام سے وفاق مضبوط ہوا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ
?️ 1 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے
جنوری
کورونا وائرس نے 13 کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کردیا، 28 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے
?️ 5 اپریل 2021جنیوا (سچ خبریں) کورونا وائرس نے دنیا بھر میں شدید قہر مچا
اپریل
تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرتے ہوئے، مودی اور پوٹن نے امریکی دباؤ کا جواب دیا
?️ 9 اگست 2025سچ خبریں: ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن
اگست
تائیوان میں معاملے میں چین کا ایک بار پھر امریکہ کو انتباہ
?️ 13 جنوری 2022سچ خبریں:چین نے امریکی میڈیا پر دھوکہ دھی کا الزام عائد کرتے
جنوری
ایک ہفتے میں 10 لاکھ سے زائد امریکی بچے کورونا کا شکار
?️ 27 جنوری 2022سچ خبریں: امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس کا کہنا ہے کہ 20 جنوری
جنوری