?️
سچ خبریں:امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق میں اپنے نئے نمائندے کے طور پر مارک ساوایا کو بطور خصوصی صدارتی ایلچی مقرر کیا ہے۔
امریکہ نے دسمبر 2024 سے اب تک بغداد میں نیا سفیر نہیں بھیجا اور اب عراقی نژاد مارک ساوایا کو بطور خصوصی ایلچی مقرر کیا ہے، سیاسی ماہرین کے مطابق یہ اقدام صرف ایک سفارتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی پیغام ہے کہ واشنگٹن عراق کے سیاسی مستقبل کو لبنان اور شام جیسا غیرمستحکم اور متزلزل دیکھ رہا ہے، اسی لیے سفیر کے بجائے ایک خصوصی ایلچی بھیجا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:عراق سے اپنی فوجیں نکالنے میں امریکہ کا وقت کی بچت
آخری امریکی سفیر ایلینا رومانوفسکی تھیں جنہوں نے عراقی داخلی سیاست میں براہِ راست مداخلت کی کوششوں کے باعث شدید تنازعات کو جنم دیا،انہوں نے 2021 کے انتخابات کے بعد، مقتدی صدر، محمد الحلبوسی، اور مسعود بارزانی کے درمیان اتحاد بنانے کی کوشش کی تاکہ وزارتِ عظمیٰ شیعہ بلاک سے چھینی جا سکے، مگر وہ ناکام رہیں، رومانوفسکی کی متنازع بیانات اور الحشد الشعبی کے خلاف سخت موقف کے باعث وہ عراقی میڈیا اور عوامی تنقید کا نشانہ بنیں اور بالآخر دسمبر 2024 میں بغداد چھوڑ گئیں۔
ان کے بعد امریکہ نے سفیر کی بجائے ناظم الامور (Charge d’Affaires) کے ذریعے سفارت خانہ چلانے کا فیصلہ کیا،پہلے اسٹیو فاگین جو یمن میں سفیر اور ایران ڈیسک کے سابق سربراہ تھے،کو عارضی طور پر بغداد بھیجا گیا،بعد ازاں جون 2025 میں جوشوا ہریس نے ان کی جگہ لی۔ ہریس داعش مخالف اتحاد میں امریکی نمائندے کے طور پر سرگرم رہے تھے، جس سے یہ تاثر ابھرا کہ واشنگٹن عراق کو اب بھی ایک سکیورٹی فائل کے طور پر دیکھتا ہے، نہ کہ ایک خودمختار شراکت دار کے طور پر۔
ٹرمپ نے عراقی نژاد کلدانی تاجر اور مشیگن ریاست میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کے معاون رہنے والے مارک ساوایا کو سفیر نہیں بلکہ خصوصی صدارتی ایلچی برائے عراق مقرر کیا ہے، یہ تقرری دراصل سیاسی وفاداری کے انعام کے طور پر کی گئی ہے۔
واشنگٹن میں مبصرین کے مطابق، ایلچی کے بجائے سفیر نہ بھیجنے کا مطلب ہے کہ امریکہ عراق کے ساتھ تعلقات کو کم ترجیح دے رہا ہے،یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بغداد نے پچھلے دو سالوں میں واشنگٹن کے ساتھ قریبی تعاون کیا حتیٰ کہ امریکی دباؤ پر الحشد الشعبی کے قانونی بل کو بھی مؤخر کر دیا گیا۔
امریکی پالیسی حلقوں میں اس تقرری کو اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ واشنگٹن عراق کو شام اور لبنان کی طرح سیاسی بحران زدہ اور غیرمستحکم ملک تصور کرتا ہے لہٰذا، وہاں ایک ایسا نمائندہ مقرر کیا گیا ہے جو صدر کے براہِ راست احکامات کے تحت کام کرے یعنی، ایک سیاسی ایلچی جس کے پاس روایتی سفیر سے زیادہ اختیارات ہوں۔
سفارتی روایات میں کسی ملک میں سفیر نہ بھیجنا تعلقات کے درجے میں کمی (downgrade) کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
اس طرح، ٹرمپ نے عراق کو یہ پیغام دیا ہے کہ واشنگٹن موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں اور ممکنہ طور پر مستقبل میں عراق کے سیاسی نقشے میں مداخلت کے نئے منصوبے رکھتا ہے۔
یہ فیصلہ صرف عراق تک محدود نہیں، بلکہ ٹرمپ کی نئی سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے وہ روایتی ڈپلومیٹس پر اعتماد نہیں کرتے اور عموماً قریبی کاروباری شخصیات یا وفادار سیاسی حامیوں کو خارجہ نمائندے کے طور پر تعینات کرتے ہیں،ان کا ماننا ہے کہ پیشہ ور سفارت کار امریکی مفادات کی بجائے بروکریٹک پالیسیوں کے پابند ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں:امریکہ عراق میں اپنے سفارت کاروں کو واپس بھیجے گا
ریپبلکن حامی چینل فاکس نیوز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ مارک ساوایا کا پہلا ہدف عراق اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی (Normalization) ہوگا۔
اگر یہ درست ہے، تو ٹرمپ انتظامیہ بغداد کو تل ابیب کے قریب لانے کی کوشش میں ہے، ایک ایسا ایجنڈا جو عراق کے اندر سخت عوامی مخالفت کا سامنا کرے گا۔


مشہور خبریں۔
اسرائیل کے 95 فیصد سیکورٹی مسائل ایران سے آتے ہیں: نیتن یاہو
?️ 10 مئی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کے
مئی
پاکستانی ڈپٹی اسپیکر کی اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات،اہم امور پر تبادلہ خیال
?️ 20 فروری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم
فروری
سعودی عرب سے معاہدہ ایک رات میں طے نہیں پایا، اس میں کئی ماہ لگے۔ اسحاق ڈار
?️ 19 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے
ستمبر
مسئلہ صرف کرپشن کا نہیں سسٹم میں موجود خامیوں کا بھی ہے،سپریم کورٹ
?️ 13 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطاء بندیال نے نیب
دسمبر
آئینی ترامیم کا معاملہ: مولانا فضل الرحمٰن کو منانے کے لیے حکومت اور اپوزیشن کی کوششیں جاری
?️ 15 ستمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم پر درکار ووٹوں
ستمبر
لاپتہ ہونے والے 2 امریکی فوجی کہاں گئے؟
?️ 22 جنوری 2024سچ خبریں: CENTCOM نے اعلان کیا ہے کہ صومالی پانیوں میں لاپتہ
جنوری
صہیونی فوج کے اڈے میں دراندازی
?️ 21 مارچ 2025سچ خبریں: عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ نے اسرائیلی فوج کے ترجمان کے
مارچ
غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے منظرنامے؛ کیا جنگ دوبارہ شروع ہوگی؟
?️ 2 مارچ 2025سچ خبریں: آج، ہفتہ، یکم مارچ کو غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے
مارچ