امریکہ کی عالمی حکمرانی میں ناکامی

امریکہ کی عالمی حکمرانی میں ناکامی

?️

سچ خبریں:چین، روس اور ایران کی مشترکہ اپیل اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو بتاتی ہے کہ عالمی قوانین میں تبدیلی کی سمت کس طرح عالمی نظام کے یک قطبی سے کثیر قطبی ہونے کی طرف جا رہی ہے۔

چین، روس اور ایران کے مشترکہ خط نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں عالمی قانون کی تبدیلی کی سمت کا ایک واضح نمونہ پیش کیا ہے۔

عالمی سطح پر موجودہ تبدیلیوں کا تجزیہ واضح طور پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ بین الاقوامی حکمرانی کا نظام یک قطبی سے کثیر قطبی کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ یہ تبدیلی یورپ، مغربی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکہ جیسے اسٹریٹجک علاقوں میں بھی نظر آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی نظام کی تبدیلی کے عمل میں شہید سلیمانی کے چار حقائق

اس تاریخی تبدیلی میں، چین نے تیزی سے اپنی اقتصادی طاقت اور ترقی کی بدولت بین الاقوامی نظام میں ایک نیا ابھرتا ہوا قطب بن کر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد چین نے غیر جانب داری کی پالیسی اختیار کی تھی جس نے اسے بین الاقوامی سطح پر ایک آزاد کھلاڑی بنایا تھا اور اس کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

لیکن اب چین نے اپنی غیر جانب داری کی پالیسی کو فعال کردار میں تبدیل کر لیا ہے اور یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ چین عالمی نظام میں تبدیلی کے لیے ضروری قوت کا حصہ بن چکا ہے، خاص طور پر امریکہ کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے۔

 اس جیوپولیٹیکل پس منظر میں چین نے ایران کی جغرافیائی اہمیت اور ایران کے ضد استکباری موقف کو سمجھا ہے اور اسے مغربی ایشیا کے امور میں ایک تبدیلی کی طاقت کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

چین، روس اور ایران کا یہ اتحاد اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے صدر اور سیکرٹری جنرل کو ایک مشترکہ خط کے ذریعے یہ واضح کرتا ہے کہ وہ یکطرفہ پابندیوں اور مداخلتوں کو تسلیم نہیں کرتے۔

 ان ممالک نے ایک نئے بین الاقوامی قانون اور عالمی حکمرانی کے نظام کے قیام کا عہد کیا ہے جو حقوق بین الاقوامی کے اصولوں کے مطابق ہو۔

یہ تینوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کو مستحکم کر رہے ہیں اور اس میں ان کے سیاسی، اقتصادی اور فوجی تعلقات شامل ہیں۔

 اس خط میں انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکہ کی یکطرفہ پابندیاں، خاص طور پر ایران کے خلاف، بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں۔ انہوں نے عالمی سطح پر حقوق بین الاقوامی کے اصولوں کے تحت ان پابندیوں کو مسترد کیا۔

چند روز قبل اسرائیلی فوج کی غزہ پر نئی حملے کی پالیسی کے دوران، ایران نے نہ صرف اپنی طاقت اور عزم کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کیا۔

 اس حملے نے ایران کی فوجی طاقت کو مضبوط کیا اور اس بات کو ثابت کیا کہ ایران نہ صرف ایک اہم علاقائی طاقت ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے حقوق کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ کے دوسرے دور کے پہلے 100 دن؛ داخلی کشمکش اور عالمی محاذ آرائی

یہ عالمی تبدیلیوں کا ایک اہم حصہ ہے جو اب مشرق میں حکمرانی کے نئے راہ پر گامزن ہو رہا ہے، اور ایران اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مشہور خبریں۔

بائیڈن کے بڑھاپے سے یورپی رہنما حیران

?️ 7 جولائی 2024سچ خبریں: واشنگٹن پوسٹ اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے

چوہدری پرویز الٰہی کیوں غائب ہیں؟

?️ 6 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کو رہا

حزب اللہ اور ایران سے امریکہ کی بھی حالت خراب

?️ 16 اکتوبر 2023سچ خبریں:امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے سی بی ایس

وزیر اعظم کا اگلا اقدام کیا ہو گا؟

?️ 8 اپریل 2022 اسلام آباد(سچ خبریں)سپریم کورٹ کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کو مسترد

توشہ خانہ ٹو کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستیں خارج

?️ 14 نومبر 2024راولپنڈی: (سچ خبریں) اسلام آباد کے اسپیشل جج سینٹرل نے توشہ خانہ

Baking industry growth set to rise on more stable economy

?️ 16 جولائی 2021 When we get out of the glass bottle of our ego

مسلم لیگ ق متحد ہے:چوہدری پرویز الٰہی

?️ 10 جون 2022لاہور(سچ خبریں)پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنماء اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز

سعودی عرب میں متعدد پاکستانی گرفتار

?️ 29 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)سعودی سفارت خانہ کے میڈیا ڈائریکٹر نے بیان دیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے