افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان میں قیام امن کے لیئے اہم تجویز پیش کرنے کا اعلان کردیا

افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان میں قیام امن کے لیئے اہم تجویز پیش کرنے کا اعلان کردیا

?️

کابل (سچ خبریں) افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان میں امن کے قیام کے لیئے اہم تجویز پیش کرنے کا اعلان کیا ہے اور افغان صدر انتخابات سے قبل طالبان سے معاہدہ اور جنگ بندی کا مطالبہ کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق ترکی میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس کے دوران افغان صدر اشرف غنی افغانستان میں امن کے لیے تین مراحل پر مشتمل امن روڈ میپ پیش کریں گے، افغان صدر انتخابات سے قبل طالبان سے معاہدہ اور جنگ بندی کا مطالبہ کریں گے۔

واشنگٹن اقوام متحدہ کی شمولیت کے ساتھ رواں ماہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ترکی کے زیر اہتمام ایک کانفرنس کے لیے زور دے رہا ہے۔

خیال رہے کہ افغانستان سے تمام غیرملکی فوجیوں کے انخلا کی آخری تاریخ یکم مئی کو ختم ہوجائے گی، اشرف غنی کا یہ منصوبہ واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کے مقابلے میں رکھا جائے گا جسے افغان حکومت نے مسترد کردیا تھا، جس میں طالبان کے نمائندوں کو شامل کرنے کے لیے عبوری انتظامیہ کو ایک نیا قانونی نظام وضع کرنے کا تصور کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق پہلے مرحلے میں سیاسی تصفیہ کے بارے میں اتفاق رائے اور بین الاقوامی سطح پر نگرانی کی جانے والی جنگ بندی شامل ہوگی، دوسرے مرحلے میں صدارتی انتخابات اور سیاسی حکومت کا قیام اور نئے سیاسی نظام کی طرف بڑھنے کے لیے عمل درآمد کے انتظامات ہوں گے، تیسرے مرحلے میں افغانستان کی ترقی کے لیے آئینی فریم ورک، مہاجرین کی بحالی اور ترقی شامل ہوگی۔

ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ افغان صدر اشرف غنی پہلے ہی اپنا روڈ میپ غیرملکی دارالحکومتوں کے ساتھ تبادلہ کرچکے ہیں، تاحال ترکی کے اجلاس کی تاریخ کا فیصلہ ہونا باقی ہے لیکن متعدد ذرائع نے بتایا کہ یہ دو ہفتوں کے دوران ہوسکتا ہے۔

افغان حکومت اور متعدد سیاستدانوں نے کہا کہ افغان صدر کو اجلاس سے قبل طالبان کے ساتھ ایجنڈے پر اتفاق رائے کرنا ہوگا۔

گزشتہ ماہ ایک بیان میں طالبان نے دھمکی دی تھی کہ اگر سابق صدر ٹرمپ  کے مابین معاہدے کے تحت طے شدہ یکم مئی کی ڈیڈ لائن کو پورا نہیں کرتے تو دوبارہ حملے شروع ہوجائیں گے۔

ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے کہا کہ طالبان یکم مئی کی تاریخ میں توسیع کرنے پر راضی ہیں اور وہ کابل حکام کے زیر حراست اپنے ہزاروں قیدیوں کی رہائی کے بدلے غیر ملکی افواج کے خلاف حملے دوبارہ شروع نہیں کریں گے۔

دوسری جانب قطر میں طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے بتایا کہ ایسی کوئی پیش کش نہیں کی گئی تھی۔

مشہور خبریں۔

۵۳ فیصد امریکی یوکرین کے بحران میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے

?️ 13 فروری 2022سچ خبریں:  آدھے سے زیادہ امریکیوں نے یوکرین کے بحران میں اپنے

یمنیوں کا سعودی عرب کو پیغام

?️ 2 اکتوبر 2023سچ خبریں: یمنی کے نائب وزیر خارجہ نے یمن بحران کے حل

امام خمینی کی نظر میں بین الاقوامی نظام کے ڈھانچے

?️ 4 جون 2024سچ خبریں: شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ بین الاقوامی سطح

غزہ کے گھاٹ کے بارے میں امریکی جھوٹے پروپیگنڈے کا انکشاف

?️ 29 جون 2024سچ خبریں: امریکہ نے غزہ کے ساحل پر 230 ملین ڈالر کی خطیر

عیدالفطر کی تعطیلات کے لئے ہدایت نامہ جاری

?️ 6 مئی 2021اسلام آباد (سچ خبریں)عید الفطر کی تعطیلات کو مد نظر رکھتے ہوئے

روس کا افغانستان سے امریکی فوجی انخلا کے متعلق اہم بیان

?️ 11 جولائی 2021سچ خبریں:روس کی سکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ کا کہنا ہے کہ

نیتن یاہو اور گانٹز کے درمیان تعلقات پہلے سے زیادہ نازک مرحلے میں

?️ 21 مارچ 2024سچ خبریں:اسرائیل ہیوم اخبار نے اس سلسلے میں اپنی ایک رپورٹ میں

1948 کے بعد سے پہلی بار بنی براک ایرانی میزائلوں کی زد میں

?️ 18 جون 2025 سچ خبریں:صہیونی خاخاموں کے تمام دعوؤں کے باوجود 1948 کے بعد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے