?️
سچ خبریں: لبنانی سیاسی و قانونی امور کی محقق سنڈریلا مُرہِج نے قابض قوتوں کے خلاف مزاحمت کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان سمیت عرب ممالک میں ایران کی مداخلت کے الزامات دراصل امریکہ اور اسرائیل کی "جھوٹی پروپیگنڈا مہم” ہیں، جن کا مقصد خطے کے ممالک پر اپنا تسلط قائم کرنا ہے۔
العہد ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مُرہِج نے لبنانی حکومت اور اسرائیل کے درمیان جاری مذاکرات اور ان کے ممکنہ نتائج پر تبصرہ کیا۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات ایک ایسے دباؤ کے آلے کی حیثیت رکھتے ہیں جسے امریکہ ایران سے متعلق اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے بیانیے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دیگر ممالک، حتیٰ کہ مزاحمتی تحریکوں والے ممالک میں بھی، "ایران کی مداخلت” نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ ان کے بقول یہ محض امریکہ اور اسرائیل کی سیاسی تشہیر اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔
مُرہِج نے کہا کہ لبنان کے معاملے میں ایران کی مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اسرائیلی قبضے کے خلاف لبنانی مزاحمت کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی عوام کی بڑی تعداد اس مزاحمت کی حمایت کرتی ہے، کیونکہ لبنان پر قبضے اور اسے تقسیم کرنے کے منصوبے موجود رہے ہیں۔ ان کے مطابق لبنان کے پاس ایسا مضبوط اور جدید فوجی و انٹیلی جنس نظام نہیں جو تنہا قابض قوتوں کا مقابلہ کر سکے، اسی لیے بہت سے لبنانی مزاحمتی قوتوں کو اپنی قومی دفاعی طاقت سمجھتے ہیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ لبنانی فوج کو مضبوط اور مسلح بنانے کی راہ میں کون سی قوتیں رکاوٹ بنتی رہی ہیں، مُرہِج نے کہا کہ مختلف امریکی حکومتوں نے یہ کردار ادا کیا، کیونکہ وہ ہمیشہ اسرائیل کی فوجی برتری برقرار رکھنا چاہتی تھیں اور اسی وجہ سے لبنانی فوج کو طاقتور بنانے سے گریز کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان پر عائد اقتصادی اور مالی پابندیاں بھی فوج کو جدید بنانے اور اسلحہ فراہم کرنے میں بڑی رکاوٹ رہی ہیں۔
مُرہِج کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ایران اور لبنان کے خلاف ان کی جارحانہ پالیسیوں کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، اور ان کے مفاد میں نہیں کہ ایسے اقدامات کا دائرہ مزید ممالک تک پھیلایا جائے۔
انہوں نے مزاحمتی محور کے باہمی تعلق اور اس کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس محور کے مختلف ارکان نے فلسطین اور عالمِ اسلام کے دیگر اہم مسائل کی حمایت کی ہے، اور امید ظاہر کی کہ عرب ممالک بھی مزاحمتی قوتوں جیسی پالیسی اختیار کریں گے۔
لبنانی عوام کے لیے ایران کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے دی گئی تنبیہ ہی وہ عنصر تھا جس کی وجہ سے اسرائیل نے بیروت پر حملہ کرنے سے گریز کیا۔


مشہور خبریں۔
فرانس کو 1961 کے قتل عام پر معافی مانگنی چاہیے:الجزائری تنظیم
?️ 18 اکتوبر 2022سچ خبریں:الجزائر کی نیشنل لبریشن فرنٹ نے اکتوبر 1961 میں فرانسیسی فوجیوں
اکتوبر
پنجاب حکومت نے جہانگیر ترین گروپ کے ساتھ رابطہ کرنا شروع کر دیا
?️ 21 اگست 2021لاہور (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی جانب
اگست
بحران سے نکلنے کا واحد حل ایک دوسرے کو معاف کر دینے میں ہے، ڈاکٹر طاہر القادری
?️ 1 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست شیخ
جون
روسی ہائپر سونک میزائل کی خصوصیات اور مغرب کو پیغام
?️ 27 نومبر 2024سچ خبریں:یوکرین کی جانب سے اتکمز جیسے طویل فاصلے والے مغربی میزائلوں
نومبر
پی آئی اے عملے کے پاسپورٹ ضبط کرے گی
?️ 1 فروری 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے
فروری
خطے میں امریکی اہداف پر ایران کے حملے جاری
?️ 13 جولائی 2026سچ خبریں: امریکی مفادات کے خلاف ایران کے حملوں کا نیا سلسلہ شروع
جولائی
جولانی حکومت کے دہشت گردوں کی لبنانی سرزمین پر یلغار
?️ 19 مارچ 2025سچ خبریں: مقامی ذرائع نے المیادین نیٹ ورک کے ساتھ گفتگو میں
مارچ
روپے کی قدر میں اضافہ نویں روز بھی جاری
?️ 5 اکتوبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے
اکتوبر