ٹرمپ کی مقبولیت میں ریکارڈ کمی

ٹرمپ

?️

سچ خبریں: مختلف عوامی جائزوں کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کی خالص منظوری ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے دوران اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

اس اصطلاح سے مراد اُن افراد کے تناسب کا فرق ہے جو کسی صدر یا سیاست دان کی کارکردگی کی حمایت کرتے ہیں اور اُن لوگوں کا جو اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

ٹرمپ کے حوالے سے اس اشاریے کے کم ترین سطح پر پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ اُن کی حمایت اور مخالفت کرنے والوں کے درمیان فرق بڑھ گیا ہے اور اب زیادہ امریکی اُن کی کارکردگی سے ناخوش ہیں۔

امریکی ویب سائٹ "دی ہل” کے مطابق، جریدہ "اکونومسٹ” نے تحقیقی ادارے "یوگوو” کے اعداد و شمار کی بنیاد پر 2009 سے امریکی صدور کے بارے میں عوامی رائے کا جائزہ لیا ہے۔

 ٹرمپ کی خالص مقبولیت یا ان کی صدارتی کارکردگی کی منظوری کی شرح اب منفی 25 فیصد تک گر گئی ہے، جس کے باعث وہ امریکہ کی تاریخ کے نسبتاً کم مقبول صدور میں شمار ہونے لگے ہیں۔

ٹرمپ کی مقبولیت میں یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران سے متعلق جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے پر امریکی عوام کی ناراضی بڑھ رہی ہے۔

اکونومسٹ کے تجزیے کے مطابق، مہنگائی اور قیمتوں کے معاملے میں ٹرمپ کی خالص منظوری کی شرح بھی اپنی کم ترین سطح، یعنی منفی 43 فیصد، تک پہنچ گئی ہے۔

امریکہ کی بڑی آٹوموبائل اور سفری خدمات فراہم کرنے والی تنظیم اے اے اے، جو ملک بھر کے ہزاروں پٹرول پمپوں پر ایندھن کی قیمتوں کی مسلسل نگرانی کرتی ہے، کے مطابق جمعرات کے روز امریکہ میں پٹرول کی اوسط قیمت 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تقریباً 3 ڈالر فی گیلن تھی۔

وائٹ ہاؤس کے حکام توانائی کی قیمتوں میں اضافے کو "خطے میں طویل المدتی استحکام” کے لیے ایک "عارضی قیمت” قرار دے کر اس کا جواز پیش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے بعض قانون ساز بھی جنگ کے معاشی اثرات کے حوالے سے ٹرمپ پر تنقید کرنے لگے ہیں۔ بدھ کے روز چار ریپبلکن ارکانِ کانگریس نے اپنی جماعت کی اکثریت کے برعکس ایک جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس کا مقصد ایران کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں کو محدود کرنا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اس ووٹنگ پر ردِعمل دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ایک پوسٹ میں اسے "بے معنی” قرار دیا۔

ایرنا کے مطابق، ایوانِ نمائندگان نے 208 مخالف ووٹوں کے مقابلے میں 215 موافق ووٹوں سے جنگی اختیارات کو محدود کرنے کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس ووٹنگ میں چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی حمایت کی۔

مشہور خبریں۔

شام کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے عراق کی مکمل حمایت

?️ 13 اپریل 2023سچ خبریں:عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام کی عرب لیگ میں

اسرائیل کی نفسیاتی فوج پر ایک ٹریلین کا خرچ 

?️ 20 فروری 2025 سچ خبریں: فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو

شام کی خودمختاری اور ارضی سالیمت کا احترام کیا جائے:اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب

?️ 1 جولائی 2022سچ خبریں:اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب نے شام سے متعلق سلامتی کونسل

ٹک ٹاک میں سیکیورٹی چیک اپ کا فیچر پیش

?️ 21 مارچ 2025سچ خبریں: شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک نے اکاؤنٹ کی

صیہونیوں کے لیے دنیا میں کوئی جگہ نہیں

?️ 27 جنوری 2025سچ خبریں:دنیا بھر میں صہیونیوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش

شامی فوج کا متعدد علاقوں میں دہشت گردوں پر حملہ

?️ 3 اکتوبر 2022سچ خبریں:شامی فوج کی یونٹوں نے اس ملک کے صوبے حماۃ کے

بائیڈن کے انتخاب میں حصہ نہ لینے کی صورت میں ڈیموکریٹ امیدوار

?️ 30 جولائی 2022سچ خبریں:ایک سروے کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ اگر بائیڈن

چین نے امریکی جنگ طلب پالیسیوں کو آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کی وجہ قرار دیا

?️ 13 اپریل 2026سچ خبریں: چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے "ڈونلڈ ٹرمپ” کی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے