۷ اکتوبر کی ناکامی کو چھپانے کی نیتن یاہو کی ناکام کوشش

نیتن یاہو

?️

۷ اکتوبر کی ناکامی کو چھپانے کی نیتن یاہو کی ناکام کوشش

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے ۷ اکتوبر کی ناکامی عملیات طوفان الاقصی کے جائزے کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹی میں اپنے حامی وزرا کی تعیناتی پر فلسطینی زیرِقبضہ علاقوں اور اسرائیلی سیاست میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نیتن یاہو کی ناکامی چھپانے اور خود کو تبرئہ کرنے کی کوشش ہے۔

شبکہ ہفت کے مطابق کابینہ نے کمیٹی کی اختیارات کا تعین کرنے والے وزرا کی فہرست جاری کی، جس میں وزیرِ انصاف یاریو لوین کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ دیگر وزرا میں وزیرِ مالیات بتسلئل اسموتریچ، وزیرِ داخلہ ایتامار بن گویر، وزیرِ بازسازی زیو آلکین، وزیرِ زراعت آوی دیختر، وزیرِ ٹیکنالوجی گیلا گیملئل، وزیرِ شہرک‌سازی اور وزیرِ میراث عامیخای الیاہو شامل ہیں۔

نیتن یاہو نے کابینہ کو بتایا کہ ایک خصوصی وزارتی کمیٹی کمیٹی کی حدود، مدت اور سوالات کا پیش‌نویس تیار کرے گی اور اسے ۴۵ دن میں کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

تاہم، اسرائیلی اپوزیشن اور آزاد حلقوں نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ یائر لاپید، اپوزیشن رہنما، نے کہا کہ یہ کمیٹی حقیقت کو چھپانے اور ذمہ داری سے بچنے کی کوشش ہے اور وہ اس میں شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی کمیٹی کو وزرا اور لیکود کے حامیوں کے زیرِ قیادت حقائق چھپانے کے لیے تشکیل دینا غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے۔

رکنِ کنست نعما لازیمی اور سابق آرمی چیف گادی آیزنکوت نے بھی کابینہ کی اس اقدام کو ناکام اور ناکافی قرار دیا اور کہا کہ یہ وزرا خود وہی ہیں جو ہفتم اکتوبر کی ناکامی میں براہِ راست ذمہ دار تھے اور انہیں کمیٹی کی تشکیل کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔

مزید برآں، بعض وزرا جیسے اشلومو کرعی اور بتسلئل اسموتریچ نے دیوانِ اعلیٰ کے تحت کمیٹی کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق مکمل طور پر آزاد اور حکومتی طور پر تشکیل شدہ کمیٹی کے زیرِ اختیار ہونی چاہیے۔

تنقید کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ ہفتم اکتوبر کے شکست کے جائزے کے لیے سابقہ کمیٹیاں، جیسے آگرانات اور وینوگراد، دیوانِ اعلیٰ کے زیرِ نگرانی تشکیل دی گئی تھیں اور اس روایت کو نظرانداز کرنا، خود کو تبرئہ کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔

نیتن یاہو کے اتحادی وزرا نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا، مگر مخالفین اور اپوزیشن کا موقف واضح ہے کہ یہ کمیٹی ناکامی کی حقیقت سامنے لانے کی بجائے اسے چھپانے کا ذریعہ بنے گی۔

مشہور خبریں۔

تنازعہ کشمیر جنوبی ایشیا میں ایٹمی جنگ کاباعث بن سکتا ہے: کل جماعتی حریت کانفرنس

?️ 13 نومبر 2023سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس نے غیر قانونی طور پر

انتخابات کی حتمی تاریخ نہ دینے کی ’تکنیکی وجوہات‘ ہیں، عہدیدار الیکشن کمیشن

?️ 23 ستمبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) الیکشن کمیشن کی جانب سے عام انتخابات کے لیے

صیہونیوں کا سمجھوتہ کرنے والے ممالک کے منھ پر ایک اور زور دار طمانچہ

?️ 15 مارچ 2021سچ خبریں:اسرائیلی افواج نے مقبوضہ علاقوں میں اپنی معاندانہ کاروائیوں کے سلسلہ

سوڈان میں دہشت گردوں کی مدد کرنے میں یورپ کا کیا پوشیدہ 

?️ 11 دسمبر 2025سچ خبریں: سودان اپریل 2023 میں کھلی جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی

سندھ کا ارسا کو دوسرا مراسلہ، ٹی پی لنک کینال فوری بند کرنے کی درخواست

?️ 18 اپریل 2025کراچی: (سچ خبریں) سندھ نے پنجاب پر تونسہ پنجند لنک کینال سے

میں ہر مثبت اور تعمیری کام میں کردار کے لیے تیار ہوں۔ چوہدری شجاعت

?️ 23 ستمبر 2025لاہور (سچ خبریں) مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے

پیلوسی کی روس کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دینے کی حمایت

?️ 9 مئی 2022سچ خبریں:امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نے اعلان کیا کہ وہ روس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے