?️
حکومت سازی کا عمل صرف انتخابی نتائج پر منحصر نہیں ہوتا:عراقی وزیر اعظم
عراق کے وزیرِاعظم محمد شیاع السودانی نے کہا ہے کہ ملک میں حکومت سازی کا عمل صرف انتخابی نتائج پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ سیاسی مشاورت ہمیشہ سے اس عمل کا اہم حصہ رہی ہے۔ الصباح کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ عراق میں گزشتہ کسی بھی پارلیمانی انتخاب میں محض اعداد و شمار نے حکومت کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ سیاسی قوتوں کے درمیان بات چیت نے نتیجہ طے کیا ہے۔
انہوں نے اپنے اتحاد "بازسازی و ترقی” کو شیعہ سیاسی اتحاد، یعنی فریم ورک الائنس، کا حصہ اور سب سے بڑی پارلیمانی قوت قرار دیا۔ السودانی کا کہنا تھا کہ دوسری مدت کے لیے وزارتِ عظمیٰ ان کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ جاری اصلاحات، ادھورے منصوبوں اور ملک کے مستقبل کے اہداف کو مکمل کرنے کی ذمہ داری ہے۔
ان کے مطابق تمام سیاسی قوتیں آئینی ٹائم لائن کی پابندی پر متفق ہیں اور حالیہ انتخابات پُرسکون ماحول میں منعقد ہوئے۔ انہوں نے انتخابی قانون میں ہر انتخاب سے قبل تبدیلی کی روایت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ قانون پر عمل درآمد کے دوران ضائع ہونے والے ووٹوں کا مسئلہ حل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے بغداد اور اربیل کے تعلقات کو مستحکم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں حکومتوں کے درمیان کوئی بنیادی تنازعہ نہیں اور تیل کے معاہدوں، برآمدات اور مالی حقوق سمیت اہم فائلوں پر پیش رفت ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیمِ کردستان کے عوام کے مفادات ملک کے ہر شہری کے برابر ہیں اور بغداد و اربیل کے درمیان تعاون کے کئی مواقع موجود ہیں۔
سودانی نے واضح کیا کہ عراق کسی بھی غیر ملکی طاقت کا میدانِ نفوذ نہیں بنے گا اور بغداد بیرونی دباؤ کے دعووں کو درست نہیں سمجھتا۔ ان کے مطابق عراق مختلف ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات باہمی احترام کی بنیاد پر برقرار رکھے گا۔
انہوں نے حکومت کی معاشی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلی بار بنیادی مالی اصلاحات نافذ کی گئیں، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا اور پچاس سے زائد کارخانوں نے اپنی مصنوعات کی برآمد شروع کر دی ہے۔ بقول ان کے، بیروزگاری کی شرح سترہ سے کم ہو کر تیرہ فی صد تک آئی ہے اور پانچ لاکھ پچاس ہزار نوجوان حکومتی منصوبوں سے مستفید ہوئے ہیں۔
سودانی نے بتایا کہ 2028 تک گیس کی درآمد مکمل طور پر روکنے اور گیس کے جلاؤ منصوبوں کی تکمیل کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مسعود بارزانی اور نیچروان بارزانی سے ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مراحل کی تکمیل اور جمہوری نظام کے استحکام کے لیے تمام قومی قوتوں کا متحد ہونا ناگزیر ہے۔
یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب عراق کے الیکشن کمیشن نے پیر کی شب چھٹے پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج جاری کیے۔ ان نتائج کے مطابق محمد شیاع السودانی کی قیادت میں بازسازی و ترقی کا اتحاد سب سے بڑی پارلیمانی قوت بن کر ابھرا۔ اس کے بعد فریم ورک الائنس نے اپنے اجلاس میں خود کو پارلیمان کا سب سے بڑا بلاک قرار دیا۔


مشہور خبریں۔
سوشل میڈیا جمہوریت کے لیے خطرہ ہے: اردغان
?️ 12 دسمبر 2021سچ خبریں: ترک صدر رجب طیب اردغان نے ہفتے کی شام سوشل
دسمبر
کیا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کا حشر بھی ٹرمپ جیسا ہونے والا ہے؟
?️ 24 فروری 2021سچ خبریں:اسرائیل میں اہم پارلیمانی انتخابات کے موقع پر وہائٹ ہاؤس سے
فروری
حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کی پابند ہے، قانونی ماہرین
?️ 4 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قانونی ماہرین نے سپریم کورٹ کی جانب سے
اپریل
ایران اور پاکستان عوامی تعلقات پر مبنی نئی پالیسی کے حتمی مرحلے میں
?️ 14 ستمبر 2025ایران اور پاکستان عوامی تعلقات پر مبنی نئی پالیسی کے حتمی مرحلے
ستمبر
نیتن یاہو سعودی عرب تک ریلوے لائن کیوں تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟
?️ 31 جولائی 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی کابینہ
جولائی
اپنی تنخواہ یا مراعات میں اضافہ نہیں کیا، اپنے احتساب کیلئے تیار ہوں، چیئرمین سینیٹ
?️ 28 جون 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) قائم مقام صدر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی
جون
کیا سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان نیا معاہدہ ہونے والا ہے؟نیوزویک کی رپورٹ
?️ 26 نومبر 2024سچ خبریں:نیوزویک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی حکومت آئندہ
نومبر
فلسطینی بچوں کے لیے 2021 مہلک ترین سال؛صیہونی میڈیا کا اعتراف
?️ 19 دسمبر 2021سچ خبریں:صہیونی ذرائع ابلاغ نے فلسطینی بچوں کے حقوق کے تحفظ کی
دسمبر