?️
ایران اور پاکستان عوامی تعلقات پر مبنی نئی پالیسی کے حتمی مرحلے میں
پاکستان کی حکومت نے ایران کے ساتھ مذہبی سیاحت کو منظم کرنے اور زائرین کے سفر کو سہل بنانے کے لیے جو نئی پالیسی کچھ عرصے سے تیار کر رہی تھی، اب اس کے آخری مراحل قریب ہیں۔ اگرچہ یہ ایک داخلی پالیسی ہے، لیکن ایران نے ہمیشہ ایسے اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے جو عوامی روابط اور مذہبی سیاحت کو فروغ دیں۔
پاکستان نے پہلی بار 2019 میں مذہبی سیاحت کے لیے ایک جامع پالیسی بنانے کا اعلان کیا تھا تاکہ اپنے شہریوں کے ایران اور پھر وہاں سے عراق اور شام کے زیارات کو باضابطہ شکل دے سکے۔ عمران خان کی حکومت کے دور میں بھی یہ معاملہ زیر غور رہا۔
سال 2022 میں ایران اور پاکستان کے درمیان ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے جس میں سیاحت کے فروغ کو بھی شامل کیا گیا۔ تاہم حالیہ دنوں میں پاکستان کے وزیر مذہبی امور نے ایک نئے معاہدے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پاکستان نے کئی سال سے ایران کے ساتھ بحری رابطے کی بات کی تھی، جو آخرکار اس سال اگست میں حقیقت بنی۔ اسلام آباد نے پہلی بار ایک بین الاقوامی کمپنی کو ایران کے لیے شپنگ لائن چلانے کا لائسنس دیا۔ حکومت نے اسے عوامی روابط اور مذہبی سیاحت کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دیا۔اسی طرح گزشتہ ہفتے ایران اور پاکستان کے درمیان تہران-اسلام آباد براہِ راست پرواز کا آغاز ہوا، جسے دو طرفہ تعلقات میں نئی راہ سمجھا جا رہا ہے۔
رواں سال اربعین کے موقع پر پاکستان نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر زمینی سفر پر پابندی لگا دی اور زائرین کو صرف فضائی راستے سے سفر کی اجازت دی، جس پر کئی شیعہ جماعتوں نے اعتراض کیا۔ تاہم حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد ایران اور عراق کے لیے زمینی راستوں پر بھی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
اسلام آباد میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ایرنا سے گفتگو میں کہا کہ ایران ہمیشہ پاکستانی زائرین کے سفر کو آسان بنانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا:
ہم نے وزیر مذہبی امور پاکستان سے ملاقات میں واضح کیا کہ اگر اسلام آباد اپنی نئی پالیسی کے تحت کوئی تجویز یا نظرِ ثانی چاہتا ہے تو ایران ہر ممکن تعاون کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال ہزاروں پاکستانی زائرین اور سیاح ایران آتے ہیں اور ایران کی کوشش ہے کہ ان کے سفر کو مزید سہل بنایا جائے۔
پاکستانی زائرین ایران میں زیادہ تر میرجاوہ اور ریمدان کی سرحدوں کے ذریعے داخل ہوتے ہیں۔ سیستان و بلوچستان نہ صرف ان کا دروازہ ہے بلکہ یہاں کے عوام اپنے پاکستانی بھائیوں کا پرتپاک استقبال کرتے ہیں تاکہ وہ خود کو اجنبی محسوس نہ کریں۔
یہ خطہ پاکستان کو صرف ایران ہی نہیں بلکہ وسطی ایشیا، یورپ اور عراق سے بھی جوڑتا ہے، جہاں کربلا لاکھوں زائرین کی منزل ہے۔ ایران کے اس صوبے کی پاکستان کے ساتھ 900 کلومیٹر اور افغانستان کے ساتھ 300 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو دونوں ملکوں کے عوامی اور تجارتی روابط میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
بھارتی فورسز نے 30سال قبل آج ہی کے دن چرار شریف کی خانقاہ کو نذرآتش کردیا تھا
?️ 11 مئی 2025سرینگر: (سچ خبریں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی
مئی
یوکرائن کی جنگ میں جرمنی کے طرز عمل سے امریکہ ناخوش
?️ 16 ستمبر 2022سچ خبریں: برلن کے ڈائی ویلٹ اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ
ستمبر
بی ایل اے اور ٹی ٹی پی بھارت کے ایجنٹ، خضدارحملے میں بھارتی کردار ثابت کریں گے، وزیر دفاع
?️ 22 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ
مئی
ایران پر امریکی حملے نے دنیا کو سنگین جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا، پی ٹی آئی
?️ 22 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ایران
جون
ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری
?️ 24 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے دورہ پاکستان کے
اپریل
یمن میں امریکہ کے اشاروں پر جارحیت ہورہی ہے:بحرینی مذہبی رہنما
?️ 6 فروری 2022سچ خبریں:بحرین کے مذہبی رہنما اور عالم دین شیخ عیسی قاسم نے
فروری
وزیر اعظم کے بیان نے امریکا میں تہلکا مچا دیا
?️ 29 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کے انٹرویو نے امریکی سفارتی
جولائی
سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت بند کرؤ: فرانسیسی عوام
?️ 21 فروری 2021سچ خبریں:فرانسیسی دارالحکومت میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے آل سعود حکومت
فروری