یرمک کی برطرفی: یوکرین کے لیے ایک نیا موقع یا اقتدار کی اجارہ داری میں شدت؟

یوکرین

?️

یرمک کی برطرفی: یوکرین کے لیے ایک نیا موقع یا اقتدار کی اجارہ داری میں شدت؟

امریکی میڈیا کے مطابق، اگرچہ آندری یرماک کی برکنار جو یوکرین کے صدارتی دفتر کے انتہائی بااختیار و اثرورسوخ رکھنے والےسربراہ تھے مخالف جماعتوں کے لیے حکومتِ قومی وحدت کے مطالبے کو تیز کرنے کا ایک موقع ہے، لیکن متعدد تجزیہ کاروں کو اب بھی شک ہے کہ آیا اس تبدیلی سے زلنسکی کی طرزِ حکمرانی میں کوئی بنیادی فرق پڑے گا یا نہیں۔

گزشتہ جمعہ یرماک کی معزولی یوکرین کے سیاسی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے جو اس جنگ زدہ ملک میں اختیار کی سمت کے حوالے سے نئی کشمکش کو جنم دے سکتی ہے۔ نشریہ پالیٹیکو کے مطابق یرماک، جو کبھی ایک وکیل اور ثانوی درجے کی فلموں کے پروڈیوسر تھے، زلنسکی کے نزدیک ترین مشیر کی حیثیت سے اس قدر طاقتور ہو چکے تھے کہ بہت سے مبصرین انہیں عملاً صدر کے برابر سمجھنے لگے تھے۔ فوجی لباس سے متاثرہ ‘‘سبز کاردینال’’ کا لقب بھی اسی حیثیت کا نتیجہ تھا۔

مخالف جماعتیں اب اس برطرفی کو ۱۰۰ ملین ڈالر کے مالیاتی اسکینڈل سے جوڑ کر اسے ملک میں وسیع تر سیاسی شمولیت اور ایک حقیقی حکومتِ وحدتِ ملی کے قیام کے لیے دباؤ بڑھانے کا موقع سمجھ رہی ہیں۔ روس کی چار سالہ بھرپور فوجی یلغار کے بعد سے یہ مطالبہ مسلسل کیا جاتا رہا ہے۔

مبصرین متفق ہیں کہ زلنسکی نے اپنے سب سے سخت جان اور بااثر مشیر کو کھو دیا ہے۔ یرماک کو یوکرین میں درپردہ طاقت اور انتظامی انحصار کا معمار تصور کیا جاتا تھا، جہاں زلنسکی—جو کبھی ایک مزاحیہ اداکار تھے—مرکزی کردار تھے۔ اب زلنسکی کو، اپنے مشیر کے بغیر، موسمِ سرما کی سختیوں اور محاذِ جنگ ڈونباس میں روسی پیش قدمی کے دباؤ کے ساتھ ساتھ، امریکہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع ‘‘امن منصوبے’’ پر مذاکرات بھی کرنا ہوں گے۔

یرماک کی قوتِ اختیار طویل عرصے سے یوکرین کے سیاسی حلقوں اور مغربی اتحادیوں دونوں کے لیے تشویش کا باعث تھی، اسی لیے ان کی برطرفی پر ملک کے اندر اور بیرونِ ملک خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ زلنسکی کو اب لازم ہے کہ وہ اپنی حکومت کے کام کاج کو آئینی حدود میں واپس لائیں اور پارلیمان کو اس کا جائز اختیار واپس دیں۔

مخالف رہنما لِسیا واسیلینکو کے مطابق یہ اقدام اس بات کی علامت ہونا چاہیے کہ بدعنوانی کے لیے کوئی برداشت نہیں اور صدر عوامی مطالبات کو سن رہے ہیں۔ تاہم کچھ قانون ساز اس سوال پر قائم ہیں کہ آیا زلنسکی واقعی اس موقع کو سیاسی ہمہ گیری اور شمولیتی پالیسی کے لیے استعمال کریں گے۔

سابق نائب وزیراعظم ایوانا کلیمپوش کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کا اصل امتحان اس بات سے ہوگا کہ آیا صدر تمام سیاسی دھڑوں سے مکالمہ کرنے، پارلیمان کی خودمختاری بحال کرنے، اور ایسی حکومتِ وحدت قائم کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں جو دفترِ صدارت کے بجائے پارلیمان کے سامنے جوابدہ ہو۔

زلنسکی کی سابق مشیر اور اب ناقد یولیا مندل کا خیال ہے کہ یرماک کی معزولی ‘‘شدید دباؤ کے تحت لیا گیا اضطراری فیصلہ’’ ہے۔ ان کے مطابق صدر نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ حالات اس نہج تک پہنچ جائیں گے اور فیصلہ بالآخر اس دو راہے پر محدود ہوگیا کہ یرماک جائیں یا خود زلنسکی۔ ‘‘زلنسکی نے خود کو بچایا’’، تاہم وہ یہ بھی خبردار کرتی ہیں کہ ممکن ہے یرماک اثر و رسوخ کے نئے، غیرعلانیہ راستے تلاش کر لیں اور پردے کے پیچھے اپنا کردار برقرار رکھیں۔

مشہور خبریں۔

طالبان نے افغانستان کے شہروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو فضائی حملے کیئے جائیں گے، امریکا کی شدید دھمکی

?️ 16 جون 2021کابل (سچ خبریں) امریکا نے افغانستان کے مستقبل کے بارے میں اہم

غزہ میں طبی وسائل کی صورتحال کیا ہے؟

?️ 11 اکتوبر 2023سچ خبریں: ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے سربراہ نے غزہ میں طبی وسائیل

شامی فضائی دفاعی نظام کا دہشت گردوں کے ڈرون کا نشانہ

?️ 4 اکتوبر 2021سچ خبریں:شامی فضائی دفاعی نظام حمیمیم نے ادلب میں دہشت گرد گروہوں

مارچ 2025 میں دہشتگردوں کے حملوں کی تعداد 11 سال بعد پہلی بار 100 سے متجاوز

?️ 3 اپریل 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز

فلسطینی بھوک سے مر رہے ہیں

?️ 29 فروری 2024سچ خبریں: غزہ کی پٹی کی وزارت صحت کے ایک اہلکار نے

مریم نواز نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں نقصانات کی تفصیل طلب کرلی

?️ 27 اگست 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے صوبہ بھر میں سیلاب

3 رکنی بینچ کے فیصلے پر دکھ اور افسوس کا اظہار ہی کرسکتا ہوں، وزیرقانون

?️ 4 اپریل 2023اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تاڑر نے کہا

بیلجیئم کا صیہونی آبادکاری اور فلسطینیوں کے قتل عام پر اعتراض

?️ 10 اپریل 2026سچ خبریں: بیلجیئم کے وزیر خارجہ ماکسیم پرووت نے صہیونی حکومت سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے