ہانگ کانگ کے میڈیا میڈیا کا دعوی، واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان نئی کشیدگی

بیجنگ

?️

ہانگ کانگ کے میڈیا میڈیا کا دعوی، واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان نئی کشیدگی

ہانگ کانگ کے معروف میڈیا مالک اور جمہوریت کے حامی جمی لائی کو قومی سلامتی قانون کے تحت عمر قید کی سزا سنائے جانے کے بعد امریکہ اور چین کے درمیان اختلافات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ اس معاملے پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے براہِ راست رابطہ کر کے جمی لائی کی رہائی کی درخواست کی، جبکہ ہانگ کانگ کی مقامی حکومت نے اس مطالبے کو جانبدارانہ اور داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے صدر شی سے جمی لائی کے معاملے پر بات کی اور ان سے انسانی بنیادوں پر رہائی پر غور کرنے کی اپیل کی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جمی لائی ایک معمر شخص ہیں اور ان کی صحت اچھی نہیں، اس لیے اس معاملے میں ہمدردی کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ رابطہ کب ہوا۔

ہانگ کانگ کی ایک عدالت نے پیر کے روز قومی سلامتی قانون کے تحت جمی لائی کو غیر ملکی طاقتوں سے سازباز اور اشتعال انگیز مواد کی اشاعت کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ اس فیصلے کے بعد ہانگ کانگ کی حکومت نے امریکی اور دیگر مغربی سیاستدانوں کے بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات بد نیتی پر مبنی ہیں اور خطے کو درپیش قومی سلامتی کے حقیقی خطرات کو ظاہر کرتے ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ عدالت نے یہ فیصلہ مکمل طور پر قانون اور شواہد کی بنیاد پر، کسی سیاسی دباؤ کے بغیر دیا ہے۔

اگرچہ ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان حالیہ ملاقات میں زیادہ تر گفتگو معاشی امور تک محدود رہی اور حساس سیاسی موضوعات سے گریز کیا گیا، لیکن جمی لائی کی سزا کے بعد امریکی حکام نے کھل کر موقف اختیار کیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ایک بیان میں چین سے مطالبہ کیا کہ جمی لائی کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سزا آزادی اظہار اور بنیادی انسانی حقوق کو دبانے کی پالیسی کی عکاس ہے۔

روبیو نے جمی لائی کی صحت پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ طویل قید کے دوران ان کی حالت بگڑ چکی ہے اور انسانی بنیادوں پر ان کی رہائی ضروری ہے۔ یہ مقدمہ عالمی سطح پر اس اعتبار سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ 1997 میں ہانگ کانگ کی چین کو واپسی کے بعد یہ عدالتی آزادی اور میڈیا کی خودمختاری کا سب سے بڑا امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

جمی لائی، جو برطانوی شہریت بھی رکھتے ہیں اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے سخت ناقد رہے ہیں، تمام الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔ انہیں 2020 میں اس قومی سلامتی قانون کے تحت گرفتار کیا گیا تھا جو بیجنگ نے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد نافذ کیا تھا۔ اب ہانگ کانگ کی اعلیٰ عدالت جنوری میں ان کی سزا میں ممکنہ نرمی سے متعلق دلائل سنے گی، تاہم اس معاملے نے پہلے ہی چین اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نیا تناؤ پیدا کر دیا ہے۔

مشہور خبریں۔

غزہ جنگ کا طویل ہونا کس کے نقصان میں ہے؟صیہونی اخبار

?️ 13 مارچ 2024سچ خبریں: صیہونی اخبار نے صہیونی حکام کے درمیان واضح حکمت عملی

صیہونی جاسوس سافٹ وئر کے ذریعے الجزیرہ چینل کے 34 نامہ نگاروں کے سیل فونز ہیک

?️ 21 جنوری 2022سچ خبریں:الجزیرہ چینل کے 34 صحافیوں اور پروڈیوسرز کو صیہونی جاسوس سافٹ

اسلامی انقلاب نے ایران کو انحصار سے نجات دلائی:انصاراللہ

?️ 12 فروری 2022سچ خبریں:یمن کی انصار اللہ تحریک کے ترجمان نے اسلامی انقلاب کی

ہم پوتن اور زیلنسکی کے درمیان ملاقات کا بندوبست کرنے کے لیے تیار ہیں: اردوغان

?️ 31 مارچ 2022سچ خبریں:    ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے آج روسی

مغربی ممالک زیادہ دیر تک یوکرین کی حمایت نہیں کر سکتے:امریکی اخبار

?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:فکری طور پر ڈیموکریٹس کے قریب امریکی اخبار نے نامعلوم حکام

ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد منظور

?️ 28 جولائی 2022لاہور: (سچ خبریں) ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے قرارداد منظور

مقبوضہ کشمیر پر حملہ اور ایف 16 گرانے کی بھارتی میڈیا کی خبر سفید جھوٹ قرار

?️ 8 مئی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) شکست خوردہ مودی کی خوشنودی کیلئے بھارتی میڈیا

جنوب مغربی شام اسلحے سے پاک ہونا چاہیے:نیتن یاہو

?️ 17 جولائی 2025 سچ خبریں:صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے شام کے جنوب مغربی علاقے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے