کیا برطانوی معیشت اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے؟

برطانیہ

?️

 کیا برطانوی معیشت اپنی آخری سانسیں گن رہی ہے؟

تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ کی معیشت شدید دباؤ میں ہے۔ بیکاری کی شرح 5 فیصد تک پہنچ چکی ہے، اقتصادی نمو محض 0.1 فیصد پر رک گئی ہے، اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے لاکھوں گھرانوں کو مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ صورتحال ملک کو ایک نئے کساد بازاری کے دہانے پر لے آئی ہے  ایسے وقت میں جب وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت آئندہ بجٹ پیش کرنے والی ہے۔

برطانوی دفترِ شماریات کے مطابق، بیکار افراد کی تعداد 18 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے  جو گزشتہ چار سال میں بلند ترین سطح ہے۔ ماہرین اسے "لیبر مارکیٹ کی تھکن کے واضح آثار” قرار دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی، مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں معمولی اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معیشت عملاً جمود کا شکار ہے۔

اگرچہ عمومی افراطِ زر میں کمی آئی ہے، لیکن کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ بڑی سپر مارکیٹ چینز کے مطابق، صارفین اب صرف رعایتوں کے دوران خریداری کر رہے ہیں اور روزمرہ کی خریداری میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرسمس سے پہلے ہی رعایتی اشیاء کے لیے قطاریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام بڑھتی قیمتوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔

اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مشروبات پر ممکنہ نیا ٹیکس کم آمدنی والے طبقے کے لیے مزید بوجھ بن سکتا ہے۔ یہ مجوزہ ٹیکس وزیرِ خزانہ ریچل ریوز کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت حکومت کے ریونیو ڈھانچے کو از سرِ نو ترتیب دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات درمیانے اور نچلے طبقے پر زیادہ ہوں گے۔

دوسری جانب، حکمران لیبر پارٹی کے اندر بجٹ کے مالی ذرائع پر اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ مبصرین کے مطابق، اگر حکومت عوامی دباؤ کے آگے متوازن بجٹ پیش نہ کر سکی تو سیاسی عدم استحکام کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

برطانیہ کی مینوفیکچرنگ سیکٹر میں آرڈرز میں کمی، سپلائی چین میں رکاوٹ اور برآمدات میں گراوٹ رپورٹ کی جا رہی ہے۔ کئی بڑی آٹوموٹو کمپنیاں، خصوصاً ملک کے شمالی حصے میں، توانائی کے بڑھتے اخراجات اور ٹیکس پالیسی میں غیر یقینی صورتحال کے باعث اپنی توسیعی منصوبے مؤخر کر چکی ہیں۔ غیرملکی سرمایہ کاری میں کمی نے معیشت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔

مرکزی بینک اب ایک مشکل فیصلے کے سامنے ہے — اگر شرحِ سود میں کمی کی جائے تو مہنگائی دوبارہ بڑھ سکتی ہے، جبکہ شرحِ سود برقرار رکھنے سے کاروبار اور قرض لینے والے مزید دباؤ میں آ جائیں گے۔ اس تضاد نے حکومتِ اسٹارمر کے لیے بجٹ سازی کو ایک کڑا امتحان بنا دیا ہے۔

سماجی تنظیموں کے مطابق، فوڈ بینکوں پر انحصار کرنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، بے گھر افراد میں اضافہ ہو رہا ہے، اور بہت سے گھرانے ماہانہ اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں۔ ماہرینِ سماجیات خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ٹیکس بڑھایا گیا یا سرکاری خدمات میں کٹوتی کی گئی تو "سماجی بحران” شدت اختیار کر سکتا ہے۔

برطانوی ہاؤسنگ مارکیٹ بھی دباؤ میں ہے۔ گھروں کی قیمتوں میں کمی، قرضوں کی سخت شرائط اور خرید و فروخت میں جمود نے تعمیراتی صنعت کو نقصان پہنچایا ہے۔ درجنوں چھوٹی تعمیراتی کمپنیاں دیوالیہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

مجموعی طور پر، برطانیہ کی معیشت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے: بیکاری 5 فیصد، ترقی تقریباً صفر، سرمایہ کاری میں کمی اور عوامی اعتماد میں گراوٹ۔ ایسے میں آنے والا وفاقی بجٹ صرف ایک مالی دستاویز نہیں بلکہ حکومتِ اسٹارمر کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کن امتحان بن سکتا ہے۔

مشہور خبریں۔

اربیل میں دہشتگردوں کے اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملہ؛امریکی پریشان

?️ 21 نومبر 2022سچ خبریں:پیر کی صبح، خبری ذرائع نے اطلاع دی کہ اربیل میں

اپنی زندگی اور شخصیت کے چھپے ہوئے پہلو سے جلد پردہ اٹھاؤں گی، حمائمہ ملک کا اعلان

?️ 10 جون 2023کراچی: (سچ خبریں) نامور اداکارہ حمائمہ ملک نے اعلان کیا ہے کہ

بائیڈن نے اوباما کو 2024 کے انتخابات میں حصہ لینے کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا

?️ 19 اپریل 2022سچ خبریں:  وائٹ ہاؤس کے رہائشی جو بائیڈن نے سابق صدر براک

صیہونی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے حماس نے کیا شرط رکھی ہے؟

?️ 29 اکتوبر 2023سچ خبریں: غزہ کی پٹی میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ

کیا امریکہ بحرہ احمر میں یمن کا مقابلہ کر سکے گا؟

?️ 27 جنوری 2024سچ خبریں: امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ یمنی فورسز

مغربی سفارتکاروں کے سعودی عرب کے دورے اور لبنان کی صورتحال

?️ 8 جولائی 2021سچ خبریں:ایک لبنانی اخبار نے سعودی عرب میں مغربی سفارتی عہدہ داروں

امریکہ غزہ میں جنگ بندی ک خلاف

?️ 30 دسمبر 2023سچ خبریں:اقوام متحدہ میں روس کے مستقل نمائندے واسیلی نیبنزیا نے اعلان

بائیڈن کا ریاض کا دورہ

?️ 11 جولائی 2022سچ خبریں:    چار باخبر ذرائع کے مطابق بائیڈن انتظامیہ سعودی عرب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے