صہیونی حکومت مکہ معاہدے سے کیوں ناراض ہے؟

مکہ معاہدہ

?️

سچ خبریں:مکہ معاہدہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان علاقائی تعاون کی نئی شکل کی نشاندہی کرتا ہے، جسے تل ابیب خطے میں اپنی پوزیشن اور امریکی حفاظتی چھتری کے لیے تشویش کا باعث سمجھتا ہے۔

مکہ معاہدہ ایران کے خلاف جنگ کی ناکامی، خطے کے ممالک کے امریکہ کی حفاظتی چھتری پر کم ہوتے اعتماد اور تل ابیب سے دور اپنے حامیوں میں تنوع پیدا کرنے کی کوشش کے نتیجے میں علاقائی سلامتی کے حساب کتاب میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

لبنانی اخبار الاخبار نے لکھا ہے کہ صہیونی حکومت سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان مکہ سہ فریقی معاہدے کو اپنے لیے براہ راست فوجی خطرہ نہیں سمجھتی، تاہم وہ تسلیم کرتی ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے خلاف امریکی، صہیونی جنگ مسلط کرنے کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔

 اس جنگ نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کی صورت حال تبدیل نہیں کی بلکہ یہ بھی ظاہر کر دیا کہ سعودی عرب اور خلیج فارس کے دیگر ممالک کے تحفظ میں امریکی دفاعی چھتری ناکام ہے۔

اسی صورتحال نے ان ممالک کو ایسے دوسرے شراکت داروں کی تلاش پر مجبور کیا ہے جو انہیں متبادل یا اضافی حفاظتی چھتری فراہم کر سکیں۔

تل ابیب اس اتحاد کو تہران کے خلاف کسی بلاک کے طور پر نہیں دیکھتا، کیونکہ اس کے خیال میں اسرائیل سے مدد طلب کرنے کے بجائے ریاض کا انقرہ اور اسلام آباد کی جانب رجوع کرنا ایران کے لیے ایک اطمینان بخش پیغام رکھتا ہے کہ یہ اتحاد دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد براہ راست محاذ آرائی نہیں ہے۔

صہیونی حکومت کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کی طاقت کے بجائے اس کی کمزوری اور عدم تحفظ کی زیادہ عکاسی کرتا ہے۔ اس تشویش کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ ایران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ جنگ سے زیادہ جرأت اور عزم کے ساتھ نکلا ہے۔

 ایران نے اب خطے میں اپنی مرضی مسلط کرنے کے لیے فوجی دباؤ کے استعمال کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور خلیج فارس کے ممالک کو اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے مزید شراکت داروں کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔

اس صورتحال میں پاکستان خطے سے باہر ایک حفاظتی چھتری کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے، تاہم متضاد بات یہ ہے کہ پاکستان اس اتحاد کو ایران کے خلاف دشمنانہ مؤقف کے طور پر پیش نہ کرنے پر اصرار کرتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان کسی قسم کے دشمنانہ تعلقات موجود نہیں ہیں۔

 جہاں تک ترکی کا تعلق ہے تو اس کے محرکات واضح ہیں؛ یہ ملک خطے میں ایسی موجودگی اور اثر و رسوخ کا خواہاں ہے جسے وہ اپنی فوجی طاقت اور صلاحیتوں کے مطابق مؤثر بنانے کی امید رکھتا ہے۔

صہیونی حکومت کے نقطۂ نظر سے مکہ معاہدے کے اعلان کے ساتھ ہی تل ابیب کو ایران کے علاقائی سلامتی اور سیاسی خطرات کو بنیاد بنا کر علاقائی اتحاد تشکیل دینے کی اپنی امیدوں کے ایک اور حصے سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔

 عرب ممالک کا تل ابیب سے دور علاقائی شراکت داریوں کی جانب بڑھنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ ممالک اسرائیل کو محفوظ پناہ گاہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے ایک ایسے مسئلے کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے فاصلے پر رہنا ضروری ہے۔

صہیونی حکومت کی کابینہ نے اس معاہدے کے اعلان پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے اور اب تک اسے مسترد کرنے یا خطرہ قرار دینے کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف جاری نہیں کیا۔

تاہم انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر برائے امور تارکین وطن عمیخای شکلی نے متحدہ عرب امارات، قبرص، یونان اور صومالی لینڈ کے ساتھ ایک اتحاد تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس کے بقول خطرناک سنی اتحاد کا جواب دیا جا سکے۔

اس بنیاد پر مکہ معاہدے کو اب تک تل ابیب میں امریکہ کے لیے ایک انتباہ کے اعلان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ امریکہ کے متبادل حفاظتی انتظامات کے آغاز کے طور پر۔ یہ معاہدہ ایران اور اس کے اتحادیوں کو ریاض کے خلاف دشمنانہ اقدامات سے گریز پر مجبور کرنے کی ایک بالواسطہ کوشش بھی ہے۔

اس معاہدے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سعودی عرب تل ابیب کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی میز پر زیادہ شرائط اور مطالبات کے ساتھ آئے گا اور اس سہ فریقی حفاظتی چھتری کی تشکیل سے پہلے تجویز کیے جانے والے انتظامات کو مزید قبول نہیں کرے گا۔

تل ابیب کے نقطۂ نظر سے یہ معاہدہ عرب ممالک اور صہیونی حکومت کے درمیان مزید فاصلے پیدا کر رہا ہے، جبکہ ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ عرب ممالک ایران کو مشتعل نہ کرنے کے معاملے میں خاصی احتیاط برت رہے ہیں؛ اور یہی وہ بات ہے جس نے تل ابیب کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

مشہور خبریں۔

کیا مسلم لیگ(ن) تنہا ہو چکی ہے؟

?️ 23 جون 2024سچ خبریں: حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی میں اپنے

صہیونیوں کو بن گوریون پر میزائل حملے کا خدشہ

?️ 12 فروری 2026 سچ خبریں:مقبوضہ فلسطین میں واقع بن گوریون ہوائی اڈے پر ایران

نواز شریف طبی معائنہ کرا کر ایون فیلڈ پہنچ گئے، کراٹے چیمپئن بہنوں کی ملاقات

?️ 3 جون 2025لاہور (سچ خبریں) مسلم لیگ ن کے صدر و سابق وزیراعظم نواز

بزدلانہ حملے دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے، اسحٰق ڈار

?️ 12 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِ اعظم محمد اسحٰق

خلیج فارس تعاون کونسل کے ایران کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات

?️ 25 جولائی 2021خلیج تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل نائف الحجرف نے ہفتے کے روز

تشدد سے ریاست کو غیر مستحکم نہیں کیا جاسکتا۔ سرفراز بگٹی

?️ 17 فروری 2026کوئٹہ (سچ خبریں) بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہاکہ تشدد سے

امریکی ایلچی نے یمنی انصار اللہ کے اسرائیل پر جوابی حملوں کے بعد ایران پر الزام لگایا

?️ 10 جولائی 2025سچ خبریں: غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت میں یمنی انصار اللہ

عراق میں 24 گھنٹے میں دو امریکی فوجی قافلوں پر حملہ

?️ 5 اپریل 2022سچ خبریں:عراقی میڈیا ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں عراق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے