ٹرمپ کی حکمتِ عملی کی دستاویز میں دنیا کا نقشہ

ٹرمپ

?️

ٹرمپ کی حکمتِ عملی کی دستاویز میں دنیا کا نقشہ

 ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت کی پہلی قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کی دستاویز کا باریک جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن کے پالیسی ساز دنیا کے مختلف خطوں کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کو ازسرنو متعین اور جدید بنانے کے خواہاں ہیں، اور اس حکمتِ عملی کا واحد محور امریکی قومی مفادات کا تحفظ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، گزشتہ جمعرات  کو شائع ہونے والی اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ایک مؤثر حکمتِ عملی کے لیے جائزہ، درجہ بندی اور ترجیحات کا تعین ضروری ہے۔ کوئی بھی ملک، خطہ، موضوع یا نظریہ خواہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو، امریکہ کی حکمتِ عملی کا مرکز نہیں بن سکتا۔ خارجہ پالیسی کا اصل ہدف بنیادی قومی مفادات کا تحفظ ہے اور یہی اس حکمتِ عملی کا واحد محور ہے۔

اس 33 صفحات پر مشتمل دستاویز میں امریکہ کے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے علاقائی اہداف کی وضاحت کی گئی ہے۔ مغربی نصف کرے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ یہ خطہ اس طرح چلایا جائے کہ امریکہ کی جانب وسیع پیمانے پر ہجرت کو روکا جا سکے، وہاں کی حکومتیں منشیات کے دہشت گردوں، کارٹلز اور دیگر سرحد پار مجرمانہ تنظیموں کے خلاف امریکہ کے ساتھ تعاون کریں، یہ خطہ کسی بیرونی دشمنانہ حملے یا اہم اثاثوں پر قبضے سے محفوظ رہے اور امریکہ کی کلیدی اسٹریٹجک مقامات تک رسائی یقینی رہے۔ اس پالیسی کو دراصل ”مونرو ڈاکٹرائن“ کی ٹرمپ طرزِ تعبیر قرار دیا گیا ہے۔ اس خطے کے حوالے سے امریکی پالیسی کو "جذب اور توسیع” کے عنوان سے سمیٹا گیا ہے، یعنی دوست ممالک کو ساتھ ملا کر ہجرت، منشیات اور عدم استحکام کو روکنا اور نئے شراکت دار پیدا کر کے امریکہ کو ایک ترجیحی اقتصادی و سلامتی شراکت دار کے طور پر مضبوط کرنا۔

ایشیا کے بارے میں دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنی معیشت کو پہنچنے والے بیرونی نقصانات کو روکنا اور واپس پلٹنا چاہتا ہے، بحر ہند اور بحرالکاہل کو آزاد اور کھلا رکھنا چاہتا ہے، اہم بحری راستوں میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنا چاہتا ہے اور محفوظ و قابلِ اعتماد سپلائی چینز کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔ اس خطے کو دنیا کی تقریباً نصف مجموعی پیداوار کا مرکز قرار دیا گیا ہے اور اسے آئندہ صدی کا ایک اہم اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی میدانِ مقابلہ بتایا گیا ہے۔ چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو متوازن کرنے، غیر حساس شعبوں تک تجارت کو محدود رکھنے اور امریکہ کی اقتصادی خودمختاری کو بحال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے، جاپان اور جنوبی کوریا کو دفاعی اخراجات بڑھانے پر آمادہ کرنے، مغربی بحرالکاہل میں فوجی موجودگی مضبوط کرنے اور تائیوان و آسٹریلیا سے دفاعی بجٹ میں اضافے کا مطالبہ بھی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

یورپ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کی یورپ کی آزادی اور سلامتی کے تحفظ میں مدد کرنا چاہتا ہے اور ساتھ ہی یورپ کی مغربی تہذیبی شناخت اور اعتماد کو بحال کرنا چاہتا ہے۔ یوکرین میں جنگ بندی کو امریکی مفاد قرار دیا گیا ہے تاکہ یورپی معیشتوں کو استحکام ملے، جنگ کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے، روس کے ساتھ اسٹریٹجک استحکام قائم ہو اور یوکرین کی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ یورپ کی خودانحصاری کی حمایت، یورپی منڈیوں کو امریکی اشیا اور خدمات کے لیے کھولنا اور امریکی کارکنوں اور کاروبار کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کو بھی اہم اہداف بتایا گیا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ کوئی دشمن طاقت اس خطے، اس کے تیل و گیس کے ذخائر اور اس کی آبی گزرگاہوں پر غلبہ حاصل نہ کرے، اور ساتھ ہی وہ مہنگی اور طویل ”ہمیشگی کی جنگوں“ سے بھی اجتناب کرنا چاہتا ہے۔ اس خطے کے ساتھ کامیاب تعلقات کی کنجی یہ بتائی گئی ہے کہ علاقے کے ممالک اور عوام کو جیسا ہیں ویسا ہی قبول کیا جائے اور مشترکہ مفادات پر تعاون کیا جائے۔ امریکہ کے بنیادی مفادات میں خلیج فارس کے توانائی وسائل کا دشمنوں کے ہاتھ نہ لگنا، آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا، بحیرہ احمر میں جہاز رانی کا ممکن رہنا، علاقے کا امریکہ کے خلاف دہشت گردی کا مرکز نہ بننا اور اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانا شامل ہے۔

افریقہ کے بارے میں دستاویز میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کو منتخب ممالک کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تاکہ تنازعات میں کمی ہو، باہمی فائدے پر مبنی تجارتی تعلقات مضبوط ہوں اور بیرونی امداد کے روایتی ماڈل سے نکل کر سرمایہ کاری اور ترقی کے ماڈل کی طرف منتقل ہوا جائے، تاکہ افریقہ کے وافر قدرتی وسائل اور پوشیدہ اقتصادی صلاحیت سے بہتر طور پر فائدہ اٹھایا جا سکے۔

مشہور خبریں۔

فلسطین میں کوئی جگہ صہیونیوں کے لیے محفوظ نہیں

?️ 23 اگست 2023سچ خبریں:گزشتہ مہینوں کے دوران جنین کا علاقہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں

غزہ میں حماس کی مہلک کمین گاہوں کی نئی حکمت عملی، اسرائیلی فوج پر کاری ضربیں  

?️ 30 اپریل 2025 سچ خبریں:القسام بٹالین نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے خلاف مہلک

’دشمن ممالک ریاست پاکستان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں‘، قومی دھارے میں شامل سابق دہشت گرد کمانڈر

?️ 24 جنوری 2025 کوئٹہ: (سچ خبریں) بلوچستان میں مختلف دہشتگرد تنظیموں کو چھوڑنے والے

اعجاز چودھری کی خالی ہونے والی سینٹ نشست پر ضمنی انتخاب کا شیڈول جاری

?️ 13 اگست 2025لاہور (سچ خبریں) صوبائی الیکشن کمیشن نے سینٹ نشست کے ضمنی انتخاب

نیتن یاہو کے خلاف اسرائیلی عوام کا غصہ، سات اکتوبر کی ناکامی دبانے کی کوشش

?️ 22 دسمبر 2025نیتن یاہو کے خلاف اسرائیلی عوام کا غصہ، سات اکتوبر کی ناکامی 

26 نومبر کا احتجاج: 120 پی ٹی آئی کارکنوں کی ضمانتیں منظور، بیان حلفی جمع کرانے کا حکم

?️ 20 فروری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے

یمن کے واشنگٹن اور تل ابیب کے لیے چند پیغامات

?️ 26 دسمبر 2024سچ خبریں: یمن، جو لبنان کی حزب اللہ کے بعد مزاحمت کے

پاکستانی سفیر کی ایران پر اسرائیل کے بلا جواز حملوں کی مذمت

?️ 14 جون 2025سچ خبریں: اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر اور مستقل نمائندے نے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے