?️
نیویارک کے انتخابات میں زهران ممدانی کی تاریخی کامیابی،کیا امریکا ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو چکا ہے؟
نیویارک کے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں سوشلسٹ مسلم امیدوار زهران ممدانی کی غیر متوقع اور تاریخی کامیابی نے امریکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ فتح نہ صرف نیویارک بلکہ پورے امریکا میں سیاسی و سماجی بحث کا نیا دروازہ کھول رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کامیابی ایک نئے پارادائم شفٹ (Paradigm Shift) کا آغاز ہے؟
اگرچہ ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں عوامی مسائل اور طبقاتی انصاف کا مضبوط پیغام دیا، لیکن اس فتح میں بیرونی عوامل بھی اہم تھے۔ ان کے دونوں بڑے حریف کمزور اور بداعتماد تھے۔ موجودہ میئر ایرک ایڈمز کرپشن اور ٹرمپ سے قربت کے الزامات میں گھرے ہوئے تھے، جبکہ سابق گورنر اینڈریو کومو ماضی کے جنسی اسکینڈلز کی وجہ سے سیاسی طور پر کمزور ہو چکے تھے۔
ٹرمپ دور کی معاشی پالیسیوں، بڑھتی مہنگائی اور تجارتی جنگوں نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کی۔ نیویارک جیسے بڑے شہر میں طبقاتی خلیج اور مہنگائی کی شدت نے ممدانی کے معاشی انصاف پر مبنی بیانیے کو مزید تقویت دی۔
دلچسپ بات یہ کہ ٹرمپ کی طرف سے ممدانی کے مخالفین کی کھلی حمایت الٹا ممدانی کے حق میں گئی۔
ممدانی کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ان کا صاف، سادہ اور طبقاتی مسائل پر مرکوز انتخابی پیغام تھا۔ انہوں نے عوامی ٹرانسپورٹ مفت کرنے، رہائش کے بحران پر قابو پانے، ضرورتمند خاندانوں کے لیے مفت ڈے کیئر اور سرکاری فوڈ مارکیٹوں کے قیام جیسے براہِ راست عوامی فائدے کے منصوبے پیش کیے۔
نیویارک کی بڑی تعداد، خصوصاً نوجوانوں—حتیٰ کہ نوجوان یہودی ووٹرز—نے ممدانی کی حمایت کی۔ نسلِ نو پرانی سرد جنگ والے سوشلزم مخالف تصورات سے دور ہے۔ ممدانی نے ٹاؤن ہال میٹنگوں، عبادت گاہوں، گلی محلوں اور آن لائن پلیٹ فارموں پر براہ راست عوام سے رابطہ رکھا، جو ان کی کامیابی میں مرکزی کردار ثابت ہوا۔
مخالف میڈیا اور قدامت پسند حلقوں نے ممدانی کو "کمیونسٹ”، "جیہادی” اور "یہودی دشمن” ثابت کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہے۔ فلسطین کے حق میں ان کے ماضی کے مؤقف کو بھی ردعمل پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، مگر اس بار نیویارک کے ماحول میں اسرائیل مخالف جذبات بڑھ چکے تھے، جس سے یہ الزامات غیر مؤثر ہو گئے۔
ممدانی کی مہم اور کامیابی نے امریکا سے باہر بھی گہری دلچسپی پیدا کی۔ برطانیہ، یورپ اور ترقی پسند حلقوں میں ان کی کامیابی کو "سوشلسٹ سیاست کی نئی لہر” سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اسلاوی ژیژک اور جرمی کوربن جیسے عالمی فکری رہنماؤں نے بھی انہیں نئی امید” قرار دیا۔
ممدانی کی کامیابی ایک فکری اور سیاسی تبدیلی کا آغاز ضرور ہے، لیکن عملی رکاوٹیں بہت زیادہ ہیں۔ یہ وقت ہی بتائے گا کہ وہ اپنے انقلابی معاشی و سماجی ایجنڈے کو کس حد تک عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ تاہم، یہ حقیقت شک سے بالاتر ہے کہ ان کی کامیابی امریکا میں نئی بائیں بازو کی سیاست کو مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے—ایسی سیاست جو نسل، مذہب یا شناخت سے آگے بڑھ کر معاشی انصاف کو مرکز میں رکھتی ہے۔


مشہور خبریں۔
پاک سعودیہ تعلقات کو سرمایہ کاری، کاروبار کی بنیاد پر مزید مضبوط بنائینگے۔ وزیراعظم
?️ 8 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سعودی
اکتوبر
افغان خواتین اکیلے جہاز کا سفر نہیں کرسکتیں:طالبان
?️ 29 مارچ 2022سچ خبریں:طالبان نے اعلان کیا ہے کہ افغان خواتین بغیر اپنے محرم
مارچ
صدر کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلانے کی صورت میں متبادل پلان تیار
?️ 26 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس نہ
فروری
مغربی کنارے میں صیہونی مخالف آپریشن میں 4 فوجی زخمی
?️ 12 نومبر 2024سچ خبریں: عبرانی میڈیا نے منگل کی صبح بیت لحم شہر کے
نومبر
آرمی چیف کی مدت ملازمت پارلیمانی ایکٹ کے تحت 5 سال ہوئی، اسے توسیع نہیں کہہ سکتے، رانا ثنا اللہ
?️ 4 ستمبر 2025لاہور: (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ
ستمبر
گروسی کا واضح اعتراف کہ ایران کی جوہری تنصیبات تباہ نہیں ہوئیں
?️ 29 جون 2025سچ خبریں: تہران کے خلاف تنظیم کی سازش کی ناکامی کے باوجود
جون
ملک بھر میں بیشتر پیٹرول پمپس بند ہوگئے
?️ 25 نومبر 2021کراچی (سچ خبریں) پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال
نومبر
کسی کو دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ وہ میرے بچوں کے باپ کے طور پر صحیح ہوگا یا نہیں، حاجرہ یامین
?️ 1 اکتوبر 2024کراچی: (سچ خبریں) اداکارہ حاجرہ یامین نے کہا ہے کہ وہ کسی
اکتوبر