نیتن یاہو نے غزہ جنگ کا نام کیوں تبدیل کیا؟

غزہ

?️

سچ خبریں: صیہونی اخبار ہارٹز نے ایک مضمون میں لکھا کہ آتش بند کے بعد غزہ میں پہلی کابینہ میٹنگ بلانے کا صیہونی ریجیم کا فیصلہ جس کا محور جنگ کا نام تبدیل کرنا تھا، درحقیقت بیانیاتی جنگ کی عکاسی اور میدانی حقائق سے صیہونی لیڈروں کی دوری کو ظاہر کرتا ہے۔

صیہونی مصنف یوسی ورٹر نے اس سلسلے میں کہا کہ جنگ کا نام آئرن سوڈز سے بدل کر ریسریکشن وار رکھنے کے لیے کابینہ کی میٹنگ درحقیقت ناکامی کو کامیابی اور قومی تباہی کو "قومی احیا کے طور پر پیش کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔

انہوں نے نام تبدیل کرنے کا مقصد صیہونی ریجیم کی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی ناکامی کے داغ کو مٹانا قرار دیا اور کہا کہ نیتن یاہو کے لیے جنگ کے نام بدلنا اس کے نتائج کا سامنا کرنے سے کہیں آسان ہے۔

مصنف نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ قدم جنگ شروع ہونے کے دو سال بعد اٹھایا جا رہا ہے، جبکہ ایک لاکھ سے زائد صیہونی اب بھی بے گھر ہیں اور ہماس کے پاس قیدیوں کی لاشیں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کا تسلسل نیتن یاہو کے ذاتی مفادات کے تابع تھا، اور نیتن یاہو لفظ "سازش” کو "احیاء” سے بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، گویا کہ الفاظ عوامی غم و غصہ کو مٹا سکتے ہیں۔

ورٹر نے نشاندہی کی کہ قیدی جنہیں کئی مہینے پہلے رہا کیا جا سکتا تھا، سرنگوں میں ہی چھوڑ دیے گئے کیونکہ نیتن یاہو جنگ ختم نہیں کرنا چاہتا تھا، اور ہزاروں بے گھر افراد کو ضروری مدد نہیں مل سکی، جبکہ کابینہ میڈیا گیمز میں مصروف تھی۔

ہارٹز نے اس نام کی تبدیلی کو نیتن یاہو کی جوابدہی میں تاخیر کی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو جانتا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی آخرکار اس تک پہنچے گی، اس لیے وہ فیصلوں کے بجائے الفاظ پر بات چیت کو ترجیح دے رہا ہے۔

انہوں نے نیتن یاہو کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ذمہ داری سے بچنے کے لیے نیتن یاہو حکومت کے طریقے آمرانہ نظاموں کی درسی کتابوں میں پڑھائے جانے کے قابل ہیں۔
ورٹر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ نیتن یاہو بین الاقوامی بیانیے کے میدان میں بھی ایک ہارا ہوا کھلاڑی ہے۔ "غفلت” کا لفظ آج لاکھوں اسرائیلیوں کی زبان پر ہے، اور انہیں احساس ہو گیا ہے کہ غزہ کی جنگ ایک "دفاعی جنگ” نہیں بلکہ "غفلت” کا نتیجہ تھی۔

ہارٹز نے اپنا مضمون ان الفاظ کے ساتھ ختم کیا کہ نیتن یاہو جنگ کا نام جیسے چاہے بدل سکتا ہے، لیکن وہ اس کی نوعیت نہیں بدل سکتا، اور یہ جنگ جنگِ غفلت ہی رہے گی۔

مشہور خبریں۔

روہنگیا مسلمانوں کی نہ ختم ہونے والی مصیبتیں

?️ 23 مارچ 2021سچ خبریں:جنوبی بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزین کیمپ میں آگ لگنے

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کمیٹی کا اجلاس 2 فروری کو طلب

?️ 30 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے خصوصی سرمایہ

جانسن کے کیف کے عجلت میں سفر کے دوران یوکرین کو برطانوی فوج کی پیشکش

?️ 18 جون 2022سچ خبریں:   برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے جمعہ کی شام یوکرین

جو بائیڈن کا آرمینیائی قوم کے قتل عام کے حوالے سے اہم اعلان، ترکی نے امریکا پر بڑا الزام عائد کردیا

?️ 25 اپریل 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکی صدر جو بائیڈن نے سلطنت عثمانیہ کی افواج

وزیراعلی مریم نواز کی سڑکوں کو دھونے، عرق گلاب کے چھڑکاؤ کی ہدایت

?️ 8 جون 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے سڑکوں کو دھونے اور

مقبوضہ کشمیر کے جنوبی اضلاع میں سیلابی ریلوں سے 150 افراد ہلاک ہوئے.رپورٹ

?️ 24 ستمبر 2025سرینگر: (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں بارشوں اور بادل پھٹنے سے آئی

کیا بائیڈن آیت اللہ خامنہ ای کے سامنے جھک گئے ہیں؟امریکی میڈیا کیا کہتا ہے؟

?️ 13 اگست 2023سچ خبریں: امریکی ایوان نمائندگان کی ریپبلکن اسمبلی کی سربراہ ایلیس اسٹیفنک

بھارتی وزیر خارجہ کے بیان پر وزارت خارجہ کا رد عمل سامنے آگیا

?️ 23 جولائی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان نے افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے