نتن یاہو ٹرمپ کے سامنے تسلیم ہو چکے ہیں:صہیونی وزیر خزانہ

اسرائیلی وزیرِ خزانہ کا وزیراعظم پر الزام: نتن یاہو نے ٹرمپ کے سامنے سر جھکا دیا تہران (ایرنا) — اسرائیل کے وزیرِ خزانہ بتصلئیل اسموتریچ نے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے سامنے جھک گئے ہیں اور مغربی کنارے (ویسٹ بینک) پر اسرائیلی حاکمیت کے مسئلے کو امریکی صدر کے ساتھ اٹھانے سے گریز کر رہے ہیں۔ صہیونی میڈیا “حریدیم 10” کے مطابق، کنسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں مغربی کنارے پر اسرائیلی حاکمیت سے متعلق ووٹنگ کے بعد امریکی مخالفت کے تناظر میں، اسموتریچ نے ہفتے کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک طویل پوسٹ میں نتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسموتریچ نے کہا کہ جس طرح نتن یاہو نے اسرائیلی اسیران کی رہائی کے معاملے پر ٹرمپ کو قائل کیا، اسی طرح انہیں اسرائیلی حاکمیت کے موضوع پر بھی دباؤ ڈالنا چاہیے۔ ان کے بقول، "جب ٹرمپ اقتدار میں آئے تو وہ اسیران کے مسئلے کی اہمیت سے ناواقف تھے، مگر اسرائیلی اہلکاروں اور خاندانوں کی بار بار اپیلوں کے بعد ان کا موقف بدل گیا۔" وزیر خزانہ نے شکوہ کیا کہ "ٹرمپ نے اسرائیلی اسیران کی آزادی کی حمایت تو کی، مگر مغربی کنارے پر اسرائیلی حاکمیت کو ممنوعہ موضوع قرار دیا — حالانکہ یہی وہ وقت ہے جب اسرائیل کو اپنی حاکمیت کے مؤقف پر ڈٹے رہنا چاہیے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے خطرناک تصور کو ختم کرنا چاہیے۔" اسموتریچ کے مطابق، کنسٹ نے اکثریت کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت اور اسرائیلی حاکمیت کی حمایت کی ہے، مگر "بدقسمتی سے نتن یاہو اس مسئلے کو امریکی صدر کے ساتھ مذاکرات میں پیش کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو "عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کے بدلے میں بیچ دیا" اور غزہ میں جنگ بندی یا ابراہیم معاہدوں کے توسیعی منصوبے کی خاطر اسرائیلی حاکمیت کے حق سے دستبردار ہو گئے۔ تاہم اسموتریچ کو یقین ہے کہ "ٹرمپ اسرائیل کے حقیقی دوست ہیں، اور جب وہ سمجھیں گے کہ یہ معاملہ اسرائیلیوں کے لیے کتنا اہم ہے تو وہ اپنی پالیسی بدل دیں گے۔" اسموتریچ نے صہیونی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ "ہر ہفتے حاکمیت کے حق میں بڑے مظاہرے کریں، سڑکیں اور پل بند کریں، اور کنسٹ میں قانون منظور کرائیں تاکہ امریکہ کو اسرائیلی عزم کا اندازہ ہو۔" رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکومت کے اندر اس وقت گہری تقسیم پائی جاتی ہے۔ دائیں بازو کے انتہا پسند اراکین مغربی کنارے پر اسرائیلی حاکمیت کو قانونی شکل دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ نتن یاہو امریکی مخالفت کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ نتن یاہو کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو خدشہ ہے کہ اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے، جو ان کی حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن جائے گا۔ یہ تنازع ایسے وقت شدت اختیار کر رہا ہے جب اسرائیلی حکومت، غزہ میں جنگ بندی کے بعد، امریکی حمایت کے ساتھ اپنی پالیسیوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے — لیکن مغربی کنارے کی حاکمیت کا مسئلہ اب نتن یاہو کے لیے داخلی اور خارجی دباؤ کے درمیان ایک نیا امتحان بن چکا ہے۔

?️

 نتن یاہو ٹرمپ کے سامنے تسلیم ہو چکے ہیں:صہیونی وزیر خزانہ
اسرائیل کے وزیرِ خزانہ بتصلئیل اسموتریچ نے وزیراعظم بنیامین نتن یاہو پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے سامنے جھک گئے ہیں اور مغربی کنارے (ویسٹ بینک) پر اسرائیلی حاکمیت کے مسئلے کو امریکی صدر کے ساتھ اٹھانے سے گریز کر رہے ہیں۔
صہیونی میڈیا حریدیم 10 کے مطابق، کنسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) میں مغربی کنارے پر اسرائیلی حاکمیت سے متعلق ووٹنگ کے بعد امریکی مخالفت کے تناظر میں، اسموتریچ نے ہفتے کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک طویل پوسٹ میں نتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
اسموتریچ نے کہا کہ جس طرح نتن یاہو نے اسرائیلی اسیران کی رہائی کے معاملے پر ٹرمپ کو قائل کیا، اسی طرح انہیں اسرائیلی حاکمیت کے موضوع پر بھی دباؤ ڈالنا چاہیے۔ ان کے بقول، "جب ٹرمپ اقتدار میں آئے تو وہ اسیران کے مسئلے کی اہمیت سے ناواقف تھے، مگر اسرائیلی اہلکاروں اور خاندانوں کی بار بار اپیلوں کے بعد ان کا موقف بدل گیا۔”
وزیر خزانہ نے شکوہ کیا کہ "ٹرمپ نے اسرائیلی اسیران کی آزادی کی حمایت تو کی، مگر مغربی کنارے پر اسرائیلی حاکمیت کو ممنوعہ موضوع قرار دیا — حالانکہ یہی وہ وقت ہے جب اسرائیل کو اپنی حاکمیت کے مؤقف پر ڈٹے رہنا چاہیے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے خطرناک تصور کو ختم کرنا چاہیے۔”
اسموتریچ کے مطابق، کنسٹ نے اکثریت کے ساتھ فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت اور اسرائیلی حاکمیت کی حمایت کی ہے، مگر "بدقسمتی سے نتن یاہو اس مسئلے کو امریکی صدر کے ساتھ مذاکرات میں پیش کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو "عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کے بدلے میں بیچ دیا” اور غزہ میں جنگ بندی یا ابراہیم معاہدوں کے توسیعی منصوبے کی خاطر اسرائیلی حاکمیت کے حق سے دستبردار ہو گئے۔ تاہم اسموتریچ کو یقین ہے کہ "ٹرمپ اسرائیل کے حقیقی دوست ہیں، اور جب وہ سمجھیں گے کہ یہ معاملہ اسرائیلیوں کے لیے کتنا اہم ہے تو وہ اپنی پالیسی بدل دیں گے۔”
اسموتریچ نے صہیونی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ "ہر ہفتے حاکمیت کے حق میں بڑے مظاہرے کریں، سڑکیں اور پل بند کریں، اور کنسٹ میں قانون منظور کرائیں تاکہ امریکہ کو اسرائیلی عزم کا اندازہ ہو۔”
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی حکومت کے اندر اس وقت گہری تقسیم پائی جاتی ہے۔ دائیں بازو کے انتہا پسند اراکین مغربی کنارے پر اسرائیلی حاکمیت کو قانونی شکل دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، جبکہ نتن یاہو امریکی مخالفت کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
نتن یاہو کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو خدشہ ہے کہ اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے، جو ان کی حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی چیلنج بن جائے گا۔
یہ تنازع ایسے وقت شدت اختیار کر رہا ہے جب اسرائیلی حکومت، غزہ میں جنگ بندی کے بعد، امریکی حمایت کے ساتھ اپنی پالیسیوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے — لیکن مغربی کنارے کی حاکمیت کا مسئلہ اب نتن یاہو کے لیے داخلی اور خارجی دباؤ کے درمیان ایک نیا امتحان بن چکا ہے۔

مشہور خبریں۔

یمن کے جدید بیلسٹک میزائل تیار

?️ 21 جولائی 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے چینل 12 نے الحدیدہ بندرگاہ پر اس

افغان طالبان کی امریکہ کو دھمکی

?️ 26 جون 2021سچ خبریں:افغان طالبان نے کہا کہ امریکہ نے  افغانستان کے متعدد صوبوں

سیکیورٹی فورسز نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں 2 ڈرونز مار گرائے

?️ 14 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی فورسز نے

یوکرین میں نیٹو فوج بھیجنے کا برطانیہ کا خیال ؛سی آئی سے سابق افسر کی زبانی

?️ 4 فروری 2024سچ خبریں: امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ریٹائرڈ

ایران کے تیل سے متعلق ٹرمپ کا عجیب دعوی

?️ 1 فروری 2026سچ خبریں:اگرچہ بھارت کی ایران سے تیل کی درآمدات برسوں سے تقریباً

حکومت کو کوئی گھبراہٹ نہیں: وزیر خارجہ

?️ 9 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ

کن حراستی مراکز نے گوانتاناموبے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے؟

?️ 11 مارچ 2024سچ خبریں: انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے غزہ میں صیہونی حکومت

اسرائیل نے غزہ کے خلاف اپنی جارحیت کو فائدہ پہنچانے کے لیے علاقائی بحران سے کیسے فائدہ اٹھایا؟

?️ 20 جولائی 2026سچ خبریں: الجزیرہ نیٹ ورک کی ایک رپورٹ میں زور دیا گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے