?️
سچ خبریں: صیونیستی ریاست کے اندرونی سیکورٹی اسٹڈیز سینٹر، جو تل ابیب یونیورسٹی سے وابستہ ہے، نے اپنی نئی رپورٹ میں اس ریاست کی سلامتی کی صورتحال کے حوالے سے بنیادی فوجی نظریات کی ازسرنو تعریف کا جائزہ لیا ہے۔
خصوصاً "فتح” اور "فیصلہ کن فتح” کے تصورات پر غور کیا گیا ہے جو ستر کی دہائی سے لے کر غزہ اور لبنان میں متعدد جنگوں اور ایران اور یمن کے ساتھ حالیہ جھڑپوں کے دوران فلسطینیوں اور عربوں کے ساتھ تصادم کے میدان میں ہونے والے بڑے تبدیلیوں کے تناظر میں کی گئی ہے۔
مذکورہ رپورٹ تیار کرنے والے، صیونیستی فوج کے ریٹائرڈ جنرل اور اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ، تامیر ہیمن نے فلسطین پر قابض ریاست کی سیکورٹی ادارے کے اندر ہونے والی فکری تبدیلیوں کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ تبدیلیاں اس بات کے بڑھتے ہوئے ادراک پر مبنی ہیں کہ غیر ریاستی مسلح گروہوں کے خلاف نئی جنگوں میں فیصلہ کن فوجی فتح حاصل کرنے کے لیے روایتی ذرائع اب مؤثر نہیں رہے۔
رپورٹ کے مطابق، اس چیز نے توجہ کو فوجی فتح کے بجائے سیاسی فتح اور اسٹریٹجک کامیابی کے تصورات کی طرف موڑ دیا ہے، جو طویل اور پیچیدہ جنگوں میں تل ابیب کی اپنی مرضی مسلط کرنے کی صلاحیت میں گہرے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ لہٰذا، فتح کے تصور کو اپنے روایتی فریم ورک سے باہر نکلنا ہوگا جو دشمن کی مکمل فوجی شکست اور جنگ جاری رکھنے کی اس کی صلاحیت اور عزم کے خاتمے پر مبنی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فتح کے نئے تصور کا مطلب کچھ محدود اہداف کا حصول ہے، جو تل ابیبی حکام کو فوجی کارروائی ختم کرنے کی اجازت دیتا ہے، چاہے دشمن نسبتاً منظم رہے یا اپنی طاقت کے بعض عناصر برقرار رکھے۔ فتح کے ان تصورات میں یہ تبدیلی اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ میدان جن میں تل ابیب نے گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگ لڑی ہے، اب فیصلہ کن فوجی فتح کی اجازت نہیں دیتے۔
صیونیستی ریاست کے اندرونی سیکورٹی اسٹڈیز سینٹر نے زور دیا کہ ستر کی دہائی سے، تل ابیب کے سیاسی حکام نے فوج سے غیر ریاستی اداکاروں جیسے ماضی میں پیلسٹائن لبریشن آرگنائزیشن (PLO) اور موجودہ دور میں حماس اور حزب اللہ کے خلاف فیصلہ کن فتح حاصل کرنے کا مطالبہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ اس کے بجائے، طویل تصادم یا لامتناہی اسٹریٹجک جنگ میں پھنسے بغیر قابل حصول اہداف مقرر کیے جاتے ہیں۔
مذکورہ رپورٹ نے صیونیستی ریاست کے سلامتی نظریے میں گہرے داخلی بحران کی طرف بھی اشارہ کیا اور اعلان کیا کہ تل ابیب جدید جنگوں میں مکمل فتح کا تصور کرنے سے قاصر ہے اور اس نے دشمن کے تباہ کرنے کے بجائے سلامتی کی صورتحال میں بہتری پر مبنی فتح کے سیاسی تصور پر انحصار کیا ہے۔ البتہ، اس تبدیلی کے وسیع اسٹریٹجیک نتائج ہیں، جو کوششوں کو فوجی فیصلہ کنیت سے بیرونی سیاسی انتظامات کی طرف موڑ دیتی ہے اور تل ابیب کی طاقت کو عارضی اور نامکمل طاقت کے طور پر بیان کرتی ہے۔
رپورٹ کے مصنف نے واضح کیا کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ تل ابیب غیر ریاستی اداکاروں کے دور میں فوجی طاقت کی حدود سے دوچار ہے اور اس بات کا اشارہ کنانہ ہے کہ اسٹریٹجک فتح محق طاقت کے ذریعے حاصل نہیں کی جا سکتی۔ مثال کے طور پر، غزہ میں حماس کی مسلسل سیاسی اور سماجی موجودگی وقت گزرنے کے ساتھ تل ابیب کی کسی بھی فوجی فتح کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
رپورٹ کا نتیجہ ہے کہ صیونیستی ریاست کے بیانیے میں فتح ایک طویل مدتی سیاسی عمل ہے جو بیرونی انتظامات اور علاقائی ماحول کو تبدیل کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے، نہ کہ فوجی مشینری کے ذریعے گارنٹی شدہ نتیجہ۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
بھارت کے متنازع بیانات: دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے ’ہمہ وقت‘ تیار ہیں، آرمی چیف عاصم منیر
?️ 4 دسمبر 2022اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر نے
دسمبر
جنوبی عراق میں دھماکہ/ 15 افراد شہید ، 25 زخمی
?️ 7 دسمبر 2021سچ خبریں:میڈیا ذرائع نے بتایا ہے کہ جنوبی عراقی صوبے بصرہ میں
دسمبر
اسرائیل اب بھی حماس کی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکا
?️ 6 ستمبر 2025اسرائیل اب بھی حماس کی صلاحیتوں کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکا
ستمبر
صیہونیوں کو ایک بار پھر غزہ میں ذلت کا سامنا
?️ 28 اکتوبر 2023سچ خبریں: صیہونی کمانڈو فورسز کا آپریشن جنہوں نے غزہ کی پٹی
اکتوبر
افغانستان میں امن کے شراکت دار بننے کے لئے تیار ہیں: وزیر اعظم
?️ 22 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان
جون
ایکواڈور کے صدارتی امیدوار کا قتل
?️ 10 اگست 2023سچ خبریں: نیوز میڈیا نے آج جمعرات کو ایکواڈور کے صدارتی امیدوار
اگست
عالمی بینک سے پاکستان کو کتنی رقم ملنے والی ہے؟
?️ 22 جون 2024سچ خبریں: عالمی بینک کی پاکستان کے لیے 53 کروڑ 50 لاکھ
جون
میری حکومت کی ترجیح غربت، بدعنوانی اور بے روزگاری کے خلاف جنگ ہے:عراقی وزیراعظم
?️ 3 نومبر 2022سچ خبریں:عراق کے وزیر اعظم نے اپنی حکومت میں بدعنوانی کے خلاف
نومبر