?️
سچ خبریں:پاکستان کے ایٹمی تجربے کو 28 سال مکمل ہونے کے باوجود جنوبی ایشیا میں بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ حالیہ تنازعات نے خطے میں ایٹمی خطرات اور عالمی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
پاکستان کے ایٹمی تجربے کو 28 سال مکمل ہو گئے ہیں، تاہم جنوبی ایشیا کا خطہ اب بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی تصادم کے خطرے کے سائے میں ہے۔
گزشتہ سال ہونے والی محدود جنگ نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ دیرینہ تنازعات کا پرامن حل نہ نکلنے کی صورت میں خطے اور عالمی امن کو سنگین خطرات لاحق رہتے ہیں۔
پاکستان نے 28 سال قبل آج ہی کے دن یعنی 28 مئی 1998 کو اپنا پہلا کامیاب ایٹمی تجربہ کیا تھا، جس کے بعد وہ دنیا کی ایٹمی طاقتوں کی فہرست میں شامل ہو گیا اور بھارت کے بعد اس فہرست میں شامل ہونے والا دوسرا جنوبی ایشیائی ملک بنا۔
پاکستان میں اس دن کو یوم تکبیر کے طور پر منایا جاتا ہے اور اسے قومی سطح پر ایک اہم اور تاریخی دن قرار دیا جاتا ہے، جس پر اعلیٰ حکومتی و عسکری قیادت کے پیغامات جاری کیے جاتے ہیں۔
پاکستان واحد مسلم ملک ہے جو ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ہے، اور اس مناسبت سے 28 مئی کو ملک میں عام تعطیل بھی ہوتی ہے۔
گزشتہ سال، صرف 27ویں سالگرہ سے چند ہفتے قبل، پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک محدود فوجی تصادم بھی ہوا تھا جو چار دن جاری رہنے کے بعد جنگ بندی پر ختم ہوا۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو اب بھی غیر مستحکم اور خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ 28 مئی 1998 کو بھارت کے ایٹمی تجربات کے جواب میں پاکستان نے اپنے کامیاب تجربات کیے اور خطے میں اسٹریٹجک توازن بحال کیا۔
انہوں نے کہا کہ شدید بین الاقوامی دباؤ، اقتصادی رکاوٹوں اور پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود پاکستان نے اپنے دفاع اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
وزیر اعظم کے مطابق پاکستان کی مضبوط ایٹمی صلاحیت اور مسلح افواج کی تیاری خطے میں کسی بھی جارحیت کے خلاف مضبوط رکاوٹ ہے۔
پاکستانی فوج نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک کی اسٹریٹجک صلاحیت قومی امانت ہے جو امن، استحکام، علاقائی سالمیت اور مؤثر دفاع کی ضمانت ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی ماہرین مسلسل خبردار کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں کسی بھی غیر ذمہ دارانہ اقدام کی صورت میں صورتحال ایٹمی تصادم کی طرف جا سکتی ہے۔
گزشتہ سال بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران ایک بار پھر یہ خطرہ سامنے آیا کہ دونوں ایٹمی طاقتیں کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہیں، جس پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کیا۔
پاکستانی حکام امریکہ اور مغربی ممالک پر بھی الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ ایٹمی تعاون کے حوالے سے امتیازی رویہ اپناتے ہیں، خصوصاً نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت پر اعتراض کیا جاتا ہے۔
پاکستان نے تقریباً ایک دہائی قبل اس گروپ کی رکنیت کے لیے باضابطہ درخواست دی تھی، جبکہ بھارت بھی اس کا امیدوار ہے۔ تاہم دونوں ممالک این پی ٹی معاہدے کے رکن نہیں ہیں۔
مختلف اندازوں کے مطابق پاکستان کے پاس تقریباً 120 ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں، جبکہ اس کے پاس میزائل اور دیگر دفاعی صلاحیتیں بھی موجود ہیں۔
پاکستان نے 1998 میں بھارت کے جواب میں ایٹمی تجربہ کیا تھا، اور تب سے وہ خطے میں ایک اہم جوہری طاقت کے طور پر موجود ہے۔ حالیہ برسوں میں اس نے بین الاقوامی ایٹمی اداروں کے ساتھ تعاون بھی جاری رکھا ہے، تاہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ جوہری و میزائل پروگرام پر تناؤ برقرار رہتا ہے۔


مشہور خبریں۔
پاکستانی حج مشن سر فہرست قرار، ایکسلینسی ایوارڈ سے نواز دیا گیا
?️ 10 جون 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سعودی عرب نے پاکستانی حج مشن کو سر
جون
فلسطین کو تسلیم کیے جانے کے بارے میں ترکی کا بیان
?️ 29 مئی 2024سچ خبریں: ترکی کے وزیر خارجہ نے کمبوڈیا کے اپنے ہم منصب
مئی
اسرائیل کو یورپ کے صیہونی مخالف موقف پر تشویش ہے
?️ 17 مئی 2025سچ خبریں: غزہ میں جاری نسل کشی اور وسیع پیمانے پر تباہی
مئی
اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، خطے میں بدلتی صورتحال پر اظہارِ تشویش
?️ 6 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار
مارچ
ایران کے خلاف جنگ کے نتائج پر عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس مختلف تجزیے
?️ 11 جولائی 2026سچ خبریں:ایران کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کی جنگ کے بعد
جولائی
ناروے میں قرآن پاک کی ایک بار پھر بے حرمتی
?️ 5 جولائی 2022سچ خبریں:ناروے کے ایک سماجی کارکن نے ایک مسلم محلے میں قرآن
جولائی
سیکیورٹی فورسز نے راجگال میں فتنہ الخوارج کی دراندازی ناکام بنادی، 4 خارجی ہلاک
?️ 21 دسمبر 2024 پشاور: (سچ خبریں) سیکیورٹی فورسز نے خیبر کے علاقے راجگال میں
دسمبر
جلاؤ گھیراؤ میں ملوث افراد تربیت یافتہ دہشت گرد تھے، رانا ثنااللہ
?️ 14 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے پاکستان تحریک انصاف
مئی