?️
سچ خبریں: حزب اللہ نے لبنان کے صدر جنرل مائیکل عون، پارلیمان کے اسپیکر نبیہ بری، اور وزیر اعظم نواف سلام کے نام ایک کھلا خط جاری کیا ہے، جس میں اس نے قومی مفاہمت کے پرخلوص عزم، خودمختاری کی حمایت، اور ملک کی سلامتی و استحکام کے تحفظ کے پیش نظر اپنا جامع نقطہ نظر پیش کیا ہے۔
یہ خط صہیونی دراندازیوں اور جنگ بندی کے اعلان کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف لبنان کے متحد موقف کو مضبوط بنانے اور تقویت دہی کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
یہ اعلان امریکی ایلچی ایموس ہوک سٹائن کی کوششوں اور لبنان اور صہیونی ریاست کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے نتیجے میں وجود میں آیا تھا۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد لبنان کو ایسے نئے مذاکرات کے دور میں کھینچنے کی کوششوں کو ناکام بنانا ہے جو صرف صہیونی دشمن اور اس کے حلیفوں کے مفادات کی خدمت کرتے ہیں۔ جماعت اسے موجودہ دور میں لبنان کے مفادات کے تحفظ کا موثر حل قرار دیتی ہے۔
یاد رہے کہ 27 نومبر 2024 کو طے پانے والا جنگ بندی کا اعلان، درحقیقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 (2006) کے عملی نفاذ کا طریقہ کار تھا، جس میں لبنان کے جنوبی دریائے لیطانی کے علاقے کو خصوصی آپریشنل زون قرار دیا گیا تھا۔ اس معاہدے کے متن میں اس زون سے ہتھیاروں اور مسلح افراد کے انخلاء اور اسرائیلی دشمن کی نیلی لکیر کے پیچھے پسپائی پر زور دیا گیا تھا۔
اس اعلان کی تمہید میں واضح کیا گیا تھا کہ اس کے تمام شق قرارداد 1701 کے نفاذ کی جانب ایک قدم ہیں۔ اس قرارداد کے تحت لبنانی حکومت حزب اللہ اور ملک میں موجود تمام دیگر مسلح گروہوں کو اسرائیل کے خلاف کسی بھی کارروائی سے روکے گی، جس کے بدلے میں اسرائیل زمین، ہوا یا سمندر کے راستے سے لبنان کے خلاف کسی بھی جارحانہ فوجی کارروائی، بشمول غیر فوجی یا فوجی اہداف، سے گریز کرے گا۔
حزب اللہ کے خط کے مطابق، حقائق اس بات کے گواہ ہیں کہ اعلان کے جاری ہوتے ہی لبنان اور حزب اللہ نے اس کی پاسداری میں مکمل عہد کی پابندی کی، لیکن صہیونی دشمن زمین، سمندر اور ہوا کے ذریعے اس اعلان کی خلاف ورزیوں اور دراندازیوں میں ملوث رہا اور اس نے ان جارحانہ اقدامات کو روکنے کی درخواستوں کو یکسر نظر انداز کیا۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ بعض حلقوں نے حکومت کے یکطرفہ ہتھیاروں کے انخلاء کے فیصلے کو لبنان کی نیک نیتی کا اظہار قرار دینے کی کوشش کی، لیکن دشمن نے لبنانی حکومت کی اس غلطی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے لبنان سے مزاحمت کو غیرمسلح کرنے کو اپنی جارحیت بند کرنے کی شرط قرار دے دیا، جو نہ تو جنگ بندی کے اعلان کا حصہ ہے اور نہ ہی قابل قبول ہے۔
حزب اللہ کے مطابق، ہتھیاروں کا معاملہ کسی غیرملکی درخواست یا اسرائیلی بلیک میلنگ کے جواب میں نہیں، بلکہ ایک قومی فریم ورک کے تحت حل کیا جائے گا، جس میں قومی سلامتی، دفاع اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے جامع حکمت عملی پر اتفاق رائے ہو۔
حزب اللہ نے زور دیا کہ ہر لبنانی پر واضح ہونا چاہیے کہ اسرائیلی دشمن صرف حزب اللہ کو ہی نشانہ نہیں بنا رہا، بلکہ پورے لبنان اور اس کے تمام اداروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کا مقصد لبنان کی ہر اس صلاحیت کو سلب کرنا ہے جو صہیونی ریاست کی بلیک میلنگ کو مسترد کرتی ہے اور اس کی پالیسیوں اور مفادات کے آگے سر تسلیم خم کرنے سے انکاری ہے۔ اس کے لیے ایک متحد، باعزت اور قومی مزاحمت درکار ہے جو ہمارے ملک اور عوام کا احترام قائم رکھے اور لبنان کی خودمختاری اور وقار کو محفوظ بنائے۔
جماعت نے کہا کہ مذاکرات کے جال میں پھنسنا، درحقیقت صہیونی دشمن کے مفاد میں مزید مراعات حاصل کرنا ہے، جو نہ تو اپنے وعدوں کا پابند ہے اور نہ ہی کسی کو مراعات دیتا ہے۔ امریکی طاغوت کی حمایت یافتہ اس وحشی درندے کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
خط میں مزید کہا گیا ہے کہ لبنان فی الحال جنگ بندی کے اعلان کے متن کے تحت، دراندازیوں کو روکنے اور صہیونی دشمن کو اس کے نفاذ پر مجبور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، اور وہ کسی بھی طرح کی بلیک میلنگ یا صہیونی دشمن کے ساتھ سیاسی مذاکرات میں جانے پر راضی نہیں ہوگا، کیونکہ اس کا کوئی قومی فائدہ نہیں ہے اور یہ لبنان کی خودمختاری کے لیے وجودی خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔
خط کے اختتام پر حزب اللہ نے تاکید کی کہ اسے قبضے اور جارحیت کے خلاف مزاحمت کرنے کا جائز حق حاصل ہے اور وہ اپنی فوج اور عوام کے شانہ بشانہ ملک کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کھڑا رہے گا۔ اس نے کہا کہ جائز دفاع نہ تو امن کے فیصلے کا محتاج ہے اور نہ جنگ کے، بلکہ لبنان کو اپنے آپ کو اس دشمن کے خلاف دفاع کرنے کا حق ہے جس نے جنگ مسلط کی ہے اور جس کی جارحیت رکنے کا نام نہیں لے رہی۔
حزب اللہ نے موجودہ حالات میں صہیونی دراندازیوں اور زیادتیوں کو روکنے اور ان کے پیدا کردہ سلامتی اور وجودی خطرات کو دفعتاً دور کرنے کے لیے کوششوں کے اتحاد کو ناگزیر قرار دیا۔ جماعت نے مزاحمتی عوام کے صبر کا اعتراف کیا اور ان سے وعدہ کیا کہ وہ عزت، وقار اور حق کی راہ میں اپنی زمین اور عوام کے تحفظ اور موجودہ و آنے والی نسلوں کے خوابوں کی تعبیر کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
اسٹریٹ ہنگامے استقامتی ممالک کے خلاف امریکہ کا حربہ
?️ 24 جنوری 2023سچ خبریں:حال ہی میں امریکی جرنل اخبار وال اسٹریٹ میں شائع ہونے
جنوری
یمنی عوام کا ٹرمپ کو خطاب
?️ 15 فروری 2025سچ خبریں: غزہ کی حمایت اور تمام سازشوں کا مقابلہ کرنے کے
فروری
تحقیقاتی اداروں نے بھارت کی دہشت گردی بے نقاب کی
?️ 7 جولائی 2021 اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے
جولائی
اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کا معاملہ، نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کردیا
?️ 10 اپریل 2021تل ابیب (سچ خبریں) اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بین
اپریل
انصاراللہ کے خلاف امریکی پابندیوں کا نتیجہ کیا ہوگا/ اسرائیل کے حامیوں کو غزہ جنگ کی کیا قیمت چکانا پڑے گی؟عطوان
?️ 19 فروری 2024سچ خبریں: ممتاز فلسطینی تجزیہ نگار نے غزہ کی حمایت میں یمنی
فروری
صدر، وزیراعظم کا پلازہ آتشزدگی پر اظہارِ افسوس، متاثرین کی ہر ممکن امداد کا حکم
?️ 18 جنوری 2026اسلام آباد (سچ خبریں) صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف
جنوری
نیتن یاہو ٹرمپ ایک فرمانبردار کتا ہے: لائبرمین
?️ 4 فروری 2026 سچ خبریں: آویگدور لیبرمن، اسرائیل بیتینو پارٹی کے سربراہ، نے ریحمان
فروری
پی ٹی آئی ریاست اور اداروں پر حملہ کر کے کس کی خدمت کر رہی ہے؟ طارق فضل چوہدری
?️ 10 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے سوال اٹھایا
دسمبر