?️
غزہ کے عوام طوفان کی تیاری کے ساتھ ساتھ جنگ کے خاتمے کے منتظر
برطانوی اخبار ایندیپینڈنٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ غزہ کی پٹی کے مکین ایک اور شدید موسمی نظام اور ممکنہ طوفان کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ اسی کے ساتھ وہ جنگ کے خاتمے کی کسی پیش رفت کے منتظر بھی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، غزہ میں باپ آنے والے طوفانوں کے پیشِ نظر خیموں کو پرانی لکڑیوں کے ٹکڑوں سے مضبوط کر رہے ہیں اور خیموں میں پڑنے والے سوراخوں کو دستیاب اشیا سے بند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ مائیں شدید نمی، محدود اور بوسیدہ گھریلو سامان کے درمیان خیموں کے اندرونی حصے کو قابلِ رہائش بنانے میں مصروف ہیں۔
ایندیپینڈنٹ نے لکھا کہ امدادی اداروں نے غزہ کے باشندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ تباہی کے دہانے پر کھڑی عمارتوں میں پناہ لینے سے گریز کریں، تاہم مسئلہ یہ ہے کہ غزہ کا بیشتر حصہ ملبے سے اٹا ہوا ہے اور بارش سے محفوظ رہنے کے لیے مقامات نہایت محدود ہیں۔
اس سے قبل غزہ میں سرکاری میڈیا دفتر کے سربراہ اسماعیل الثوابته نے بھی اسرائیلی حملوں کے باعث بنیادی ڈھانچے کی تباہ حالی اور خراب موسمی حالات کے پیش نظر سنگین صورتحال سے خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزرگاہوں کی مسلسل بندش کے باعث ایک نئی انسانی تباہی کا خدشہ موجود ہے۔
الثوابته کے مطابق، مسلسل بارش، تیز ہوائیں، اچانک سیلاب کا امکان اور کم دباؤ کا نظام غزہ کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری اداروں نے دستیاب وسائل کے تحت کچھ متاثرہ خاندانوں کے لیے عارضی پناہ گاہیں فراہم کی ہیں، لیکن شدید وسائل کی کمی اور وسیع پیمانے پر تباہی کے باعث یہ سہولتیں نہایت محدود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حملوں کے تسلسل کے باعث خراب موسمی حالات سے متاثرہ افراد کی مشکلات بدستور برقرار ہیں اور بڑی تعداد میں خاندان ایسے عارضی مراکز میں رہائش پذیر ہیں جہاں بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں۔
غزہ کے سرکاری میڈیا دفتر کے سربراہ نے مزید بتایا کہ پینے کے پانی اور بارش کے پانی کی نکاسی کے نظام سمیت بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے صحت اور ماحولیاتی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ محاصرے اور گزرگاہوں کی بندش کے باعث رہائش اور پناہ کے لیے درکار سامان کی فراہمی ممکن نہیں، جو ایک نئے انسانی المیے کی نشاندہی کرتا ہے۔
یہ بحران ایسے وقت میں جاری ہے جب صہیونی حکومت جنگ بندی کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے سے انکار کر رہی ہے اور غزہ میں 3 لاکھ خیموں اور تیار شدہ گھروں کے داخلے کو روک رکھا ہے۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے امریکی حمایت کے ساتھ شروع ہونے والی اسرائیلی نسل کش جنگ میں اب تک 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید، 1 لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ کی تقریباً 90 فیصد شہری بنیادی تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔


مشہور خبریں۔
کیا امریکہ میں تیسری پارٹی بن کر رہے گی؟
?️ 21 جولائی 2025 سچ خبریں:تقریباً 170 سال سے امریکی سیاست دو جماعتوں ریپبلکن اور
جولائی
اسپین کی اسرائیل کے خلاف احتجاجی کارروائی؛ عالمی کپ سے دستبرداری کا امکان
?️ 18 ستمبر 2025سچ خبریں: اسپین کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگر اسرائیل
ستمبر
شام میں امریکی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے ہاتھوں متعدد نوجوان اغوا
?️ 8 جنوری 2022سچ خبریں:سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے نام سے مشہور یکی حمایت یافتہ جنگجوؤں
جنوری
صیہونیوں کے ہاتھوں اب تک کتنے فلسطینی سائنسدان اور محقق شہید ہوئے ہیں؟
?️ 18 مئی 2024سچ خبریں: صیہونی قابض فوج نے غزہ کی پٹی میں نسل کشی
مئی
پی ٹی آئی کے وزیر نے پی آئی اے پر پابندی کی دعوت دی تھی، عمران خان بھی ذمہ دار ہے۔ وزیر دفاع
?️ 16 جولائی 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ
جولائی
قابض فوج نےغزہ میں اپنے یرغمالیوں کو نشانہ بنایا
?️ 17 دسمبر 2023سچ خبریں:عبرانی میڈیا نے اپنی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ
دسمبر
شمالی وزیرستان: میران شاہ خودکش دھماکے میں فوجی جوان سمیت 2 افراد شہید
?️ 15 دسمبر 2022میرانشاہ: (سچ خبریں) شمالی وزیرستان کے ضلع میرانشاہ میں گزشتہ روز ہونے
دسمبر
امریکہ کی عراق سے انخلا کرکے عین الاسد کو اردن اور الحریر کو کویت منتقل کرنے کی خواہش
?️ 4 اگست 2021سچ خبریں:ایک لبنانی اخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ
اگست