?️
غزہ کا بحران، مغرب میں اظہار رائے کی آزادی کا امتحان
برطانوی روزنامہ گارڈین نے اپنی تازہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ غزہ کی جنگ اور فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے مظاہروں نے مغربی ممالک کے لیے آزادیِ اظہار کا ایک بڑا امتحان کھڑا کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان مظاہروں کے خلاف کی جانے والی گرفتاریوں اور پابندیوں نے یورپ اور امریکہ میں آزادیِ بیان کی حدود کو محدود کر دیا ہے۔
گارڈین کے مطابق، گزشتہ دو سالوں میں اسرائیل کے غزہ پر حملوں کے خلاف دنیا بھر میں بالخصوص یورپ اور امریکہ میں عوامی غصہ بڑھا ہے، جو یونیورسٹیوں اور عوامی مقامات پر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کی صورت میں ظاہر ہوا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کی باتوں کے باوجود مختلف یورپی دارالحکومتوں میں احتجاج جاری ہیں، جو اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف عالمی برہمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی تحقیقی کمیٹی نے اسرائیلی اقدامات کو نسل کُشی کے مترادف قرار دیا ہے۔
گارڈین کے مطابق، امریکہ میں pro-Palestine کارکنوں کو گرفتاریاں، قانونی کارروائیاں اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ان احتجاجات کو ’یہود دشمنی‘ کے الزامات کے تحت دبانے کی کوشش کی، جسے مبصرین آزادیِ اظہار پر حملہ قرار دیتے ہیں۔
ہزاروں طلبہ کو یونیورسٹی کیمپسوں میں احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا۔ بعض جامعات میں فنڈنگ روک دی گئی اور طلبہ کے ویزوں کی جانچ ان کے سیاسی نظریات کی بنیاد پر کی گئی۔
انگلینڈ میں پولیس نے فلسطینیوں کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں کے دوران تقریباً 1900 افراد کو حراست میں لیا، جن پر کالعدم گروہ سے تعلق کا الزام لگایا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ فولکر تُرک نے ان گرفتاریوں کو غیر ضروری اور غیر متناسب قرار دیا۔
برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے 7 اکتوبر کی سالگرہ پر ہونے والے مظاہروں کو “غیر برطانوی اقدار کے خلاف قرار دیتے ہوئے مزید پابندیوں کا عندیہ دیا۔
جرمنی میں، جہاں ہولوکاسٹ کی تاریخ ایک حساس پس منظر رکھتی ہے، احتجاجی مظاہرے حکومت کے اسرائیل نواز مؤقف سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس کی سخت کارروائیوں پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے تنقید کی ہے۔
فرانس میں حکومت نے فلسطین حامی تنظیموں پر پابندی لگائی ہے اور مظاہرے کئی شہروں میں محدود کر دیے ہیں۔ عفوِ بینالملل نے اس اقدام کو آزادیِ اظہار کے منافی قرار دیا۔
اٹلی میں ہزاروں افراد نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کے خلاف مظاہرے کیے۔ وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے احتجاجات کو “شرمناک مناظر” قرار دیا، تاہم عوامی دباؤ کے باعث بعد میں نرمی اختیار کی۔
ایرلینڈ میں فضا نسبتاً آزاد ہے، اور فلسطینی یکجہتی ریلیاں عام طور پر پُرامن انداز میں منعقد ہوتی ہیں، جبکہ اسپین میں حکومت نے مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے انہیں سراہا ہے۔
گارڈین نے نتیجہ اخذ کیا کہ غزہ بحران نے مغربی جمہوریتوں میں آزادیِ اظہار کے دعووں کو چیلنج کیا ہے، اور یہ ظاہر کیا ہے کہ سیاسی مفادات کے سامنے بنیادی انسانی حقوق کس قدر کمزور پڑ سکتے ہیں
Short Link
Copied


مشہور خبریں۔
مضبوط معیشت کے بغیر قوم اہداف حاصل نہیں کرسکتی:آرمی چیف
?️ 5 اکتوبر 2022واشنگٹن: (سچی خبریں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ مسلح
اکتوبر
دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو گیا
?️ 11 مئی 2024دیامر: (سچ خبریں) دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں تاخیر کا خدشہ
مئی
شمالی وزیرستان میں پاک فوج کا جوان شہید ہو گیا
?️ 5 اکتوبر 2021خیبر پختونخواہ(سچ خبریں) خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں مبینہ
اکتوبر
9 مئی جلاؤ گھیراؤ کیس: شاہ محمود، یاسمین راشد ودیگر پی ٹی آئی رہنماؤں پر فرد جرم عائد
?️ 10 مارچ 2025 لاہور: (سچ خبریں) لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 9 مئی
مارچ
امریکی، دہشت گرد اسرائیل کے صدی کے جرائم کی حامی
?️ 18 جون 2024سچ خبریں: انصار اللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے کہا کہ غزہ میں
جون
مصنوعی ذہانت کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والے سیم آلٹمین کو کمپنی نے کیوں برطرف کیا؟
?️ 20 نومبر 2023سچ خبریں: مصنوعی ذہانت کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے والے ’اوپن
نومبر
الیکشن کی تاریخ کا اعلان پورا آئین نہیں، کیا دیگر پہلو نظرانداز کردیں؟ انوار الحق کاکڑ
?️ 31 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ
اکتوبر
کیریئر کے زیادہ تر پروجیکٹ گھر کا چولہا جلانے کیلئے کیے، نبیل ظفر
?️ 7 مئی 2023کراچی: (سچ خبریں) نامور اداکار اور پروڈیوسر نبیل ظفر کہتے ہیں کہ
مئی