غزہ امن کمیٹی کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شرط؛ امن کی کوشش یا سیاسی تجارت؟

غزہ امن

?️

غزہ امن کمیٹی کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شرط؛ امن کی کوشش یا سیاسی تجارت؟

غزہ امن کمیٹی کے لیے ایک ارب ڈالر کی شرط نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا یہ واقعی امن کی کوشش ہے یا سیاست اور تجارت کا نیا طریقہ۔  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کی گئی نام نہاد غزہ امن کمیٹی عملی طور پر غزہ کے بحران کے حل کے بجائے عالمی سیاست کی پیچیدگیوں، بین الاقوامی اداروں کے اعتماد کے بحران اور بڑی طاقتوں کے باہمی مفادات کی عکاس بن کر سامنے آئی ہے۔
غزہ کا مسئلہ گزشتہ کئی برسوں سے دنیا کے سنگین ترین علاقائی تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔ جنگ بندی اور تعمیر نو کے لیے مختلف عالمی کوششیں کی گئیں مگر زیادہ تر اقدامات ناکام رہے اور شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے ماحول میں ٹرمپ کی قیادت میں غزہ امن کمیٹی کے قیام نے شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا اور اسے ایک یکطرفہ سیاسی منصوبہ قرار دیا جانے لگا۔
غزہ امن کمیٹی کو بظاہر ایک بین الاقوامی ادارہ کہا گیا ہے تاہم اس کی قیادت تاحیات ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہے جبکہ مارکو روبیو، جیرڈ کوشنر اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر جیسے متنازع سیاسی شخصیات اس کے انتظامی ڈھانچے میں شامل ہیں۔ خاص طور پر ٹونی بلیئر کی شمولیت عراق جنگ میں ان کے کردار کی وجہ سے عوامی تنقید کا باعث بنی ہے۔
کمیٹی میں فلسطینی نمائندگی کی عدم موجودگی ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ فلسطینیوں کو صرف ایک تکنیکی نوعیت کی کمیٹی تک محدود رکھا گیا ہے جسے اہم اسٹریٹجک اور سکیورٹی فیصلوں میں کوئی اختیار حاصل نہیں۔ مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شرط نے امن کو ایک تجارتی تصور کے طور پر پیش کرنے کے تاثر کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔
سرکاری طور پر کمیٹی کا مقصد غزہ کی تعمیر نو، جنگ بندی کے استحکام اور امن کے فروغ کو قرار دیا گیا ہے تاہم بااثر ارکان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے اہداف اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ خود یہ اشارہ دے چکے ہیں کہ کمیٹی کا کردار صرف غزہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دیگر عالمی تنازعات تک بھی پھیل سکتا ہے۔
حماس کو غیر مسلح کرنے، سکیورٹی نگرانی اور غزہ کے عارضی انتظام جیسے حساس امور کو اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر ایک نجی نوعیت کے ادارے کے سپرد کرنا بین الاقوامی قوانین اور کثیرالجہتی نظام کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
فلسطینی تنظیموں اور ماہرین نے ابتدا ہی سے اس کمیٹی کو مسترد کیا ہے۔ اسلامی جہاد نے اسے اسرائیلی مفادات کے مطابق قرار دیا جبکہ غزہ کی وزارت صحت کے سربراہ ڈاکٹر منیر البرش نے کہا کہ وہ آپس میں امن تقسیم کر رہے ہیں اور فلسطینیوں کے حصے میں خیمے آ رہے ہیں۔ فلسطینی تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ کمیٹی بتدریج مسئلہ فلسطین کو عالمی ایجنڈے سے ہٹانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اسرائیل کے اندر بھی اس کمیٹی پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ کمیٹی کی تشکیل اسرائیل سے مشاورت کے بغیر کی گئی۔ دائیں بازو کے وزرا نے براہ راست جنگ یا فلسطینیوں کی ہجرت کی بات کی جبکہ ترکی اور قطر جیسے ممالک کی شمولیت پر بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔
عالمی سطح پر بھی آرا منقسم ہیں۔ بعض عرب ممالک اور امریکی اتحادیوں نے محتاط حمایت کا اظہار کیا جبکہ فرانس سویڈن اور ناروے جیسے یورپی ممالک نے اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کرنے کے خدشے کے باعث اس کمیٹی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ ایک ارب ڈالر کی بھاری فیس نے کئی ممالک کو مزید ہچکچاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق غزہ امن کمیٹی ایک عملی امن منصوبہ بننے کے بجائے عالمی سیاست کے تضادات طاقت کی سیاست اور بین الاقوامی اداروں کے اعتماد کے بحران کی علامت بنتی جا رہی ہے۔ فلسطینی نمائندگی کی کمی طاقت کے ارتکاز اور یکطرفہ فیصلوں نے اس منصوبے کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ اقدام غزہ میں پائیدار امن کے بجائے علاقائی بے اعتمادی اور عالمی سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کرے گا۔

مشہور خبریں۔

الیکشن کمیشن نے 8 فروری کے انتخابات کے نتائج کے اعلان کا وقت بتا دیا

?️ 21 جنوری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں ہونے والے 8

اپوزیشن ملک میں صرف انتشار پھیلانا چاہتی ہے

?️ 23 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے

یمن کے عوام کی جانب سے مزاحمتی محورکی حمایت جاری

?️ 18 اپریل 2026 سچ خبریں:صنعاء اور یمن کے دیگر صوبوں میں آج بروز جمعہ

تکفیری جرائم کے جہنم سے شام کے ساحل سے بھاگنے والوں کی لہر

?️ 12 مارچ 2025 سچ خبریں: لبنان کے الدیار اخبار کی رپورٹ کے مطابق حالیہ

تہران میں پاکستان کے سفیر کی 12 روزہ جنگ کے دنوں کی ان کہی باتیں

?️ 30 دسمبر 2025 سچ خبریں: تہران میں پاکستانی سفیر نے مسلط کردہ 12 روزہ

 ایران کی قیادت نے امریکہ کی اسرائیل کی حمایت ختم کرنے پر زور دیا:عربی میڈیا

?️ 4 نومبر 2025 ایران کی قیادت نے امریکہ کی اسرائیل کی حمایت ختم کرنے پر

یمن میں واشنگٹن،ریاض اور تل ابیب کے لیے بدترین صورتحال

?️ 10 نومبر 2021سچ خبریں : ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ تر مغربی اور

صدر مملکت نے 11واں قومی مالیاتی کمیشن تشکیل دے دیا

?️ 23 اگست 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11ویں قومی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے