?️
سچ خبریں: ایک معروف فرانسیسی میگزین نے لکھا کہ اسرائیل کے خلاف حماس کی کارروائیوں کے آغاز اور نیتن یاہو کی جنگی پالیسی کو اپنانے سے، ریاض-تل ابیب کو معمول پر لانے کا خواب پورا ہو گیا ہے اور سعودی عرب اپنی روایتی علاقائی پوزیشن پر واپس آ گیا ہے۔
شفقنا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے خلاف غزہ سےفلسطینی مزاحمت کاروں کے شاندار آپریشن کے بعد ریاض اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کی بحالی کی واشنگٹن کی کوششیں ایک بار پھر ناکام ہو گئی ہیں اور تل ابیب کے خلاف حماس کے اچانک حملے سے سب کی نگائیں فلسطینی کی آزادی پر ٹکی ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی تک طوفان الاقصیٰ کے جھٹکے
اسی سلسلے میں پیر کے روز فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد ریاض کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے صیہونی حکمرانوں کے خواب مٹی میں مل جانے پر گفتگو کرتے ہوئے ایک ماہ قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں صہیونی وزیر اعظم کی تقریر کی طرف اشارہ کیا جس میں انہوں نے عرب ممالک کے ساتھ مفاہمت کے ایک نئے باب کے احساس کی نشاندہی کی۔
یاد رہے کہ اس ہفتے کے روز صیہونی حکومت کے خلاف تحریک حماس اور اس کے فلسطینی اتحادیوں کی اچانک کاروائی کے بعد نیتن یاہو نے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے اپنے سابقہ نظریے سے اچانک منھ موڑ لیا اور اپنی سیاسی گفتگو کو جنگی ادب میں بدل دیا اور غزہ کی پٹی میں فلسطینی افواج کے ساتھ جنگی حالات کا نام دیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ تین دنوں میں صیہونی حکومت کے وحشیانہ جرائم سے، واشنگٹن اور تل ابیب اچانک سارا کھیل بگڑ گیا، اس حوالے سے واشنگٹن میں مڈل ایسٹ اسٹڈیز تھنک ٹینک کے نائب سربراہ "برائن کیٹولس نے کہا کہ فلسطین کی موجودہ صورتحال نے تل ابیب اور ریاض کے درمیان تعلقات قائم کرنا بہت مشکل بنا دیا ہے۔
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی گروہوں اور اسرائیل کے درمیان تنازعات کے آغاز کے بعد، سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے صیہونی حکومت کے حملوں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اشتعال انگیز اقدامات کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔
مزید پڑھیں: طوفان الاقصی آپریشن کیوں شروع ہوا؟
اس سلسلے میں سعودی محقق عزیز الغیشیان نے ریاض اور تل ابیب کے تعلقات کے امکانات کے بارے میں اپنے جائزے میں کہا کہ مسجد الاقصی کے خلاف اسرائیل کے منصوبہ بند اشتعال انگیز اقدامات کے بارے میں ریاض کے حالیہ مؤقف سے ثابت ہوا کہ سعودی حکام کو فلسطینیوں کے حقوق کا بھی خیال ہے،
انہوں نے لکھا کہ یہ معلوم ہوچکا ہے کہ سعودیوں کے نزدیک تل ابیب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے بدلہ میں پہلی ترجیح فلسطینیوں کے حقوق کی پاسداری ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکن کونسل آن فارن ریلیشنز کے محقق اسٹیفن کک کے مطابق پولز کے مطابق صرف 2 فیصد سعودی اسرائیل کے ساتھ معمول پر لانے کے حق میں ہیں۔


مشہور خبریں۔
عراقی ایوان صدر کے دفتر نے حزب اللہ اور انصار اللہ کو دہشت گرد قرار دینے کی تردید کی ہے
?️ 5 دسمبر 2025سچ خبریں: جمہوریہ عراق کی صدارت نے انصار اللہ اور حزب اللہ
دسمبر
عمران خان کو برطانیہ میں موجود بچوں سے فون پر گفتگو کی اجازت دینے سے انکار
?️ 16 ستمبر 2023اٹک: (سچ خبریں) محکمہ جیل خانہ جات پنجاب نے سائفر کیس میں
ستمبر
بچوں کی سمگلنگ کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ مریم نواز شریف
?️ 30 جولائی 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ
جولائی
ایلون مسک نے بائیڈن کے ٹویٹس کا مذاق اڑایا
?️ 19 جون 2023سچ خبریں:ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کا خیال ہے کہ اس ملک
جون
ترک فٹبال ڈسپلنری کمیٹی نے اسرائیلی کھلاڑیوں کے ساتھ کیا کیا؟
?️ 26 جنوری 2024سچ خبریں: ترک فٹبال ڈسپلنری کمیٹی نے2 اسرائیلی ترک فٹ بال کھلاڑیوں
جنوری
رمضان ٹرانسمیشن کی میزبانی کرنے کے بعد نجی زندگی میں بہتری آئی ہے، احسن خان
?️ 23 نومبر 2023کراچی: (سچ خبریں) اداکار احسن خان کا کہنا ہے کہ رمضان ٹرانسمیشن
نومبر
وزیر اعلیٰ کی حلف برداری کے معاملے پر لاہور ہائیکورٹ نے ایڈوکیٹ جنرل سے معاونت طلب کرلی
?️ 21 اپریل 2022لاہور(سچ خبریں)لاہور ہائی کورٹ نے نو منتخب وزیر اعلیٰ کی حلف برداری
اپریل
یورپ میں غزہ کے حق میں وسیع پیمانے پر مظاہرے، اسرائیل خلاف عوام کا احتجاج
?️ 12 اکتوبر 2025یورپ میں غزہ کے حق میں وسیع پیمانے پر مظاہرے، اسرائیل خلاف
اکتوبر